عورت کا مقام اور معاشرے کی بےحسی

عورت اللہ کی بنائی ہوئی وہ ہستی ہے جسے اسلام نے عزت، محبت اور مقام دیا۔ وہ ماں بنے تو اس کے قدموں تلے جنت, بیٹی بنے تو رحمت ,بہن ہے تو محبت اور بیوی ہے تو شوہر کے لیے سکون ہے۔ قرآن کہتا ہے

ومن اياته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا اليها وجعل بينكم مودة ورحمة
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی”
اسی لیے بیوی کو عزت دینا، اس کے ساتھ نرمی کرنا اور اس کے حقوق ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ بیوی گھر کی خادمہ نہیں بلکہ شریک حیات ہے اس کے جذبات عزت اور حقوق کی حفاظت شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اور جب عورت بیٹی ہو تو باپ کے لیے وہ بوجھ نہیں اللہ کی امانت ہے۔ اسے محبت تحفظ اور اعتماد دینا باپ کا فرض ہے۔ بیٹی کو ڈانٹ کر خاموش کرانا نہیں بلکہ اسے عزت کے ساتھ جینا سکھانا چاہیے۔

مگر آج سوال یہ ہے کہ جس عورت کو اسلام نے عزت دی اسے ہمارا معاشرہ کتنی عزت دے رہا ہے؟ کبھی اس کے کردار پر الزام لگایا جاتا ہے، کبھی اسے گھریلو ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی اس کی آواز کو ہی اس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ظلم صرف بڑی عورتوں تک نہیں رکا معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں رہے۔

2026 میں کراچی کی ایک کم سن بچی ایزل جس کی عمر صرف ڈیڑھ سال تھی کے ساتھ انتہائی سنگین زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک قریبی رشتہ دار منان اسے باہر لے گیا بعد میں بچی تشویشناک حالت میں واپس آئی اور علاج کے دوران انتقال کر گئی ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
اسی سال ہری پور کی معصوم آیت نور جس کی عمر تقریبا ساڑھے چار سال تھی لاپتہ ہوئی اور کئی دن کی تلاش کے بعد اس کی لاش ایک کنویں سے برآمد ہوئی پولیس کے مطابق اسے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ وہ بچیاں ہیں جنہیں ان کے والدین نے محبت سے پالا دعاؤں سے بڑا کیا اپنے مستقبل کی امید سمجھا مگر معاشرے کے کچھ ظالم کرداروں نے ان کے معصوم بچپن کو تکلیف میں بدل دیا۔
اس ظلم کا حل کیا ہے؟ حل صرف افسوس کرنا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانا ہے۔ والدین کو بچوں کی بات سننی ہوگی انہیں اچھے اور برے لمس کے بارے میں عمر کے مطابق سمجھانا ہوگا اور کسی بھی مشتبہ رویے کو نظرانداز نہیں کرنا ہوگا۔ معاشرے کو بھی متاثرہ بچی یا عورت کو الزام دینے کے بجائے اس کا ساتھ دینا ہوگا۔
“عورت ہو یا بچی عزت صرف کہنے کی چیز نہیں اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top