الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذان اور ہے، مجاہد کی اذان اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
کل ہی ماموں جان کا درد میں ڈوبا پیغام ملا۔
کہ مسجد تو کب کی بن چکی۔۔۔ مگر نمازی نہیں آتے۔
کھانے پینے کا اچھا اہتمام کرتا ہوں۔۔۔ جب تک اہتمام رہتا ہے، نمازیوں کی تعداد بہتر ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی اہتمام میں کمی آتی ہے، نمازی غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔
کیا کروں؟ سمجھ نہیں آتی!
جب سے ماموں جان کو نماز کی محبت کا عروج نصیب ہوا ہے، انہیں ہر آن یہ تڑپ لگی رہتی ہے کہ سب نمازی بن جائیں۔ ان کا یہ جذبہ، تڑپ اور لگن اللہ کے نزدیک یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن ہر کام کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ نتیجہ خیز بنتا ہے۔
کھانا کھلانے یا سہولیات دینے کی ترغیب چند دن ہی کارگر ہوتی ہے۔ کئی مساجد اور ادارے ایسے دیکھنے میں آئے ہیں کہ جہاں ہر سہولت موجود ہے—بجلی، پانی، کارپٹ، ہیٹر، اے سی وغیرہ—مگر نہیں ہیں تو خاطر خواہ نمازی یا طالبعلم
مسجد تو بنا دی پل بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
کسی بھی کام کے پیچھے خلوصِ نیت بڑی چیز ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس کام کی درست تنظیم ضروری ہے۔ اس معاملے میں ماموں جان کے خلوص پر کوئی شک نہیں، مگر تدبیر کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
مسجد ہو یا مدرسہ، اسکول ہو یا کالج و یونیورسٹی، بینک ہو یا عدالت—اچھے منتظم کے بغیر بہترین نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔ جس طرح گھر کا اعلیٰ نظم و نسق سلیقہ شعار خاتون کے بغیر ممکن نہیں، چاہے گھر کتنا ہی خوبصورت اور پرتعیش کیوں نہ ہو، اسی طرح ایک باغ بھی باغبان کے بغیر ویران ہو جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح مسجد، جو اللہ کا گھر ہے، اس کا بہترین نظام بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، متقی اور امت کا درد رکھنے والے عالم ہی چلا سکتا ہے۔
مسجد اور مدرسہ کے حوالے سے عام لوگوں میں شعور کی کمی ہے۔ یہ دونوں ادارے کسی بھی کمیونٹی کی جان ہوتے ہیں، ان کی حیثیت جسم میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔ جب تک ان کی اہمیت کا احساس غالب رہا، ان کے منتظمین کی تنخواہیں، مراعات اور سہولیات بھی بہتر رہیں، اور امت نے ترقی کی منازل طے کیں۔
ان اداروں کی تنزلی میں کچھ حصہ خود علماء (منتظمین) کا بھی ہے، جنہوں نے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی فکری وسعت کے بجائے اپنے علم کو محدود مفادات تک محدود کر لیا۔ گاؤں تو گاؤں، شہروں میں بھی امام یا مولوی کا کردار معاشرے کی تعمیر میں وہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا۔
جب امام کی سوچ صرف نماز پڑھانے اور قرآنِ ناظرہ سکھانے کے بدلے چند ٹکوں تک محدود ہو جائے، تو پھر سوچئے کہ کیسے نمازی اور کیسے قرآن پڑھنے والے پیدا ہوں گے؟
جس طرح مسجد بنانے والے امام کو مناسب تنخواہ دینے سے کتراتے ہیں، اسی طرح بعض علماء بھی دین کا حقیقی شعور دینے میں سستی کا شکار ہیں۔
ہمارے معاشرے کے اس اہم طبقے کی تنخواہیں اور مراعات کم از کم اتنی ہونی چاہئیں کہ انہیں اپنے گھر کا نظام چلانے کے لیے ختم، نکاح یا جنازے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے گھنٹوں چندے کے اعلانات نہ کرنے پڑیں، اور نہ ہی نماز کے بعد نمازیوں کے سامنے رومال یا ٹوپی پھیلانی پڑے
اگر ہم چاہتے ہیں کہ منبر و محراب آباد ہوں، تو ہمیں ایسے علماء کرام کی ضرورت ہے جو قرآن و حدیث کی روشنی میں نماز کی اہمیت کو مؤثر انداز میں بیان کریں۔ جب تک نماز کے فضائل صحیح انداز میں بیان نہیں کیے جائیں گے، لوگ نماز کی طرف کیسے آئیں گے؟
اچھے امام اور معلم کی تقرری بھی میرٹ پر ہونی چاہیے۔ ہر شخص کو اس منصب کے لیے پرکھا جائے، تاکہ صرف اہل لوگ ہی اس ذمہ داری پر فائز ہوں۔
مسجد کا نظم و نسق دراصل نبوی پیشہ ہے۔ جب تک ان اصولوں پر عمل نہیں کیا جائے گا، نمازیوں کی کمی کا یہی حال رہے گا۔
پھر چاہے چاولوں کی دیگیں ہوں یا مرغ مسلم۔
لوگ کھا پی کر اٹھ جائیں گے۔
اور صفیں راہ تکتی رہیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















