ادھورا ساتھ

کچھ رشتے زندگی میں صرف ساتھ چلنے کے لیے نہیں آتے، وہ ہماری زندگی کا ایسا حصہ بن جاتے ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی ادھورا لگتا ہے۔ لائبہ کی زندگی میں بھی ایک ایسا ہی رشتہ تھا، جسے وہ اپنی بہن ملائکہ کی صورت میں جانتی تھی۔
ملائکہ… جسے دنیا بنتِ عائش کے نام سے جانتی تھی۔
وہ ایک نہایت پیاری، نیک اور باحیا لڑکی تھی۔ پردہ اس کی شخصیت کا خوبصورت حصہ تھا اور اس کی گفتگو میں ایسی مٹھاس تھی کہ جو ایک بار اس کی باتیں سن لیتا، دل چاہتا کہ وہ بس بولتی رہے اور انسان سنتا رہے۔ اس کے الفاظ میں ایک عجیب سی کشش تھی؛ عام سی بات بھی اس کے انداز میں آ کر دل پر اثر کر جاتی تھی۔
اور پھر اس کی تحریر…
وہ لکھتی تھی تو یوں لگتا تھا جیسے الفاظ کاغذ پر نہیں، سیدھے دل پر اتر رہے ہوں۔ اس کے لکھنے کا انداز ایسا تھا کہ پڑھنے والا صرف تحریر نہیں پڑھتا تھا بلکہ اسے محسوس کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے الفاظ اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔
لائبہ کے لیے ملائکہ صرف ایک بہن نہیں تھی۔ وہ اس کے بچپن کی ساتھی، اس کی ہنسی کا سبب اور اس کی بہت سی خوبصورت یادوں کا حصہ تھی۔ بچپن میں دونوں ساتھ کھیلتی تھیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتی تھیں اور پھر اگلے ہی لمحے صلح کرکے دوبارہ کھیلنے لگتی تھیں۔ وہ لڑائیاں بھی کتنی معصوم تھیں، جن میں ناراضی چند لمحوں کی ہوتی اور محبت ہمیشہ کی۔
کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن یہی ساتھ اچانک ختم ہو جائے گا۔
جن کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کا سوچا ہو، انہیں اچانک کفن میں دیکھنا… یہ ایسا لمحہ تھا جس نے لائبہ کو اندر تک توڑ دیا۔ کچھ جدائیاں انسان کو رونے کا موقع بھی نہیں دیتیں، بس خاموش کر دیتی ہیں۔
ملائکہ کے جانے کے بعد لوگوں کو اس کے اصل نام کا بھی معلوم ہوا۔ جو لوگ اسے بنتِ عائش کے نام سے جانتے تھے، انہیں تب پتا چلا کہ اس خوبصورت نام کے پیچھے ایک حقیقی نام، ایک حقیقی چہرہ اور ایک ایسی بہن تھی جس کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
لیکن شاید محبت کا یہی کمال ہے کہ انسان دنیا سے چلا بھی جائے تو بھی اس کا کام باقی رہ جاتا ہے۔
ملائکہ کا گروپ آج بھی قائم ہے، اور اب اسے اس کی بہن لاہبہ بنتِ عائش کے نام سے آگے بڑھا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملائکہ کی آواز مکمل طور پر خاموش نہیں ہوئی؛ اس کے الفاظ، اس کی یادیں اور اس کا مقصد اب بھی کسی نہ کسی صورت میں زندہ ہیں۔
اور لائبہ کی زندگی میں صرف ملائکہ ہی ایک مضبوط کردار نہیں تھی۔ عظمیٰ باجی بھی اس کی زندگی کا ایک ایسا روشن باب ہیں جن سے لائبہ نے صرف محبت نہیں، حوصلہ بھی سیکھا۔
عظمیٰ باجی کو اس نے تکلیف میں بھی کام کرتے دیکھا۔ زندگی نے انہیں بھی آسان راستے نہیں دیے، مگر انہوں نے مشکلات کو اپنی ذمہ داریوں کے راستے میں دیوار نہیں بننے دیا۔ وہ تکلیف کے باوجود اپنے کام کرتی رہیں، اور شاید لائبہ نے انہیں دیکھ کر یہی سیکھا کہ انسان کے حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ہمت نہیں چھوڑنی چاہیے۔
عظمیٰ باجی کا کردار لائبہ کے لیے کسی خاموش سبق سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے شاید کبھی باقاعدہ نصیحت نہ کی ہو، مگر ان کا عمل ہی ایک مکمل نصیحت تھا۔
لائبہ نے انہیں دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ اگر وہ تکلیف کے باوجود کام کر سکتی ہیں تو میں بھی اپنی تکلیف کے ساتھ چل سکتی ہوں۔
اور وہ چلتی رہی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ لائبہ چیزوں کو صرف یاد نہیں رکھتی، بلکہ وقت، تاریخ اور سال کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔ اس کے لیے ہر تاریخ کے پیچھے ایک واقعہ، ہر سال کے پیچھے ایک یاد اور ہر یاد کے پیچھے کوئی نہ کوئی اپنا چھپا ہوا ہے۔
وہ وقت کو بھولتی نہیں، شاید اس لیے کہ وقت نے اسے بہت کچھ سکھایا ہے۔
ملائکہ نے اسے محبت کی قدر سکھائی، جدائی نے اسے صبر سکھایا اور عظمیٰ باجی نے اسے تکلیف کے باوجود مضبوط رہنا سکھایا۔
زندگی نے لائبہ سے بہت کچھ لیا، مگر بدلے میں اسے ایک ایسی شخصیت بھی بنایا جو درد کو محسوس کرتے ہوئے بھی آگے بڑھنا جانتی ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ہماری شخصیت میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔
ملائکہ بھی چلی گئی، مگر اس کی تحریروں میں، اس کی باتوں میں، بچپن کی ان معصوم لڑائیوں میں اور لائبہ کی یادوں میں آج بھی کہیں زندہ ہے۔
اور شاید یہی سب سے خوبصورت بات ہے—
کچھ ساتھ زندگی بھر نہیں چلتے،
مگر ان کی یاد انسان کے ساتھ پوری زندگی چلتی رہتی ہے۔
یہی لائبہ کا قصہ ہے۔
ایک ایسا قصہ جس میں ایک بہن بچھڑ گئی، مگر اس کی محبت نہیں بچھڑی؛
ایک بہن نے اس کا کام سنبھال لیا، مگر اس کی آواز نہیں کھوئی؛
اور ایک باجی نے اپنے عمل سے یہ سکھا دیا کہ تکلیف زندگی کا اختتام نہیں، کبھی کبھی مضبوط بننے کی ابتدا بھی ہوتی ہے۔
یہی ہے لائبہ کا “ادھورا ساتھ”—
جو ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top