تعلق باللہ کا سفر 

حماد ایک رئیس خاندان کا لاڈلا،مگر لاپرواہ اور آوارہ مزاج نوجوان تھا۔والد کی دولت اور ماں کے بے جا لاڈ نے اس کی شخصیت میں بگاڑ پیدا کر دیا تھا۔نہ کسی سے بات کرنے کا سلیقہ،نہ گھر کی ذمہ داریوں کا احساس۔نہ نماز کا اہتمام،نہ قرآن سے کوئی تعلق۔صبح دیر سے اٹھنا اور پھر واویلا کرنا کہ”مجھے پریشانیاں گھیرے ہوئے ہیں،”اس کا معمول بن چکا تھا۔

وقت گزرتا گیا اور حماد کی حالت بگڑتی گئی۔لوگوں کی زبان پر اس کے لیے مایوسی کے کلمات آگئے ۔تنہائی میں بیٹھ کر گھنٹوں رونا،اس کی زندگی کا معمول بن گیا۔ظاہری خوش مزاجی کے پیچھے ایک بکھرا ہوا وجود چھپا تھا۔ ایسے میں اس کی بہن فاطمہ کو اپنے بھائی کی حالت پر سخت تشویش ہوئی۔

فاطمہ بھائی کو سمجھاتی ،اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتی،بھائی کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھتی، اور رفتہ رفتہ اپنے بھائی کو راہ مستقیم پر لانے کی کوشش کرتی۔فاطمہ نے بھائی کو نماز کی پابندی کا مشورہ دیا اور یاد دلایا:  (البقرہ)”نماز قائم کرو،زکوۃ ادا کرو،اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

اس نے سورۃ الرحمن کی تلاوت کا معمول بنانے کی تلقین کی،کیونکہ نہ صرف یہ سورت دنیا کی پریشانیوں کو دور کرتی ہے بلکہ آخرت میں بھی نور کا ذریعہ بنتی ہے۔

فاطمہ نے اسے ایک حدیث یاد دلائی: ” روزانہ سورہ رحمن کی تلاوت کرنے والے کا چہرہ روز قیامت چودھویں کے چاند کی طرح چمکے گا،” (مشکوٰۃ شریف)۔ساتھ ہی اس نے تاکید کی کہ چلتے پھرتے اللہ کا ذکر کیا کرے،کیونکہ: یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے”۔

فاطمہ نے یہ بھی نصیحت کی کہ سونے سے پہلے سورۃ الملک کی تلاوت کیا کرے،کیونکہ یہ سورت روز قیامت شفاعت کرے گی۔ ان پر عمل کرتے ہوئے،وقت کے ساتھ ساتھ حماد کا دل بدلنے لگا۔اب وہ نماز اور قرآن سے ایسا وابستہ ہو چکا تھا کہ ان کے بغیر چین نہیں آتا تھا۔وہ اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتا ،لوگوں کو دین سکھاتا،اپنی ذمہ داریاں وقت پر ادا کرتا ،اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو خوشی سے انجام دیتا تھا۔اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ اللہ تعالی نے اسے”امت وسط”کا نمائندہ چن لیا ہے۔

اب لوگوں کا رویہ بھی اس سے بدل چکا تھا۔جو کبھی مایوس تھے،وہ اب شفقت سے پیش آتے ۔حماد محسوس کرتا ہے کہ خوشیاں اور سکون اس کی زندگی میں لوٹ آئے ہیں۔اس کی اس روحانی تبدیل پر بہن فاطمہ بے حد مسرور تھی۔بھائی نے اسے گلے لگایا، دعائیں دیں اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے اسے سنبھلنے کا موقع دیا۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top