غزہ سے اپنے گھروں تک

ہم روز کوئی نہ کوئی خبر سنتے ہیں۔ کہیں ایک معصوم بچی درندگی کا شکار ہو جاتی ہے، کہیں کسی بچے کی زندگی چھین لی جاتی ہے، کہیں ایک گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے، کہیں کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ قتل، زیادتی، تشدد اور بے حسی کی خبریں اب ہمارے معاشرے کے لیے اجنبی نہیں رہیں۔
ہم خبر پڑھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت نہیں؟
غزہ میں برسوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک خطے کا المیہ نہیں۔ وہاں ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھویا، بچوں نے اپنے گھر، اپنے والدین اور اپنا بچپن کھو دیا۔ بمباری، بھوک، خوف اور موت کے سائے میں اہلِ غزہ نے ایسی آزمائشیں برداشت کیں جن کا تصور بھی ہمارے لیے دشوار ہے۔
اور ہم؟
ہم اہلِ غزہ کے لیے افسوس کرتے ہیں، ان کی تصویریں دیکھ کر دل گرفتہ ہوتے ہیں، چند لمحوں کے لیے غصے میں آتے ہیں، مگر پھر ہماری زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ نہ ہم اپنی ترجیحات بدلتے ہیں، نہ بائیکاٹ کی زحمت کرتے ہیں، نہ مسلسل آواز اٹھاتے ہیں، نہ اپنے آرام اور مفادات کو ان کے درد کے سامنے قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
کیا ہماری ہمدردی صرف الفاظ تک محدود ہے؟
اور پھر اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ایک اور طرح کی تباہی نظر آتی ہے۔
نرسریوں کے معصوم بچے جل رہے ہیں۔ گھروں کے اندر خواتین قتل ہو رہی ہیں۔ بچیاں زیادتی کا شکار ہونے کے بعد قتل کی جا رہی ہیں۔ بچے اپنے گھروں سے غائب ہو رہے ہیں۔ روز کسی ماں کی گود اجڑ رہی ہے، کسی باپ کا سہارا چھن رہا ہے اور کسی گھر کا سکون ہمیشہ کے لیے ختم ہو رہا ہے۔
یہ واقعات محض خبریں نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر پڑنے والے وہ زخم ہیں جنہیں ہم کب تک نظر انداز کرتے رہیں گے؟
ہم غزہ کے بچوں کو دیکھ کر کہتے ہیں:
یا اللہ! ان پر رحم فرما۔
مگر کیا کبھی ہم نے اپنے شہر، اپنے محلے اور اپنے گھروں کے ان بچوں کے لیے بھی اسی شدت سے آواز اٹھائی ہے جو ظلم کا شکار ہو رہے ہیں؟
اگر غزہ کا بچہ ہمیں اپنا بچہ محسوس ہوتا ہے تو ہمارے معاشرے کا مظلوم بچہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
اگر غزہ کی کسی ماں کی فریاد ہمارا دل چیر دیتی ہے تو اپنے معاشرے کی کسی مظلوم ماں کی چیخ بھی ہمیں بے چین کرنی چاہیے۔یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ فلاں بچی کا قتل، فلاں بچے کا جل جانا یا فلاں عورت کا مارا جانا صرف اس لیے ہوا کہ ہم نے اہلِ غزہ کے لیے بائیکاٹ نہیں کیا یا آواز نہیں اٹھائی۔ اللہ کے فیصلوں اور ان کی حکمتوں کا مکمل علم صرف اسی کو ہے۔
لیکن کیا یہ واقعات ہمارے لیے تنبیہ، آزمائش اور لمحۂ فکریہ نہیں ہو سکتے؟
کیا یہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوال نہیں کرتے کہ:
تم دوسروں کے ظلم پر خاموش کیوں ہو؟
تم اپنے معاشرے میں ہونے والے ظلم پر کب جاگو گے؟
تمہارے دل کب زندہ ہوں گے؟
آزمائش صرف اس شخص کی نہیں ہوتی جو مصیبت میں مبتلا ہے۔ کبھی آزمائش ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو ظلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
کیا ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا صرف تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں؟
اہلِ غزہ نے ہمیں صبر، استقامت اور قربانی کا سبق دیا ہے۔ شاید ان کا درد ہمارے لیے ایک آئینہ بھی ہے؛ ایسا آئینہ جس میں ہمیں صرف غزہ کی تباہی نہیں بلکہ اپنے معاشرے کی اخلاقی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔
ہم غزہ کے لیے آواز اٹھائیں، ان کے حق میں دعا کریں، ظلم کے خلاف اپنے دائرۂ اختیار میں پرامن اور مؤثر طریقے سے کھڑے ہوں، اپنی خریداری اور ترجیحات پر بھی غور کریں—لیکن ساتھ ہی اپنے گھروں اور معاشرے کو بھی محفوظ بنانے کی ذمہ داری قبول کریں۔
اپنے بچوں کو حیا، احترام اور ذمہ داری سکھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں اچھے اور برے لمس کا شعور دینے کی ضرورت ہے۔ ظلم دیکھ کر خاموش نہ رہنے کی ضرورت ہے۔ مجرم کو بچانے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
شاید غزہ ہمیں صرف یہ نہیں سکھا رہا کہ ظلم کتنا بھیانک ہوتا ہے؛ شاید وہ ہمیں یہ بھی سکھا رہا ہے کہ جب ظلم کے خلاف حساسیت مر جائے تو معاشرے اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔
اس لیے آج ضرورت صرف افسوس کرنے کی نہیں، اپنے آپ کو بدلنے کی ہے۔
شاید یہ وقت صرف غزہ کے لیے آنسو بہانے کا نہیں، بلکہ اپنے اعمال، اپنے گھروں، اپنے معاشرے اور اپنی خاموشیوں کا محاسبہ کرنے کا بھی ہے۔
شاید یہ واقعی لمحۂ فکریہ ہے۔
شاید یہ عبرت کا مقام ہے۔
اور شاید اللہ تعالیٰ ہمیں پکار رہے ہیں کہ ابھی وقت ہے—
پلٹ آؤ، اپنے رب کی طرف بھی… اور اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ:   “اور تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور اللہ بہت سی باتوں سے درگزر بھی فرما دیتا ہے۔”(سورۃ الشوریٰ: 30)
یہ آیت ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔
غزہ ہمارے لیے صرف ہمدردی کا موضوع نہ بنے؛ بیداری کا پیغام بنے۔
اور ہمارے اپنے معاشرے کے یہ واقعات صرف چند دن کی خبریں نہ رہیں؛ بلکہ ہمیں جگانے والی وارننگ بن جائیں۔
اے اللہ! اہلِ غزہ کی حفاظت فرما، ان کے شہداء کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے زخمیوں کو شفا دے، ان کے بچوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، مظلوم کا ساتھ دینے اور اپنے معاشرے کو ظلم، بے حیائی اور بے حسی سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top