پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ معیشت بدترین دباؤ کا شکار ہے،دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری ہے، مہنگائی نے عام شہری کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بازاروں میں ویرانی اور کاروبار میں جمود کا عالم ہے۔ روزگار ختم ہوچکا ہے، متوسط طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جاچکا ہے اور نچلا طبقہ زندہ رہنے کی جنگ لڑرہا ہے۔ 2025 پاکستان سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی مکمل ختم نہیں ہوئیں، لاکھوں لوگ آج بھی بحالی کے منتظر ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی و مذہبی قیادتوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عوام آج جس بے بسی، بھوک اور افلاس کا سامنا کررہے ہیں، اس کے باوجود کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کے پاس ایسی قابل اعتماد،اہل اورمخلص قیادت یا پروگرام نظر نہیں آتا جو ان کے دکھوں کا مداوا کرسکے۔ عوام کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں، کوئی ایسا رہنما جو محض نعرے نہیںبلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کے حالات بدلنے کا عزم رکھتا ہو۔ افسوس کہ سیاسی میدان میں سب اپنے اپنے مفادات کی کشمکش میں الجھے نظر آتے ہیں۔ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے سب سے پہلے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ احتجاج، دھرنوں اور کشیدگی کی سیاست نے پچھلی دہائیوں میں ملک کو ترقی کے بجائے انتشار دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ مذہبی اور سیاسی جماعتیں اپنے رویے میں سنجیدگی اور پختگی لائیں۔ احتجاج اپنی جگہ اہم حق ہے پر اس کے ساتھ عوامی ریلیف کے ایجنڈے کو اولین ترجیح دینا ہی دراصل کسی قیادت کی اصل کامیابی ہے۔
پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کا راستہ کسی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت کے بس کی بات نہیں۔ یہ اجتماعی عزم، تعاون اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ بلدیاتی انتخابات جیسے پلیٹ فارم عوام کو براہِ راست فیصلہ سازی کا حصہ بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں، ٹی ایل پی سمیت دیگر جماعتیں احتجاج کی بجائے اسی پلیٹ فارم کو اپنی سیاسی طاقت بنانے کا ذریعہ بنائیں تو نہ صرف جمہوری نظام مضبوط ہوگا بلکہ عوام کو بھی حقیقی معنوں میں ریلیف میسر آسکے گا۔
ایسے وقت میں جب پاکستان مالی مشکلات، دہشت گردی، مہنگائی اور سیاسی کشمکش جیسے سنگین مسائل کاشکار ہے، قومی قیادت کا ہر قدم ناپ تول کر اٹھانا نہ صرف سیاسی شعور بلکہ قومی ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔ حافظ سعید حسین رضوی نہ صرف خادم حسین رضوی کے گدی نشین ہیں بلکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ایک سیاسی جماعت ہے کی قیادت بھی انہیں وراثت میں منتقل ہوچکی ہے۔ اب جب کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، تحریک نے ایسے احتجاج کاآغازکردیاہے جس میں حکومت پاکستان کے ساتھ کوئی مطالبہ شامل نہیں۔بین الاقوامی منظرنامے پر غزہ امن معاہدہ 2025 ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آچکا ہے، جسے طاقتور مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس بھی اس کا حصہ بن چکی ہے۔ دو سال کی طویل اور خونی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جنگ بندی کی کسی کوشش کو حقیقی کامیابی مل سکتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس امن معاہدے کو امید کی کرن سمجھ رہے ہیں اور اسی پس منظر میں ٹی ایل پی کا اسلام آباد کی طرف غزہ مارچ کا فیصلہ سامنے آتا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب تحریک کے مطابق مارچ کا مقصد صرف فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف نفرت کا اظہار ہے تو پھر لازمی طور پر اسلام آباد، خصوصاً امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کرنا ہی کیوں ضروری سمجھا گیا؟ تحریک صرف یکجہتی کا پیغام دینا چاہتی تھی تو بہتر حکمت عملی یہ ہوسکتی تھی کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں غزہ غزہ یکجہتی جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا۔ اس طرح نہ صرف فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مضبوط پیغام دنیا کے سامنے آتا بلکہ حالیہ امن معاہدے کے حوالے سے خدشات پر مدلل اور سیاسی انداز میں بات بھی ممکن ہوتی۔بلدیاتی انتخابات سے قبل عوامی سطح پر جلسوں کا انعقاد تحریک کے لیے اپنی سیاسی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے کا موقع بھی فراہم کرسکتا تھا۔بلدیاتی نظام میں شمولیت کسی بھی جماعت کے لیے عوامی سطح پر عملی خدمات کے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔مذہبی جماعت کا احتجاجی راستہ اختیار کرنا بظاہر یہ تاثر دے رہا ہے کہ جیسے حکومت اور تحریک کے درمیان کوئی پوشیدہ کھینچا تانی موجود ہے۔ہماراولین مقصدسب سے پہلے پاکستان ہوناچاہیے،پاکستان مضبوط اورخوشحال ہوگاتودنیاپاکستانی قوم کی آوازاحتجاجوں کے بغیربھی سنے گی۔سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کوبرداشت کریں،ایک دوسرے کامینڈیٹ قبول کریں،حکمران جماعت طاقت کے استعمال سے گریزکرے،چادراورچاردیواری کے تقدس کوکسی صورت پامال نہ کیاجائے،سیاسی قائدین کے خاندان کے ساتھ وابستہ گھریلوخواتین کی گرفتاری ہرگزقابل قبول نہیں۔
اس وقت حکومت کا رویہ بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ مذہبی ،سیاسی جماعت کا حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں ہے اور پرامن مارچ کا عندیہ دے چکی ہے، تو پھر ریاستی طاقت سے اس مارچ کو روکنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے؟ کیا اس کے پیچھے خالصتاً سیکیورٹی خدشات ہیں یا کوئی اور سیاسی مصلحت کارفرما ہے؟ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان پیدا ہونے والی یہ کشیدگی نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عوام کے حق میں۔
ریاست کا کام اختلاف کو دبانا نہیں بلکہ اسے منظم انداز میں قومی دھارے میں لانا ہے۔ کشیدگی کا فائدہ نہ حکومت کو ہوگا اور نہ ہی کسی تحریک کو۔کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان عوام اور ملک کو اٹھانا پڑے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ قیادتیں اپنی انا، ضد اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک و قوم کے اجتماعی مفاد کا سوچیں۔ فلسطین سے یکجہتی کا سب سے مضبوط پیغام وہ ہوگا جو پاکستان کو داخلی طور پر مستحکم کرکے دیا جائے۔ دنیا صرف احتجاج سے نہیں بلکہ ترقی یافتہ، متحد اور مضبوط قوموں کی آواز کو سنتی ہے۔پاکستانی قیادتیں سڑکوں کے بجائے اداروں اور عوامی نمائندگی کے پلیٹ فارم کو ترجیح دیں تو پاکستان نہ صرف اپنے اندرونی مسائل سے نکل سکتا ہے بلکہ امت مسلمہ کے ترجمان کے طور پر ابھر سکتا ہے۔















