تاریخ گواہ ہے کہ ہر قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے کندھوں پر کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان 2026 میں ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں نوجوان خود ایک بوجھ بن گئے ہیں۔ وجہ؟ “بڑھتی ہوئی مہنگائی”۔
جس عمر میں انسان خواب دیکھتا ہے، تعمیر کرتا ہے، اس عمر میں ہمارا نوجوان بل، قسط اور اگلے مہینے کے خرچے کا حساب لگا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے سب سے بڑے سرمایے کو مہنگائی کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں؟
والدین آج بھی یہی خواب دیکھتے ہیں کہ “بیٹا پڑھ لکھ کر افسر بنے گا”۔ لیکن حقیقت تلخ ہے۔
ایک عام یونیورسٹی کی 4 سالہ ڈگری کا خرچہ 7 سے 10 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں ٹیوشن فیس، ٹرانسپورٹ، کتابیں اور پراجیکٹس شامل ہیں۔ ڈگری مکمل ہونے کے بعد مارکیٹ میں 40 سے 60 ہزار کی نوکری ملتی ہے۔ کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں اتنے پیسے میں صرف 1 کمرے کا کرایہ اور پیٹرول نکلتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوان کا “تعلیم پر اعتبار” ختم ہو رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے: “اتنا قرضہ لے کر پڑھوں بھی تو فائدہ کیا؟”۔ اسی لیے ہنر مند افراد کی بجائے ڈگری ہولڈر بے روزگاروں کی فوج بڑھ رہی ہے۔
مہنگائی نے جاب مارکیٹ کو مفلوج کر دیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں، نئی کمپنیاں سرمایہ کاری سے ڈر رہی ہیں۔
جو چند نوکریاں نکلتی بھی ہیں ان کے لیے “3 سال تجربہ لازمی” کی شرط ہے۔ لیکن تجربہ آئے گا کہاں سے؟ فریش گریجویٹ جائے تو جائے کہاں؟
سب سے بڑا ظلم تنخواہوں کے ساتھ ہے۔ 2021 میں 50 ہزار اچھی تنخواہ سمجھی جاتی تھی۔ 2026 میں 50 ہزار میں گھر کا بجٹ چلانا مشکل ہے۔ پیٹرول 300، بجلی کا بل 25 ہزار، گھر کا راشن 40 ہزار۔ اس ماحول میں نوجوان شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ “رشتہ” اب “آمدنی” کا دوسرا نام بن چکا ہے
مہنگائی نے نوجوان کی جیب کے ساتھ اس کا دماغ بھی زخمی کیا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق 18 سے 35 سال کے 65 فیصد نوجوان ڈپریشن، اینزائٹی اور احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔
“میں گھر کب لوں گا؟ بچوں کو اچھی تعلیم کیسے دوں گا؟” یہ سوالات رات کا چین چھین لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا، خاص طور پر انسٹاگرام پر دوست کی بیرون ملک کی زندگی دیکھ کر اپنے حالات سے نفرت ہونے لگتی ہے۔
جب کمانے والا بیٹا گھر کا خرچہ پورا نہ کر پائے تو اس پر احساسِ جرم کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں جھگڑے عام ہو گئے ہیں۔
اس سب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کا سب سے قابل نوجوان ملک چھوڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، سافٹ ویئر ڈویلپر، ٹیچر۔ سب ویزے ڈھونڈ رہے ہیں۔
یہ صرف لوگوں کی ہجرت نہیں، یہ “قوم کے مستقبل کی ہجرت” ہے۔ ہم اپنی یونیورسٹیوں پر اربوں لگا کر لوگوں کو تیار کرتے ہیں اور وہ باہر جا کر کینیڈا، دبئی، یورپ کی معیشت چلاتے ہیں۔ اسے “Brain Drain” کہتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو 10 سال بعد ہمیں اپنے ملک میں اپنے قابل لوگ نہیں ملیں گ
مہنگائی نے آٹا مہنگا کر دیا، یہ برداشت ہو جائے گا۔ لیکن اگر مہنگائی نے ہمارے نوجوان کے خوابوں کا جنازہ نکال دیا تو یہ قوم کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نوجوانوں کے لیے سستے قرضے، ہنر اور مواقع پیدا کرے۔ ورنہ جس نسل نے ملک بنانا تھا، وہی نسل ملک چھوڑ جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















