قرآن نےچندکرداروں کونمایاں کرکےان پربدبختی کا لیبل لگادیا۔انکی برائیاں ظاہرکرکےدراصل دکھایا گیاکہ اسےلوگ سب سےبڑھ کرنافرمان اورمغضوب بارگاہ ہیں۔یہ سب اپنےوقت کےسرداراورلیڈرتھے جنہوں نےلاکھوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کردین اسلام کی راہ کھوٹی کرنےکی جان توڑجدوجہدکی۔اصل ویژن صرف یہ تھاکہ سرداریاں اورعیاشیاں قائم رہیں۔قرآن میں اعلانیہ ان فاسقوں کی تباہی وبربادی کےنوٹس جاری کردیے گیےتاکہ کسی صاحب نظرسےانکی بری صفات اور انجام بدپوشیدہ نہ رہ جاءے۔
ان ظالموں میں ابولہب بھی شامل تھاجوصاحب جاہ ومال ہونےکےساتھ ساتھ اعلیٰ نسب اورنہایت خوش شکل بھی تھا۔اسکی بیوی اسکی دست راست تھی۔(سورہ لہب:۱۱۱)ولیدبن مغیرہ(74;11-29)اور ابوجہل(94;6-19)کوبھی عتاب کانشانہ بنایاگیا۔یہ سب متکبرین اپنےلیےالگ مراعات چاہتےتھے۔خودکو عمومی لوگوں سےنہایت اعلیٰ وبالاسمجھتےتھے۔ان سب کوخدشہ تھادین اسلام پھیل توانکی سرداریاں ختم ہوجائیں گی اورانکاجاہ مال جاتارہےگا۔لہٰذاوہ اشاعت دین کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیے۔ دین سے لوگوں کوروکنااورصاحب دین کوستاناانہوں نےاپنی زندگی کامقصدبنالیا۔ خالاں کہ ان ظالموں کےدل اندر سےصداقت اسلام کےقاءںل ہوچکےتھے۔
جب معرکۂ بدرمیں مسلمان فتحیاب ہوئےےتوابولہب کواسقدرشدیددھچکالگاکہ چنددن سےزیادہ زندہ نہ رہ سکااورابوجہل میدان کارزارمیں ماراگیا۔
آج بھی جوجماعت اشاعت اسلام کابیڑہ اٹھاتی ہے اسے بہت سےابولہب،ابوجہل اورولیدبن مغیرہ اپنے گردوپیش کام کرتےدکھائی دیتےہیں۔یہ سب مل کر بظاہراتنی تمکنت اوربھرپوروساءںل کےساتھ دعوت اسلام کی راہ روکتےہیں کہ دین اسلام کے حاملین اپنےآپ کوبےبس ضعیف محسوس کرتےلگتےہیں۔
جب بھی ظالموں کوخادم دین وملت گروہ کا ووٹ بینک بڑھنےکاخطرہ ہوتاہےوہ اپنےوسائل کےبل پر چندداڑھی والوں کواکٹھاکرکےلیڈرکےروپ میں دامنےلےآتےہیں اورعوام کےپسندیدہ نعروں کےساءے میں نئ جماعت کی تاسیس کردی جاتی ہےتاکہ اسلامی ووٹ تقسیم ہوکراسلامی طاقت کی کمزوری کاباعث بنیں۔
وطن عزیزکےاعلیٰ ایوانوں میں جب بھی مغربی آقاءوں کوراضی کرنےکےلیےدین واخلاق سےعاری بلز پیش کیےجاتےہیں یااشرافیہ کی مراعات اورتنخواہوں میں اضافے کےمعاملات سامنےلائے جاتےہیں توسب ابوجہل اورابولہب اکٹھےہوجاتے ہیں اورمخالفت میں صرف ایک ہی آوازاٹھتی ہےاور وہ آوازجماعت اسلامی کی ہےجسے پوری ڈھٹائی اور بےدردی سےاعلیٰ ایوانوں سےخارج کرنےکی سازش کی گئی ہےتاکہ نہ رہےبانس اورنہ بجےبانسری۔
غریب کےمنہ سےنوالہ چھین کرمختلف بلوں اور ٹیکسوں کی صورت میں آج کےابوجہل اورابولہب اپنی عیاشیوں کاسامان فراہم کررہےہیں۔ہمیں قوم کوسیکولراورمذہبی لبادوں میں چھپےبہروپیوں سے بچاناہے۔ظالموں کےچہروں سےنقاب ہٹاکرانکےاصل کرداروں کوقوم کےسامنےنمایاں کرناوقت کی سب سےبڑی اوراہم ضرورت ہے۔
اس تاریک ترین ماحول میں جماعت اسلامی شمع جلارہی ہے۔ہماری تمام کاوشوں کامقصدیہ کہ ہم سب فاسق وفاجرلوگوں کی غلامی سےنکل کرخدائے واحدکی کامل بندگی کی شاہراہ پرگامزن ہوں۔ملکی وساءںل قبضہ مافیاسےچھین کرقوم کےوسیع تر مفادمیں میں استعمال کریں۔
روزگار،تعلیم،علاج اورفوری اورسستاانصاف ہر شخص کابنیادی حق ہےاورریاست کی اولین ذمے داری ہےکہ وہ ہرشہری تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کویقینی بناءے۔ریاست اپنےفرائض کی انجام دہی سےغافل ہےتواسےخاموشی سے برداشت کرتےچلےجاناقوم کی سب سےبڑی کوتاہی ہے۔ہم سب کواکٹھےہوکراپنےحقوق کےلیےآوازاٹھانی ہوگی۔21، 22 اور23نومبرکوجماعت اسلامی کی جانب سے پوری قوم کےلیےدعوت عام ہے۔آئیں سب مل کو مستقبل کےلیےلائحہ ٔعمل تیارکریں۔ پہلےہی ضروری کاموں کونمٹاکراپنی حاضری کویقینی بنائیں۔خود بھی شامل ہوں اوراپنےرشتہ داروں،پڑوسیوں اور دوستوں کوبھی ساتھ لیں۔اللہ کریم ہم سب کاحامی وناصرہو۔















