میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

میرا شہر کراچی جو روشنیوں کا شہر ہوا کرتا ہے جو پورے ملک کے افراد کو روزگار دیتا ہے-کہ جس کا شمار بھوکوں کو کھانا کھلانے تو غریبوں کی مدد کرنے میں ہوا کرتا ہے
آج میرے اس شہر کو کس کی نظر کھا گئی کہ کبھی اس کی “بولٹن مارکیٹ”جل جاتی ہے تو کبھی “عرشی مال “جل جاتا ہے-جبکہ چھ مہینے پہلے ہی تو “ملینیم مال” جلا تھا اور کل سے “گل پلازا”جل رہا ہے-
کبھی یہاں کی فیکٹریاں مزدوروں سمیت جلا دی جاتی ہیں جیسا کہ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری جلا دی گئی تھی تو کبھی مجرموں کے ریکارڈ جلا دئے جاتے ہیں-
تو یہ جلنا جلانا کیا حادثاتی اور اتفاقی ہے؟
یا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کیا جارہا ہے؟
سب سے پہلے تو کیا کوئ یہ دیکھنے والا نہی کہ اتنے بڑے بڑے شاپنگ مالز اور بازاروں میں “آگ بجھانے والے آلات” میسر ہیں یا نہیں؟اور ان آگ بجھانے والے آلات کی بھی کمپنیاں انھیں آکر دیکھ رہی ہیں یا نہیں ؟؟؟ہر مہینے یا دو مہینے پر جو دیکھا جاتا ہے کہ یہ صحیح کام کررہا ہے یا نہیں- یہ سارے انتظامات ہیں یا نہیں؟
پھر وہ ایسی اشیاء جن سے آگ بھڑکنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو ان کے قریب ہی اس آگ کو بجھانے کے انتظامات ہیں یا نہیں؟؟؟
اور اس کے اس مارکیٹ یا مال کی انتظامیہ ساری دکانوں پر اور باقی پورےحصے پر جس پر ان کی ذمہ داری ہے وہاں دیکھتے ہیں کہ اگر کوئ ہنگامی صورتحال پیش آگئ تو کیا کرنا ہوگا؟۔کوئی خاص آواز تو ساتھ ہنگامی صورتحال میں نکلنے والے دروازے تو اس صورت میں بجلی کا بند کرنا یہ سب کرنے والا کوئی ہمہ وقت ہے کہ نہی ؟ ان سب کو دیکھنے والے ٹیم جو ہر وقت وہاں موجود ہے کہ نہی تاکہ اتنے کروڑوں اور اربوں کے نقصان نا ہوں وہ موجود ہے نہی ؟
یا ساری احتیاطی تدابیر ہوتی ہیں اور اس کے باوجود آگ لگ جاتی ہے ؟
اگر اس طرح کا ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود آگ کہیں نا کہیں مستقل بنیادوں پر لگ رہی ہے تو پھر دیکھنا ہوگا اپنے ذمہ داران پر بھی کہ وہ پھر کیا کر رہے ہیں؟
اور ساتھ یہ کہ صرف اعلانات ،دکھ کے اظہار اور زبانی دعوؤں کے متاثرین کے لئے اتنے کروڑ کا اعلان اس سے خالی کچھ نہی ہوگا-
ان گل پلازا والوں کا تو جو بھی نقصان ہوا ہے اسے تو پورا کرنے کی زمہ داری حکومت کی ہے ہی ساتھ یہ کہ جو اب باقی بازار٫مالز وغیرہ موجود ہیں وہاں کی انتظامیہ اور ذمہ داران پہلے سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کریں -کہ یہاں تو آگ بجھانے والی گاڑیاں آتی ہیں بھی تو ان کا پانی ختم ہوجاتا ہے تو ان کا ڈیزل بھی عین وقت پر موجود نہی ہوتا –
لہذا خود سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی کیونکہ اس شہر کراچی کو تباہی کے کے دوراہے پر کھڑا کرنے میں ہماری ہماری حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے-
اب ان روتے،سسکتے گل پلازا کے دکان داروں کو دیکھتے ہوئے دل بہت اداس ہے کیونکہ اس گل پلازا سے بہت سوں کی بہت اچھی یادیں ہیں-یہاں بہترین کراکری تو اعلی کوالٹی کی چیزیں ملا کرتی تھیں اور اب یہ آگ کا ڈھیر ہے اور اس غمزدہ دل کے ساتھ بس
خدا سے دعا ہے کہ گل پلازا کے متاثرین کی مدد کے لئے کافی ہوجا,ان کے زخمیوں کو صحت یاب کرے اور دنیا سے چلے جانے والوں کی مغفرت کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top