پاکستان میں ایک سو ستر کے قریب سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ ہر جماعت کا اپنا منشور، اپنا سیاسی بیانیہ اور اپنے دعوے ہیں۔ کوئی جمہوریت کی بات رتی ہے، کوئی معیشت کی، کوئی ترقی کی اور کوئی عوامی خدمت کو اپنا مقصد قرار دیتی ہے۔
لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے:
جب عوام مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکسوں اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دب رہے ہوں تو ان مسائل پر عملی، مؤثر اور مسلسل آواز اٹھانے والی سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟
سیاست کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست کا اصل حسن تو اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی جماعت اقتدار سے باہر رہ کر بھی عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے، ان کے لیے آواز اٹھائے اور مشکل وقت میں عوام کے درمیان کھڑی ہو۔
گزشتہ چند برسوں کے سیاسی منظرنامے کو دیکھا جائے تو جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کو مسلسل اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
کراچی میں حافظ نعیم الرحمن کے دورِ امارت میں پانی، سیوریج، بجلی، انفرااسٹرکچر اور شہری حقوق کے مسائل پر متعدد احتجاجی پروگرام اور دھرنے کیے گئے۔ ان مسائل کو محض سیاسی نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے لانے اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
آج حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی پاکستان کے امیر ہیں اور قومی سطح پر عوام کے معاشی مسائل کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آئی پی پیز اور بجلی کے بل: عوام کو اصل مسئلہ کس نے سمجھایا؟
کچھ عرصہ پہلے تک عام پاکستانی کے لیے آئی پی پیز، کیپیسٹی چارجز، ایڈجسٹمنٹ اور مختلف سرچارجز جیسی اصطلاحات مشکل معاشی الفاظ تھے۔ عام آدمی کو صرف اتنا معلوم تھا کہ بجلی کا بل ہر ماہ بڑھ رہا ہے اور اس کی آمدنی اس بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔
جماعت اسلامی نے آئی پی پیز اور کیپیسٹی چارجز کے مسئلے کو سیاسی اور عوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
یہ کسی فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں، یہ عوام کا مسئلہ ہے، اور عوام کا مسئلہ ہی رہنا چاہیے۔
اسی طرح پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی بھی ایسا معاملہ ہے جسے عام آدمی شاید تفصیل سے نہ جانتا ہو، لیکن اس کا اثر براہِ راست اس کی جیب پر پڑتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والا متاثر نہیں ہوتا؛ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ زندگی کی تقریباً ہر چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔
اس لیے جب کوئی جماعت پٹرولیم لیوی یا بجلی کے نرخوں میں اضافی بوجھ کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت کہہ کر نظرانداز کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
عوامی احتجاج کو سیاسی دشمنی نہ بنایا جائے
جب جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے عوامی مسائل پر احتجاج اور دھرنے کی بات کی جاتی ہے تو بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ احتجاج کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں یا ملکی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا عوام کے مسائل پر آواز اٹھانا عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے؟
پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اپنے عالمی اور معاشی عوامل ہوتے ہیں۔ ان عوامل کو تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام پر عائد مختلف محصولات اور لیوی کا مجموعی بوجھ کتنا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
لہٰذا اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ عوام پر مجموعی معاشی بوجھ کیسے کم کیا جائے، نہ کہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے والوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔
اختلاف ضرور کریں، مگر عوامی مسئلے کو متنازع نہ بنائیں
جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے۔ اگر کسی کو جماعت اسلامی کی پالیسی، حافظ نعیم الرحمن کی حکمتِ عملی یا دھرنے کے طریقۂ کار سے اختلاف ہے تو وہ ضرور اختلاف کرے۔
لیکن کم از کم اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ عوام کے مسئلے اور سیاسی اختلاف کو الگ رکھا جائے۔
اگر بجلی کے بل عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہیں تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
اگر پٹرول کی قیمت عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہے تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
اگر آئی پی پیز اور کیپیسٹی چارجز کے حوالے سے سوالات موجود ہیں تو ان کی حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
اور اگر پٹرولیم لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے تو اس پر بھی کھل کر بحث ہونی چاہیے۔
عوامی مسئلہ کسی ایک جماعت کی ملکیت نہیں ہوتا۔
اگر جماعت اسلامی کسی مسئلے کو اجاگر کر رہی ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی آگے بڑھ کر اس پر اپنا مؤقف دینا چاہیے۔ عوامی مسائل پر مثبت مقابلہ ہونا چاہیے، خاموشی نہیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ عوام کا مسئلہ قومی بیانیہ بن جائے
کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے لوگ دھرنے میں آئے یا احتجاج کتنے دن جاری رہا۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ جو مسئلہ کل چند لوگوں کی گفتگو تھا، وہ آج پورے ملک کی بحث بن جائے۔
آئی پی پیز، کیپیسٹی چارجز، بجلی کے نرخ، پٹرولیم لیوی اور عوام کی معاشی مشکلات اگر آج عام آدمی کی گفتگو کا حصہ ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ مسائل قومی سطح پر زیرِ بحث آ رہے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحث کو جذبات کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔
جو لوگ اس جدوجہد سے اختلاف کرتے ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ اختلاف ضرور کریں، مگر عوامی مسائل کو خاموش کرنے کے بجائے ان کا متبادل حل پیش کریں۔
کیونکہ عوام کو صرف نعروں کی نہیں، حقیقی ریلیف کی ضرورت ہے۔
توجہ تنقید پر نہیں، مقصد پر ہونی چاہیے
ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور اس تحریک سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر تنقید کا جواب دینے میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔
ہر الزام کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
اصل جواب مسلسل جدوجہد، دلیل، کردار اور عوام کے درمیان موجودگی ہے۔
اپنی توجہ مقصد پر رکھی جائے، مطالبات واضح رکھے جائیں، عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور احتجاج کو پرامن، منظم اور باوقار رکھا جائے۔
کیونکہ آخرکار تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون عوام کے مسائل کے ساتھ کھڑا تھا اور کون خاموش رہا۔
پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو صرف انتخابات کے دنوں میں عوام کو یاد نہ کرے، بلکہ ان کے بجلی کے بل، پٹرول کی قیمت، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے مسائل کو بھی اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔
ایک سو ستر سیاسی جماعتوں کے ملک میں اگر عوامی مسائل پر چند ہی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو یہ صرف ان جماعتوں کے لیے نہیں بلکہ پوری سیاسی قیادت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اختلافِ رائے سب کا حق ہے، مگر عوام کے حق میں آواز اٹھانا کسی ایک جماعت کا نہیں، ہر سیاسی جماعت کا فرض ہونا چاہیے۔
آخر میں عوام کا سوال بہت سادہ ہے:
ہماری مشکلات پر کون بولے گا؟
ہماری جیب پر پڑنے والے بوجھ کا حساب کون مانگے گا؟
اور ہماری آواز اقتدار کے ایوانوں تک کون پہنچائے گا؟
یہ سوال کسی ایک جماعت سے نہیں، پاکستان کی پوری سیاسی قیادت سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















