عالمی یومِ خوراک 16 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک صرف جسم کی ضرورت نہیں، بلکہ انسانی بقا کا بنیادی حق ہے۔ مگر افسوس کہ اسی زمین پر آج بھی کروڑوں انسان بھوک کی اذیت میں ہیں، جبکہ دوسری طرف روزانہ لاکھوں ٹن کھانا کوڑا دان کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا سوال بن کر کھڑا ہے۔
دنیا کے کئی خطوں میں آج خوراک طاقت کی سیاست بن چکی ہے۔ غزہ میں بچوں کی ہڈیاں بھوک سے ابھر آئی ہیں، افریقہ کے بنجر دیہاتوں میں مائیں اپنے بچوں کو پیٹ بھرنے کے خواب سناتی ہیں، اور کشمیر میں لاک ڈاؤن نے خوراک اور دواؤں کی فراہمی کو جرم بنا دیا ہے۔ یہ سب وہ المیے ہیں جو “عالمی یومِ خوراک” کے اصل مقصد یعنی غذائی انصاف کو ایک چیختا ہوا سوال بنا دیتے ہیں:
کیا انسان نے واقعی ترقی کر لی ہے یا صرف اپنے ضمیر کو دبانے کے نئے طریقے سیکھ لیے ہیں؟
اگر ہم اپنی ہی سرزمین پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں بھی کہانی مختلف نہیں۔ مہنگائی نے غریب کی ہانڈی ٹھنڈی کر دی ہے، بازاروں میں پھل اور سبزیاں سڑکوں پر سڑتی ہیں، اور شادیوں و تقریبات میں اتنا کھانا ضائع ہوتا ہے کہ درجنوں بھوکے انسانوں کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ یہ صرف وسائل کا ضیاع نہیں بلکہ شکر کے مفہوم سے انکار ہے۔
قرآن کہتا ہے: “کھاؤ، پیو، مگر اسراف نہ کرو۔ بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”(الاعراف: 31)
اسلام نے خوراک کو محض نعمت نہیں بلکہ امانت قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اپنے پڑوسی کو بھوکا سوتا دیکھے، وہ ہم میں سے نہیں۔”(حدیثِ نبوی)
لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے اردگرد بھوکے انسان کو محسوس کرتے ہیں؟ کتنی مائیں ہیں جو بچوں کو بچا ہوا کھانا پھینکتے دیکھ کر دل میں کانٹا محسوس کرتی ہیں؟ اور کتنے نوجوان ہیں جو اس نظامِ خوراک کو بدلنے کا عزم رکھتے ہیں؟
آج ضرورت صرف دن منانے کی نہیں، بلکہ طرزِ زندگی بدلنے کی ہے۔ اگر ہم اپنے دسترخوان پر ایک نوالہ کم اور کسی غریب کے ہاتھ میں ایک نوالہ زیادہ رکھ دیں تو یہی تبدیلی کی شروعات ہو سکتی ہے۔ اگر ریسٹورنٹس، شادی ہال، اور گھرانے خوراک کے ضیاع کو روکنے کے عملی اقدامات کریں تو زمین پر بھوک کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
دنیا کے بڑے مسائل جنگیں، مہنگائی، قحط سب انسان کے پیدا کردہ ہیں۔ لیکن جب انسان دل بدل لے تو زمین کے نقشے بھی بدل سکتے ہیں۔ جب تک ہم خوراک کو “حق” نہیں بلکہ “فضلِ الٰہی” سمجھ کر بانٹنا نہیں سیکھیں گے، تب تک یہ دن صرف تقاریر اور تصویروں تک محدود رہے گا۔
آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنے دسترخوان کو دوسروں کے لیے وسیلہ بنائیں گے، اپنی خوراک میں شکر کے ساتھ احساس شامل کریں گے، اور دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ
انسانیت کی بھوک مٹانے والا ہی اصل خوش نصیب ہے۔















