پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک بحث چھیڑی گئی ہے اور اس بحث میں صوبوں کے حامی اور مخالف تندوتیز بیانات کے ذریعے پہلے سے منتشر ماحول کے انتشار میں اضافے کا سامان کررہے ہیں ہم سمجھتے ہیں پاکستان میں مسئلہ کم یا زیادہ صوبوں کا نہیں درست طرز حکمرانی کا ہے جو دور دور تک کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی میں چونکہ سندھ میں رہتا ہوں تو میں اس حوالے سے سندھ کی ہی بات کرنا چاہوں گا جہاں پیپلز پارٹی نامی ایک عفریت پچھلے اٹھارہ سال سے مسلسل حکمران ہے جبکہ اس سے قبل بھی یہ پارٹی مختلف اوقات میں سندھ کی مسندِاقتدار پر براجمان رہی ہے اس کے کسی نمائندے کے ساتھ بیٹھ جائیں اور سندھ میں ان کی حکومت کی کارکردگی پر بات کریں تو جواب میں یہ چار سڑکوں اور پانچ ہسپتالوں کی بات کریں گے اور ان چار سڑکوں اور پانچ ہسپتالوں کو پیش کرنے کے بعد یہ مطالبہ کریں گے کہ ہم مان لیں کہ سندھ دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ ہے اور اس ساری ترقی کا سہرا پیپلز پارٹی کے سر جاتا ہے اگر جرأت کرتے ہوئے ان سے پوچھ لیا جائے کہ جناب شاہراہ بھٹو آپ نے بنائی ہے لیکن ایک ڈی ایچ اے سے دوسرے ڈی ایچ اے کو جوڑنے والی اس سڑک کا کراچی کے عام عوام کو کیا فائدہ ہے اور عظیم پورہ فلائی اوور جو اسی شاہراہ بھٹو کا ہی حصہ ہے اس کو مقررہ مدت میں مکمل کرلینے سے شہر اور صوبے میں طویل عرصہ سے تکمیل کے منتظر منصوبہ جات کو کیا فرق پڑتا ہے تو یہ طعنے دینے اور لڑنے پر آجائیں گے اگلا سوال ان سے ان کے بنائے گئے پانچ ہسپتالوں کا کرلیا جائے کہ جناب ہم مان لیتے ہیں کہ یہ دنیا کے بہترین ہسپتال ہیں تو پیپلز پارٹی کی جناب آصف علی زاردری صاحب اور ان کا خاندان جناب مراد علی شاہ صاحب اور ان کا خاندان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ اور وزراء ومشیران ان ہسپتالوں سے علاج کیوں نہیں کرواتے اور کیا ان پانچ ہسپتالوں سے سندھ کے عوام کی علاج کی ضروریات پوری ہوتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہزار افراد کے علاج کی گنجائش رکھنے والے ہسپتال کے باہر پچیس ہزار افراد کی قطار لگی ہے اور مریض کو اس کی ضرورت کے مطابق علاج کی سہولت مہیا کرنے کے بجائے لمبا لمبا وقت دیا جارہا ہے کہ فلاں وقت آئیں اور اس سے آگے بڑھ کر چھوٹے شہروں قصبوں اور دیہات سے اٹھ کر علاج کیلئے بڑے شہر میں آنا یہاں رہنا کھانا پینا کیا عوام اس کی استطاعت رکھتے ہیں تو اس کے جواب میں بھی ان کی طرف سے آئیں بائیں شائیں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جناب پرائمری ہیلتھ کیئر میں آپ کیا کررہے ہیں بیسک ہیلتھ یونٹ تحصیل کا ہسپتال ضلعے کا ہسپتال ڈویژن کا سرکاری ہسپتال آج کس حالت میں ہے اور کیا وہاں ریفر ٹو کراچی کے علاوہ بھی کچھ کیا جارہا ہے تو پیپلز پارٹی کے جیالے باقاعدہ ناراض ہوجاتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ہزاروں گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ اساتذہ کی داستانیں صرف سندھ سے کیوں سنائی دیتی ہیں اور سندھ پورے ملک میں تعلیم کے حوالے سے سب سے آخری درجے پر کیوں ہے تو بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا اور یہ ان سب سوالوں کا جواب چار سڑکوں اور پانچ ہسپتالوں کی صورت میں دے رہے ہوتے ہیں۔
امن و امان کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کیلئے سب سے پہلے دیکھے جانے والا پیمانہ ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت میں شہروں اور دیہات میں امن و امان نامی چیز کہیں دکھائی نہیں دیتی پورے سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کا راج دکھائی دیتا ہے اور ان کے ہاتھوں سے عوام کا نہ مال محفوظ ہے نہ جان لیکن پیپلز پارٹی کے مطابق دنیا کا سب سے بہترین طرز حکمرانی ان کا ہے اور ان کی کار کردگی کا مقابلہ پاکستان کے دیگر صوبوں اور شہروں سے کرنے کے بجائے دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک اور شہروں سے کرنا چاہیے۔
سندھ کے عوام کے نزدیک پیپلز پارٹی کا دوسرا نام کرپشن اور بدعنوانی ہے سندھ کے تمام سرکاری اداروں پر مسلط سسٹم نامی بلا سے سندھ کا کون سا ذی شعور شخص ناواقف ہے یہاں ہر شخص جانتا ہے کہ یہ سسٹم سندھ کے ہر سرکاری محکمے اور ادارے سے روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے سمیٹتا ہے سندھ میں کرپشن کی شرح جاننے کا سب سے آسان طریقہ زرداری خاندان اور اس کے حواریوں کی حیرت انگیز معاشی ترقی کا جائزہ لیناہے ایسے وقت میں کہ جب ملک اور صوبہ کی معاشی پسماندگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے زرداری خاندان اور اس کے حواریوں کی معاشی سلطنت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
بطور سندھ کے شہری کے ہم وفاق سے سندھ کے تمام جائز حقوق کے حصول کیلئے آواز اٹھانے کی حمایت کرتے ہیں لیکن جب سندھ کی صوبائی حکومت این ایف سی ایوارڈ سے اپنا پورا حصہ وصول کرنے کے بعد نیچے موجود انتظامی یونٹس کو مطلوبہ وسائل اور اختیارات مہیا نہیں کرتی اور نتیجے میں ہر طرف بدحالی کا دور دورہ ہوتا ہے تو اس پر کیا کہا جائے کیا یہ حقیقت نہیں کہ کونسلرز سے وزیراعلی تک سندھ پر قابض پیپلز پارٹی سندھ کے بلدیاتی اداروں کی زبوں حالی کی سب سے بڑھ کر ذمہ دار ہے کراچی حیدرآباد لاڑکانہ سکھر نوابشاہ میرپورخاص سمیت سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی بلدیات پر پیپلز پارٹی کا راج ہے لیکن ان اداروں پر مسلط پیپلز پارٹی کے نمائندوں سے ان کی بدترین کارکردگی پر سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب میں وسائل اور اختیارات کی عدم دستیابی کا رونا رونا شروع کردیتے ہیں کیا خیال ہے ان حضرات سے ہی نہیں پوچھ لینا چاہیے کہ جناب مان لیتے ہیں آپ مظلوم ہیں تو یہ تو فرمائیے ظالم کون ہے تو آپ دیکھیں گے جواب ایک طویل خاموشی ہوگا کیونکہ یہ نمائندے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی اس بے وقعتی اور بے توقیری کا سب سے بڑا سبب ان کی اپنی پارٹی کی قیادت ہے۔
اس لیے ضروری ہے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ہر قسم کے ترقیاتی فنڈز کو بند کرکے انہیں بلدیاتی اداروں کی جانب منتقل کیا جائے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مئیر کا انتخاب عوام کے براہ راست ووٹوں سے کیا جائے اور منتخب مئیر کو بھرپور وسائل اور اختیارات دیے جائیں تاکہ ترقی کے ثمرات چند سڑکوں اور چند ہسپتالوں میں سمٹنے کے بجائے ہر شہر اور دیہات کی ہر گلی تک پہنچ سکیں اور پورا پاکستان اور سندھ ایک ہی وقت میں ترقی اور خوش حالی کا سفر طے کرسکے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس طریقہ کار پر عمل کرلیا گیا تو جہاں پورا ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوجائے گا وہیں بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے سبب ملک میں نئی قیادت کے ابھرنے اور پرانی کرپٹ قیادت سے چھٹکارے کا بھی راستہ بن جائے گا۔ ان شاءاللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔














