امی جی(نانی) کا ذکر آتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دل کسی نے سینے سے نکال کر رکھ دیا ہو۔ پچھلے سال 30 اکتوبر کو نانی کا انتقال ہوا، مگر میرے بچپن سے لے کر جوانی تک ان کی دی ہوئی محبت، چاہت، دعائیں اور شفقت آج بھی سانس سانس کے ساتھ رواں دواں ہیں۔ ان کی وفات کی خبر مجھ پر بجلی بن کر گری۔ یوں لگا کہ محبت کا ایک بہت بڑا سائبان اچانک سر سے ہٹ گیا، وہ سائبان جو ہر رشتے، ہر دکھ، ہر تھکن اور ہر خوف پر سایہ فگن تھا۔
نانی سراپا محبت تھیں۔ وہ صرف دینا جانتی تھیں، بدلے میں کچھ نہیں مانگتی تھیں۔ رشتہ دار ہوں، محلے والے ہوں، دوست احباب ہوں یا قریب کے غریب و مسکین لوگ—سب ان سے فیض پاتے۔ اپنے ہاتھوں سے سویٹر بُن کر دیتیں، کسی کو ٹھنڈ لگنے نہ دیتیں۔ ان کے ہاں نہ ذات پات تھی نہ امیر غریب کا فرق۔ ان کے لیے ہر انسان انسان تھا، اور ہر ضرورت مند اللہ کا بندہ۔ انسانی حقوق اور حقوق العباد کی ادائیگی میں میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ جیسے چلتا پھرتا درسِ اخلاق تھیں؛ ان کی ذات محبت، ایثار اور خلوص کا زندہ نمونہ تھی۔
وطن سے محبت اور تربیت کا انداز
نانی زیادہ باقاعدہ تعلیم یافتہ تو نہ تھیں مگر ان کا شعور، تجربہ، معیارِ زندگی اور سلیقہ اتنا بلند تھا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی انہیں عزت و احترام سے دیکھتے۔ نانا فوج میں ملازم تھے اور انہیں اپنے وطن سے بے پناہ محبت تھی۔ یہی محبت انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کے دلوں میں بھی راسخ کی۔ نانی نے سعادت مند بیوی ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے کبھی وطن کے بارے میں بچوں کے سامنے شکایت یا تنقید کی زبان نہ کھولی بلکہ گھروں میں ہمیشہ حب الوطنی، شکر اور قناعت کا درس دیا۔ آج ان کے تمام بچے اور ان کی اولاد اسی محبتِ وطن کی جھلک اپنے کردار اور سوچ میں لیے ہوئے ہیں۔
نانی کے چھ بچے تھے—دو بیٹیاں اور چار بیٹے۔ نانا کی فوجی ملازمت کی وجہ سے بار بار پوسٹنگ ہوتی رہی، مگر نانی ہر بار چھوٹے بڑے سب بچوں کو ساتھ لے کر نئی جگہ، نئے ماحول اور نئے حالات میں رچ بس جاتیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی آمنہ پیدائش کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی دنیا سے چلی گئی، لیکن اس شدید دکھ کے باوجود نانی نے زندگی کے میدان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے خود کو سنبھالا اور باقی بچوں کی تربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ان کی سخت تربیت ہی کی بدولت ان کے تمام بچے ماسٹرز تک پہنچے اور آج اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ وہ بچوں سے اخبارات—چاہے انگریزی ہو یا اردو—روزانہ پڑھواتیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی اولاد باشعور ہو، حالاتِ حاضرہ سے واقف ہو، بولنا، سمجھنا اور سوچنا جانتی ہو۔ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد تعلیمی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔
گھریلو زندگی، محنت اور نفاست
نانی کے ہاں محنت، صفائی اور نفاست کا عجیب امتزاج تھا۔ انہیں اون اور سلائی کا انتہائی نفیس کام آتا تھا۔ خود براوز اور ساڑھیاں سیتیں، سادہ مگر بے حد صاف ستھری ساڑھی زیبِ تن کرتیں۔ نانا مچھلی لے آتے تو وہ خود دھوتیں، جھینگے اور گوشت کی صفائی کرتیں، سبزی سے لے کر سالن تک ہر چیز اپنے ہاتھ سے تیار کرتیں۔ میں نے اپنے بچپن میں انہیں سل بٹے پر چٹنی بناتے، ہرے مصالحوں کا سالن پکاتے، چٹنیاں اورمصالحہ دوسے بناتے دیکھا۔ ان کے ہاتھوں کے ذائقے میں محبت، خلوص اور محنت گھلی ہوئی ہوتی تھی۔ وہ اپنے بچوں، بہوؤں، پوتے پوتیوں، نواسوں نواسیوں سب کے لیے ایک ہی جذبے سے پکاتیں—کہ پیار سے کھائیں، سیر ہوں، خوش ہوں۔
والدہ بتاتی ہیں کہ نانی ہمیشہ اتنی نرم مزاج نہیں تھیں؛ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت سختی اور اصولوں کے ساتھ کی۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی سختی کے پیچھے بھی محبت ہی چھپی ہوتی۔ غصہ آتا تو ایک گہری نظر ڈالتیں، بات سمجھا دیتیں، مگر ہاتھ کبھی نہ اٹھایا، نہ ہی زبان سے دل توڑنے والی بات کہی۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ عزت بھی قائم رہتی اور تربیت بھی ہو جاتی۔
نانی کی عبادت اور اللہ سے سرگوشیاں
نانی کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو ان کا اپنے رب سے تعلق تھا۔ میں نے انہیں تہجد کے وقت چپکے چپکے اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتے سنا ہے۔ وہ تہجد کی نماز کبھی نہیں چھوڑتیں۔ رات کی خاموشی میں ان کی مدھم سی آواز، سجدوں کی طولانی کیفیت اور آنسوؤں کی نمی آج بھی دل پر نقش ہے۔وہ قرآن مجید ہمیشہ بلند آواز سے پڑھتیں، ساتھ ساتھ ترجمہ بھی دیکھتیں اور سمجھ کر پڑھتیں۔ ان کا کمرہ تلاوت کی آواز سے مہک اٹھتا۔ تہجد میں وہ صرف اپنے لیے نہیں، ہر ایک کے لیے دعا مانگتیں—اپنی اولاد، ان کے بچوں، رشتہ داروں، ہمسایوں، غریبوں اور امتِ مسلمہ تک کےلیے۔نماز میں وہ آہستہ آہستہ اللہ سے جیسے سرگوشی کرتی تھیں، محبت بھری زبان میں اپنے رب سے باتیں کرتی تھیں۔ انہیں دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ عبادت محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک پیار بھرا، رازدارانہ تعلق بھی ہے جس میں بندہ اپنے رب سے دل کی باتیں کرتا ہے۔ انہی خاموش سجدوں اور مانگی ہوئی دعاؤں کا ثمر تھا کہ ان کی اولاد اور گھرانہ آج تک ان کی دعاؤں کے حصار میں محفوظ محسوس ہوتا ہے۔
نانا کی وفات کے بعد کی زندگی
نانا کی وفات کے بعد تقریباً پچیس برس تک انہوں نے جس وفاداری، صبر، خودداری اور اللہ پر توکل کے ساتھ زندگی گزاری، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ انہوں نے اپنے دکھوں کو پسِ پشت ڈال کر خود کو بچوں اور پوتے پوتیوں کی محبت میں مصروف کر لیا۔ اپنے جیون ساتھی کے بچھڑنے کا غم دل میں لیے، مگر چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ، وہ اولاد، نواسوں اور پوتوں کے لیے ڈھال بنی رہیں۔میں اکثر نانا کی وفات کے بعد ان کے پاس رہنے جاتی۔ مجھے محسوس ہوتا کہ شاید اب انہیں ہماری پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے، مگر کمال یہ تھا کہ وہ خود ہمیں سہارا دیتیں، ہمیں حوصلہ دیتیں، ہم سے کہتیں: “اللہ بہتر کرے گا، بس صبر کرو، شکر کرو۔” فون پر بات ہوتیں تو سب سے پہلے محبت بھری آواز میں پوچھتیں: “کب آو گی؟” اور جب ہم انکے گھر پہنچتے تو پھل، بسکٹ، میٹھائی، جو بھی ہوتا ہمارے آگے رکھ دیتیں، کہتیں: ’’سب کچھ کھاؤ!‘‘
گھر کی تقسیم کے بعد وہ دور چلی گئیں، لیکن فاصلے نے دلوں کی قربت کو کم نہ کیا۔ ان کی محبت ہمیشہ پہلے کی طرح میٹھی، سادہ اور گہری رہی۔ کبھی منہ سے کسی کے خلاف تلخ جملہ نہیں نکالا، کبھی چیخ کر بات نہیں کی۔ اگر غصہ بھی آتا تو بس آنکھیں پُرسکون انداز میں دوسری طرف کر لیتیں، جیسے دل کے اندر ہی دل کا بوجھ سمیٹ لیا ہو۔
نواسوں اور پوتوں سے بے مثال محبت
امی جی(نانی) نے اپنے پوتے پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کو محض دیکھا نہیں، بلکہ حقیقتاً اپنے ہاتھوں سے پالا، نہلایا، کپڑے بدلے، کھلایا، سلایا، گود میں جھلایا۔ وہ صرف دادی/نانی نہیں تھیں، ماں جیسا مقام رکھتی تھیں۔ جب تک بچے ان کے پاس رہے، ان کی تربیت، ان کی خوراک، ان کی عادات اور حتیٰ کہ ان کے اخلاق تک نانی کی نگرانی میں رہے۔ ان کی گود میں بیٹھتے تو دنیا کی ساری تھکن اتر جاتی، وہ سینہ اور وہ دوپٹہ جیسے پوری کائنات کا سب سے محفوظ پناہ گاہ ہو۔
ان کی ذات ایک چلتا پھرتا مدرسہ اور زندہ مثال تھی کہ عورت اگر خود مضبوط، با اصول، با حیا، عبادت گزار اور محنتی ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی مشکلات کو جس ثابت قدمی، صبر، شکر، اللہ پر توکل اور رضا کے ساتھ جھیلا، وہ میرے لیے زندگی بھر کا سبق ہے۔ ان کی شخصیت سے یہ احساس ہوتا تھا کہ جیسے محبت، وفا، ایثار، عبادت اور حقوق العباد ان کی گھٹی میں پڑے ہوں۔
دعا اور عہد
میری پیاری امی جی(نانی) اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی یادیں، ان کی دعائیں، ان کی مسکراہٹ، ان کے ہاتھوں کا لمس ،انکےخلوص کی گرمی،انکی مہک، ان کی تلاوت کی آواز، رات کے سناٹوں میں ان کی تہجد، ان کی جھڑکیاں، ان کی چُپ اور ان کا پیار، سب کچھ دل میں آج بھی ایسے تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ جب بھی انہیں یاد کرتی ہوں، دل بھیگ جاتا ہے، مگر ساتھ ہی ایک سکون بھی آتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی محبت، خدمت، عبادت اور خیر کے ساتھ گزاری، اور وہ اپنے رب کے حضور بھی ان ہی اوصاف کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں گی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کی خطاؤں کو معاف فرمائے، ان کے حسنات کو بلند سے بلند تر درجات عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ تعالیٰ ہمیں، ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، ہمیں ان کے اخلاق، ان کی محنت، ان کے صبر، ان کی وفا، ان کی عبادت اور ان کی محبت کا وارث بنائے، تاکہ جب بھی کوئی ہمیں دیکھے تو اسے نانی کی جھلک نظر آئے۔ آمین یا رب العالمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















