کیا ہم نے واقعی اپنے اندر کی خاموشی، اپنی یکسوئی اور اپنی سوچنے کی طاقت کو کھو دیا ہے؟شاید ہم نے خود ہی اُن لمحوں کو چھوڑ دیا ہے جن میں ہم خود سے ملتے تھے۔ اب، ہم مسلسل کچھ نہ کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں نہ جانے کیا تلاش کرتے ہیں؟ اگر سوچا جائے توہم نے اس scrolling کی وجہ سے محض وقت نہیں کھویا ہم نے اپنی استقامت بھی کھو دی ہے۔
وہ استقامت جو ہمیں کسی گہری سوچ کے ساتھ بیٹھنے دیتی تھی، کسی خیال کے گرد چکر کاٹنے دیتی تھی، وہ اب بس ایک ویڈیو کے scroll میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ ہم چیزوں کو صرف ان کی سطح سے دیکھتے ہیں، اور اسی پر خوش ہو جاتے ہیں۔ نہ سوال اٹھاتے ہیں، نہ مکمل جواب تلاش کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ آہستہ آہستہ ہماری سوچنے کی صلاحیت کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔” ہم چیزوں کو گہرائی سے دیکھنے کی جستجو ہی نہیں کرتے۔۔۔اس کے علاوہ ہر وقت کی scrolling نے ہمارے احساس کرنے کی صلاحیت کو بھی دھندلا دیا ہے ،اب کسی حادثے ،ظلم یا دردناک لمحے کو دیکھ کر ہمارے آنکھوں میں آنسو آنے کے بجائے ہم صرف نیکسٹ کا بٹن دبا دیتے ہیں ،یعنی ہم کسی کے درد کو بھی اک تفریحی وقفہ سمجھنے لگے ہیں ہم پر سوچنے کے بجائے اسکرول کا رجحان غالب آتا جا رہا ہے ،یعنی ہم ذہنی طور پر بھی اپنی device کے غلام ہوتے جا رہے ہیں۔
جب ہم scrolling کرتے ہیں،تو ہمیں صرف اور صرف مختصر اور تیز رفتار ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں جن سے ہمارا دماغ “فوری تسکین” (Instant Gratification) کا عادی بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر لمحہ کچھ نیا، کچھ دلچسپ چاہیے ہوتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی کام پر توجہ دینا چاہتے ہیں (جیسے پڑھنا، لکھنا، یا کوئی ہنر سیکھنا)، تو ہمارا دماغ بور ہونے لگتا ہے، اور ہم دوبارہ scrolling کی طرف کھنچ جاتے ہیں۔بے تحاشا معلومات اور تصویری مواد دماغ کو تھکا دیتا ہے۔ نتیجتاً جب ہم کوئی تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں تو ذہن بوجھل ہوتا ہے، اور ہم وہ کام کرنے کا حوصلہ ہی نہیں پاتے۔
پہلے ہمیں سکون محسوس ہوتا تھا کسی کتاب کے ساتھ، کسی خاموش دوپہر میں، کسی دیرپا گفتگو میں۔ اب ہمیں سکون محسوس ہوتا ہے بس اگلی ویڈیو میں، اگلے scroll میں۔ اور یہ سب ہمیں بظاہر تو مزہ دے رہا ہے، لیکن اندر ہی اندر ہمیں کھوکھلا کرتا جا رہا ہے یہاں تک کہ ہم اب معیاری برائی کے بھی قابل نہیں رہے۔ ہم نے اپنی اندرونی کشمکش کھو دی ہے، وہ سوال جو کسی غلطی سے پہلے اٹھتے تھے،اب وہ سوال ہی باقی نہیں رہے۔ اب تو ہر حرکت، ہر فیصلہ، محض ایک وقتی ردِعمل ہے، نہ سوچ، نہ شعور۔ ہماری برائی بھی اک scroll کی طرح چند سیکنڈز کی، بے وزن، بے مقصد ہوتی جا رہی ہے”
میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ !
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر کے لیے
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
لیکن افسوس کہ اب ہم لوگوں میں سلیقہ نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی ،لیکن شاید ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر ہم خود سے سچے ہو جائیں، تو بچنا بہت آسان ہے۔ اگر ہم روز تھوڑا سا وقت خود کے لیے رکھ لیں، تو ہم پھر سے سوچ سکتے ہیں۔ شاید ہمیں پھر سے خاموشی سے دوستی کرنی ہوگی۔ شاید ہمیں پھر سے گہری سانس لینا سیکھنا ہوگا۔
ورنہ ہم بس دیکھتے رہ جائیں گے—اور آخر میں کچھ بھی نہیں دیکھ پائیں گے۔
میر تقی میر کی غزل کا اک خوبصورت شعر ہمیں آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہوگا کہ :
سر سری تم جہاں سے گزرے
ورنہ ہر جا ، جہان دیگر تھا















