فیلڈ مارشل: پاکستان میں اعلیٰ ترین عسکری رینک

فیلڈ مارشل: پاکستان میں اعلیٰ ترین عسکری رینک

فیلڈ مارشل (Field Marshal) ایک ایسا عسکری رینک ہے جو کسی بھی ملک کی فوج میں سب سے اعلیٰ اور باوقار عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ رینک رسمی طور پر موجود ہے، مگر اس کا استعمال نہایت محدود اور غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں، صرف دو افراد کو یہ رینک دیا گیا ہے، یعنی فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر۔۔ ایوب خان نے 1951 میں پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا اور بعد ازاں 1958 میں مارشل لا نافذ کر کے صدرِ پاکستان بنے۔ انہیں 1959 میں “فیلڈ مارشل” کا اعزازی رینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل کا رینک عمومی طور پر کسی فوجی افسر کو غیر معمولی خدمات یا جنگی کارناموں پر اعزازی طور پر دیا جاتا ہے۔ اس رینک کے حامل افسر کو عملی کمان نہیں دی جاتی بلکہ یہ ایک اعزازی اور پروٹوکول کا رینک ہوتا ہے۔ یہ رینک جنرل سے بھی بالا تر ہوتا ہے، اور اسے پانچ ستارہ جنرل بھی کہا جاتا ہے۔

پاکستان آرمی کے فعال رینکس میں فیلڈ مارشل کا عہدہ شامل نہیں ہے۔ اس وقت پاک فوج کا سب سے اعلیٰ رینک جنرل (چار ستارہ) ہے، جو کہ آرمی چیف کے پاس ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل کا رینک صرف علامتی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کوئی باقاعدہ پالیسی یا تقرری کا عمل موجود نہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک، جیسے برطانیہ، روس، جرمنی، اور مصر میں بھی فیلڈ مارشل کا رینک موجود رہا ہے، لیکن اسے صرف جنگی ہیروز یا غیر معمولی خدمات انجام دینے والے جرنیلوں کو دیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں فیلڈ مارشل کا رینک ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اسے اب تک صرف ایک بار استعمال کیا گیا ہے۔ یہ رینک نہ صرف عسکری شجاعت کی علامت ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے ملک کی تاریخ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top