ہم سب آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مگر دل کی آنکھیں کم ہی کسی کو نصیب ہوتی ہیں۔ یہ آنکھیں روشنی میں نہیں، اندھیروں میں کھلتی ہیں۔ جب دنیا کی چمک ماند پڑ جائے، جب تنہائی صدا دینے لگے، جب آنکھ سے آنسو اور دل سے آہ نکلے… تب کہیں جا کر دل کی آنکھ کھلتی ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
> “فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ”
“پس دراصل آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں” (سورۃ الحج: 46)
یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اصل بینائی ظاہری آنکھ کی نہیں، دل کی آنکھ کی ہے۔ دل کی آنکھ تب کھلتی ہے جب انسان دنیا کے فریب سے بیزار ہو کر حق کی تلاش میں نکلتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> “أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ”
“خبردار! بدن میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا بدن درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا بدن خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے” (صحیح بخاری و مسلم)
آج ہمارے دل غفلت کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ دنیا کی دوڑ، حسد، کینہ، فریب، اور خود پسندی نے ہماری روح کی بینائی سلب کر لی ہے۔ جب انسان توبہ کرتا ہے، سجدے میں روتا ہے، تو وہ بینائی لوٹ آتی ہے جو کبھی نورِ حق کو دیکھنے کے قابل تھی۔
دل کی آنکھ تب کھلتی ہے،
جب قبر کی مٹی کی خوشبو دنیا کی خوشبوؤں سے زیادہ سچی لگنے لگے۔
جب سچ بولنے کا خمیازہ برداشت کر لیا جائے،
جب قرآن سینے میں اترے اور آنکھ سے آنسو بن کر بہے…
تب دل دیکھنے لگتا ہے۔
> اِک عمر گزر جاتی ہے دل کو سمجھانے میں،
جب دل ہی نہ مانے تو نظر کیا کرے؟
کاش ہم اپنے دل کو وہ نور دکھا سکیں جس کے لیے قرآن نازل ہوا تھا۔ کاش ہم وہ آنکھیں کھول سکیں جو قیامت کے دن کام آئیں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کا فہم، دل کی صفائی، اور وہ بینائی عطا فرمائے جو حق کو حق اور باطل کو باطل کے طور پر دیکھ سکے۔ آمین















