5 اکتوبر کو دنیا بھر میں یوم تکریم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اساتذہ ہمارے معاشرے میں کس قدر اہم ہیں اور ان کی محنت و قربانیوں کا کتنا بڑا اثر ہوتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی قدردانی کیسے کر سکتے ہیں اور ان کے کردار کو معاشرتی طور پر تسلیم کیسے کر سکتے ہیں۔
استاد وہ ہستی ہے جو صرف علم نہیں دیتا بلکہ زندگی کے راستے بھی دکھاتا ہے۔ وہ ہمیں نہ صرف کتابی معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اخلاق، کردار اور انسانیت کے اصول بھی سکھاتا ہے۔ اساتذہ کا کام اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم عمومی طور پر سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کے لیے اپنی ذاتی زندگی کی قربانیاں دیتے ہیں اور ان کے لیے بہتر مستقبل کے امکانات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک استاد صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا؛ وہ ایک رہنما ہوتا ہے جو ہر طالب علم کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اُبھارتا ہے۔ اساتذہ کی قربانیاں صرف وقت صرف کر نے کی حد تک نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے ذاتی معاملات کو پس پشت ڈال کر اپنے طلبہ کے لیے محنت کرتے ہیں، تاکہ وہ زندگی میں کامیاب ہوں۔
جب ہم مسلمان تاریخ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کئی ایسے عظیم اساتذہ کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے اثرات چھوڑے۔ امام غزالی، جو “حجت الاسلام” کے لقب سے معروف ہیں، نہ صرف ایک عظیم عالم تھے بلکہ ایک بہترین استاد بھی تھے۔ انہوں نے اپنی درس و تدریس کے ذریعے اسلامی دنیا کے فکری پہلو کو تقویت دی۔
اسی طرح شیخ عبدالقادر جیلانی کی مثال بھی ہمیں ملتی ہے، جو ایک عظیم روحانی رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا اور ان کے دلوں میں خدا کے ساتھ تعلق مضبوط کیا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا تعلیمی سفر یہ بتاتا ہے کہ استاد کا اصل مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ انسانیت کے اصول سکھا کر ایک بہتر معاشرہ بنانا ہوتا ہے۔
علامہ اقبال بھی ایک ایسے استاد تھے جنہوں نے نہ صرف ادب اور فلسفہ کے میدان میں کام کیا بلکہ اپنے شاگردوں کو شاہین کا فلسفہ دے کر ایک نئی روشنی دکھائی۔ ان کی شاعری اور فلسفہ نے لاکھوں لوگوں کو بیدار کیا اور انہیں اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دی۔ اقبال کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک استاد کا کردار صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے شاگردوں کے ذہنوں میں وہ بیج بوتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح ہمارے آس پاس بھی ہمیں بہترین اساتذہ کی اور بہت سی مثالیں ملتی ہیں جو اپنی ذات سے نئی نسلوں کو مستفید کر رہے ہیں۔ یوم تکریم اساتذہ کا مقصد صرف اساتذہ کی محنت اور قربانیوں کا اعتراف کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ اساتذہ ہمارے معاشرتی نظام کا ایک لازمی جز ہیں۔ ان کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ اس دن کی اہمیت بھی یہی ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس ہو کہ اچھے اساتذہ کی محنت و شخصیت کا ہماری زندگیوں پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے اور ہمیں کس طرح ان کی قدر کرنی چاہیے۔















