سیکھنے کا سفر!

زندگی دراصل ایک طویل اور پیچیدہ سفر ہے، جس کی اصل روح “سیکھنے” کے عمل میں پنہاں ہے۔ انسان اپنی پیدائش سے لے کر آخری سانس تک کسی نہ کسی شکل میں سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ یہ عمل بظاہر کتنا ہی سادہ کیوں نہ لگے، مگر حقیقت میں یہ ایک مسلسل اور گہری جدوجہد ہے۔

ہم بچپن میں ماں باپ کی آغوش سے سیکھتے ہیں، پھر استاد کے الفاظ سے علم پاتے ہیں، وقت اور حالات ہمیں مزید گرِتھ سکھاتے ہیں، اور بالآخر زندگی کے تجربات ہماری سب سے بڑی درسگاہ ثابت ہوتے ہیں۔ یوں سیکھنے کا یہ سفر کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انسان اپنے مشاہدات اور تجربات کے ساتھ ہر لمحہ نیا سبق سیکھتا ہے، گویا اس کائنات میں ہر شے استاد ہے اور ہر منظر ایک کتاب۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ سیکھنے کا عمل کہاں جا کر ختم ہوتا ہے؟ کیا کوئی ایسا مقام ہے جہاں انسان یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے؟ یہاں انسان کے غرور کا پردہ چاک ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے ہی کوئی یہ سمجھنے لگے کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے، وہاں اس کے لیے سیکھنے کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اصل میں علم کا سمندر اتنا وسیع ہے کہ ایک عمر بھی اس کے کنارے تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔

علم کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جتنا ہم جانتے ہیں، اتنا ہی اپنی نادانی کا احساس بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفیوں نے کہا ہے: “میں کچھ نہیں جانتا۔” دراصل سیکھنا اپنی جہالت کو پہچاننے اور اپنی ذات کے پردے ہٹانے کا نام ہے۔ ہر سوال ایک نئی دنیا کا دروازہ ہے اور ہر جواب ایک نئے سوال کی تمہید۔

صوفیاء نے اسی حقیقت کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک سیکھنے کا سفر محض الفاظ اور کتابوں تک محدود نہیں بلکہ یہ اپنے نفس کی پہچان، اپنے رب کی معرفت اور کائنات کے اسرار کے ادراک کا سفر ہے۔ وہ کہتے ہیں: “جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔” یہ جملہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیکھنے کا سب سے اعلیٰ درجہ خودی کی پہچان اور حقیقت کی تلاش ہے۔

انسانی عقل کی ایک حد ہے۔ ایک فرد اپنے تجربے، اپنی سوچ اور اپنے علم کی روشنی میں تو بہتر فیصلے کر سکتا ہے، لیکن “عقلِ کل” ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ دنیا میں ایسے کئی علوم اور ایسے کئی جہان موجود ہیں جن تک ہماری رسائی آج ممکن نہیں، مگر آنے والے وقت میں شاید یہ بھی منکشف ہو جائیں۔ اس کائنات کے ہر ذرے میں ایک نیا سبق چھپا ہوا ہے۔ ہوا کی نرمی، پانی کی روانی، پہاڑ کی مضبوطی، اور صحرا کی وسعت—سب کچھ انسان کو خاموشی سے سکھاتا رہتا ہے۔

یہاں ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ سیکھنے کا عمل صرف ان لوگوں کے لیے جاری رہتا ہے جو عاجزی کے ساتھ علم کی طلب رکھتے ہیں۔ غرور اور تکبر سیکھنے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جیسے ہی انسان یہ سمجھتا ہے کہ اب اس نے سب کچھ جان لیا، تو وہ علم کی سب سے بڑی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔

انسان کا اصل سفر کائنات سے زیادہ اپنے باطن کی گہرائیوں کی طرف ہوتا ہے۔ یہی سفر اس کے لیے نئے جہان کھولتا ہے، یہی ارتقاء کی ضمانت ہے۔ ہر انسان دراصل اپنی ذات کا مسافر ہے، جو جتنا اپنے اندر جھانکتا ہے اتنا ہی باہر کی دنیا کو بہتر طور پر سمجھ پاتا ہے۔

سیکھنے کا سفر دراصل ایک ایسا دریا ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں۔ ایک موج کے بعد دوسری موج، ایک ساحل کے بعد دوسرا ساحل۔ اور ہر ساحل پر نیا منظر، نیا تجربہ اور نیا سبق انسان کا منتظر ہوتا ہے۔ اس سفر میں ٹھہراؤ کا مطلب زوال ہے، جبکہ مسلسل جستجو ہی ارتقاء ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سیکھنے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں۔ سیکھنے کو صرف رسمی تعلیم یا چند کتابوں تک محدود نہ کریں بلکہ ہر دن، ہر لمحہ اور ہر واقعہ کو ایک سبق سمجھیں۔ اپنی ناکامیوں سے بھی سیکھیں اور دوسروں کی کامیابیوں سے بھی۔ اپنے دکھوں کو بھی استاد مانیں اور خوشیوں کو بھی۔ کیونکہ اصل میں زندگی کا ہر لمحہ ایک درسی باب ہے، اور ہم سب اس کے مسافر۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”(یوسف: 76) یعنی “ہر علم والے سے بڑھ کر کوئی اور علم والا موجود ہے۔” یہ آیت ہمیں عاجزی اور علم کی طلب کا سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی انسان کامل علم کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا: “علم حاصل کرو گہوارے سے لے کر قبر تک۔” یہ حدیث اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری زندگی کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیکھنے کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ یہ ایک ناتمام جہان ہے، جس کے ہر در پر نیا سبق، ہر موڑ پر نئی حقیقت اور ہر منزل پر نیا جہان ہمارا انتظار کرتا ہے۔ فلسفیوں کے مطابق: “ہر سوال ایک نیا در کھولتا ہے اور ہر جواب ایک نئے سفر کی ابتداء ہے۔” اور شاید یہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے کہ یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top