جون کی تپتی دوپہر تھی، سورج سوا نیزے پر تھا اور زمین تانبے کی طرح دہک رہی تھی۔ گلی میں سناٹا تو تھا مگر ہوا میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ یحییٰ نے پسینہ پونچھتے ہوئے ساکت پنکھے کی طرف دیکھا اور پھر اپنی ضعیف ماں پر نظر ڈالی، جن کا چہرہ شدتِ تمازت سے مرجھا رہا تھا مگر لبوں پر وہی ابدی اطمینان اور شکر تھا۔
یحییٰ، جو بی ایس کا طالب علم تھا، اپنے گھر کا واحد سہارا تھا۔ باپ کے سائے سے محروم ہونے کے بعد اس نے سفید پوشی کا بھرم رکھنا خوب سیکھ لیا تھا۔ ابھی وہ مڈ ٹرم پیپرز کی تھکن اور گھر کی معاشی تنگی کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ باہر گلی میں ہارن کی آوازوں نے اس کا دھیان بٹا دیا۔ ساتھ والے عالیشان بنگلے کے باہر ایک ہجوم جمع تھا۔ چوہدری صاحب کا بیٹا شہر سے دو نہایت قد آور اور شاہانہ بیل لایا تھا۔ ہر طرف سیلفیوں کا دور تھا اور جانوروں کی قیمتوں کے تذکرے فخر کے ساتھ ہو رہے تھے۔ چوہدری صاحب کے بلند و بانگ قہقہے یحییٰ کے کانوں میں گونج رہے تھے، “آپ کے تو پورے علاقے میں ایسی قربانی کسی کی نہیں ہوگی، لوگ دیکھیں گے کہ چوہدری نے کیا قربان کیا ہے!”
یحییٰ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ لوگ شاید بھول گئے تھے کہ سنتِ ابراہیمی اصل میں کیا تھی اور انہوں نے اسے کیا بنا دیا ہے۔ ایک ایسی دوڑ جس میں تقویٰ پیچھے اور نمود و نمائش آگے نکل چکی تھی۔ یحییٰ کو محسوس ہوا کہ معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے رہ گئے ہیں جنہیں دوسروں کے کام آنے کی سچی توفیق ملتی ہے۔
اللہ اللہ کر کے عید کا چاند طلوع ہوا، فضا تکبیرات کی آوازوں سے گونج اٹھی۔ عید کی نماز کے بعد جب دنیا اپنی اپنی قربان گاہوں کی طرف دوڑ رہی تھی، یحییٰ خاموشی سے اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا۔ ایک دو دوستوں کے گھر سے گوشت آیا تو ماں بیٹے نے وہی پرانا شکرانے کا جذبہ سینے سے لگا کر اللہ کا رزق قبول کیا۔ عید تو خیر و عافیت سے گزر گئی، لیکن یحییٰ کے دل میں یہ بات کانٹے کی طرح چبھتی رہی کہ ایسی شہرت اور ایسی قربانی کا کیا فائدہ جہاں ہمسایہ بھوکا ہو یا کسی کی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ رہا ہو؟
کہتے ہیں کہ اللہ نیتوں کا حال جانتا ہے اور وہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ یحییٰ کی محنت رنگ لائی، اس نے یونیورسٹی سے سکالرشپ حاصل کیا اور ساتھ ہی ایک معقول جگہ پر جاب کی پیشکش بھی ہو گئی۔ وقت کا پہیہ گھوما اور سال بھر میں یحییٰ کے دن پھر گئے۔
اگلے سال جب ذوالحج کا مہینہ آیا تو یحییٰ بھی صاحبِ استطاعت ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی حلال کمائی سے ایک خوبصورت بکرا خریدا۔ چوہدری صاحب کے بنگلے کے باہر آج بھی وہی نمائش لگی تھی، مگر یحییٰ کے گھر میں خاموشی تھی۔ نمازِ عید کے فوراً بعد اس نے سنت ادا کی اور پھر چند ایک لفافوں کے علاوہ سارا گوشت ان بستیوں اور گھروں میں پہنچا دیا جہاں عید کے دن بھی چولہا جلنا مشکل تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ قربانی کی اصل روح جانور کے خون میں نہیں بلکہ اس تڑپ میں ہے جو انسان کو اپنی انا سے نکال کر دوسروں کے دکھ بانٹنے پر مجبور کر دے۔ وہ جانتا تھا کہ اللہ کو گوشت نہیں، وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو خاموشی سے کسی کی ضرورت پوری کرنے میں چھپا ہوتا ہے۔














