بڑھاپا زندگی کا ایک حصہ ہے،جوانی میں انسانی قوتیں اور صلاحیتیں اپنے جوبن پر ہوتی ہیں جو رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے اسی دور کا نام بڑھاپا ہے ۔
بڑھاپے میں انسان بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے قوت مدافعت کم ہونے کی ہونے کی وجہ سے کئی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر بزرگ افراد ادویات پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا بذات خود ایک بیماری ہے عمر کے اس دور میں انسان کی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ایک بھرپور زندگی گزارنے والا بھی بےچارگی محسوس کرتا ہے۔
بڑھاپے میں انسان بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے قوت مدافعت کم ہونے کی ہونے کی وجہ سے کئی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر بزرگ افراد ادویات پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا بذات خود ایک بیماری ہے عمر کے اس دور میں انسان کی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ایک بھرپور زندگی گزارنے والا بھی بےچارگی محسوس کرتا ہے۔
معمر افراد کی سرگرمیاں بیماری اور کمزوری کی وجہ سے کم ہو جاتی ہیں ان کی سماجی زندگی محدود ہو جاتی ہے طبیعت میں چڑچڑا پن آجاتا ہے، وہ کئی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پوری دنیا میں معمر افراد کے مسائل تقریبا ایک جیسے ہیں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شہروں کی نسبت گاؤں میں بزرگ افراد زیادہ صحت مند اور تندرست دکھائی دیتے ہیں اس کی بڑی وجہ گاؤں اور شہر میں طرز زندگی کا مختلف ہونا ہے۔
شہروں میں عموما آلودگی زیادہ ہوتی ہے تازہ ہوا، صاف پانی کی کمی اور مصنوعی غذاؤں کا استعمال قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے۔
پر آسائش طرز زندگی میں مشقت اور ورزش کا فقدان جسم کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
سونے جاگنے کے بے قاعدہ اوقات ، رات کو دیر سے سونا صبح دیر سے اٹھنا صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔
گاؤں کی صاف آلودگی سے پاک آب و ہوا اور فطرت سے قریب ماحول صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ سادہ اور خالص غذا، پر مشقت زندگی جسمانی کارکردگی اور مدافعت کو بڑھاتی ہے جس کے نتیجے میں گاؤں کی افراد زیادہ عمر میں بھی تندرست اور توانا نظر آتے ہیں۔
گاؤں کے افراد کا آپس میں میل جول زیادہ ہونے کی وجہ سے بزرگوں کی سماجی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے اور وہ تنہائی کا شکار نہیں ہوتے۔
تنہائی بڑھاپے کا ایک بڑا مسئلہ ہے جو آج کل کے مشینی دور میں دگنی ہو گئی ہے اس بنا پر بزرگ افراد افسردگی چڑچڑا پن جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پر آسائش طرز زندگی میں مشقت اور ورزش کا فقدان جسم کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
سونے جاگنے کے بے قاعدہ اوقات ، رات کو دیر سے سونا صبح دیر سے اٹھنا صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔
گاؤں کی صاف آلودگی سے پاک آب و ہوا اور فطرت سے قریب ماحول صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ سادہ اور خالص غذا، پر مشقت زندگی جسمانی کارکردگی اور مدافعت کو بڑھاتی ہے جس کے نتیجے میں گاؤں کی افراد زیادہ عمر میں بھی تندرست اور توانا نظر آتے ہیں۔
گاؤں کے افراد کا آپس میں میل جول زیادہ ہونے کی وجہ سے بزرگوں کی سماجی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے اور وہ تنہائی کا شکار نہیں ہوتے۔
تنہائی بڑھاپے کا ایک بڑا مسئلہ ہے جو آج کل کے مشینی دور میں دگنی ہو گئی ہے اس بنا پر بزرگ افراد افسردگی چڑچڑا پن جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
معمر افراد کے ان مسائل کی وجہ سے اکثر گھرانوں میں بزرگوں کو بوجھ سمجھا جانے لگا اور ان کی مناسب دیکھ بھال کے لیے اولڈ ہاؤسز بننے شروع ہوئے۔ اولڈ ہاؤسز میں بوڑھے افراد کو اپنے جیسے لوگوں کی صحبت مل جاتی ہے اور ان کے نفسیاتی مسائل کچھ حد تک کم ہو جاتے ہیں مگر اپنی اولاد سے دوری اور ان کے بیگانے رویے ان کے لیے سوہان روح بن جاتے ہیں ۔
بزرگوں کے ان ہی مسائل کے لیے اسلام میں بار بار والدین سی حسن سلوک اور نرم رویے کی تاکید کی گئی ہے ۔
بزرگوں کے ان ہی مسائل کے لیے اسلام میں بار بار والدین سی حسن سلوک اور نرم رویے کی تاکید کی گئی ہے ۔
حدیث نبوی ہے کہ جو ہمارے بزرگوں کا ادب نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
بزرگ معاشرے کا وہ حصہ ہیں جس نے اپنی پوری زندگی معاشرے کے افراد کی پرورش اور تربیت کے لیے گزار دی اس کے لیے وہ بہترین سلوک کے مستحق ہیں ۔
بزرگوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنا ،ان کے آرام کا خیال رکھنا اور انکے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف ان کے نفسیاتی مسائل کو کم کرتا ہے بلکہ قوت مدافعت کو بھی بڑھاتا جس کی وجہ سے وہ ہر لحاظ سے پرسکون رہتے ہیں۔ اپنی اولاد اور بچوں کی توجہ ان کے لیے تقویت کا سبب بنتی ہے۔اس طرح وہ بیماریوں پر بآسانی قابو پاسکتے ہیں اور اپنے خاندان کی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
جن گھروں میں بزرگوں سے اچھا سلوک کیا جاتا ہے ان کی وجہ سے ہونے والی تکلیفوں کو صبر و تحمل سے برداشت کیا جاتا ہے، ان کی صحت اور آرام کا خیال رکھا جاتا ہے وہ گھر امن اور سکون کا گہوارا بن جاتے ہیں ایسے گھرانے ہی ایک بہترین ترقی یافتہ معاشرے کی پائیدار بنیاد بنتے ہیں۔















