622سن عیسوی چل رہی ہے اورسن ہجری کا آغاز ہورہا ہے۔ بچے بڑے بوڑھے سب خوشی سے بے حال ہیں۔ عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھی منتظر ہیں۔ بچیاں خوشی سے دف بجاتی گھوم رہی ہیں کہ ہر گلی کوچے سے بس یہ ہی صدا بلند ہورہی ہے۔
طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنَ ثَنِيَّاتِ الوَدَاع
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَى لِلَّهِ دَاع
أَيُّهَا المَبْعُوثُ فِينَا جِئْتَ بِالأَمْرِ المُطَاع
جِئْتَ شَرَّفْتَ المَدِينَة مَرْحبََاً يَا خَيْرَ دَاع
اور یوں اس چھوٹی سی بستی سے ایک بہت بڑے دور کا آغازہو رہا ہے۔ وہ اوس و خزرج اور وہ یہود جو کہ پچھلے کئی صدیوں سے لڑلڑ کے ایک دوسرے کو ختم کیے جا رہے تھے آج ایک ہو کر ایک نبی کا استقبال کرنے کے لیے ایک ہی صفوں میں کھڑے ہیں۔ ہر جگہ “اللہ اکبر ، محمدﷺ آگئے۔ اللہ اکبر،محمدﷺ آگئے۔”کے نعرے لگ رہے ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹنی برابر چلے جا رہی ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے کیونکہ اس کا رکنا رب کے ہاں طے ہے اور پھر چلتےچلتے دو یتیم بچوں کی زمین پر جا کر بیٹھ جاتی ہے ۔فرمایا جاتا ہے یہ زمین کس کی ہے ۔پتہ چلتا ہے کہ دو یتیم بچوں کی ہے وہ چھوٹے ہیں مفت دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرماتے اورپوری قیمت ادا کرکے زمین لیتے ہیں۔
نبی کی شان دیکھیے کتنا بڑا مرتبہ ہے کہ لوگ جان و مال نچھاورکرنے کے لیے تیار ہیں کہ لیکن رسول خدا ﷺکو یہ فکر ہے کہ جس کا حق ہے اس کو پورا ملنا چاہئے۔کوئی ایف بی ار نہیں کوئی پنامہ لیگز نہیں کوئی ائی ایم ایف نہیں جو ان سارے معاملات کو دیکھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ سارے معاملات طے کرتے ہیں اور ریاست مدینہ کی بنیاد ڈالتے ہیں۔
تھوڑا اور آگے چلتے ہیں انصار اور مہاجرین اب ساتھ ساتھ رہنے لگے ہیں لیکن یہ کیا ۔۔۔؟؟؟ حالات ابھی بھی خراب ہیں اور یوں ان حالات میں مواخات کا ایک بہت بڑا رشتہ قائم کیا جاتا ہے۔ مسجد نبوی تعمیر ہو چکی ہے اس میں سب لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے رسول خدا ﷺسب کے درمیان موجود ہیں اور سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیتے ہیں۔ صرف اسلام سے رشتے کی بنیاد پر انصار بھائیوں نے اپنی ہر چیز حتیٰ کہ بیویاں اپنے مال و دولت اپنا سب کچھ ایک بانٹ لیا ہے ۔کسی نے نہیں اعتراض کیا اورسب کچھ قربان کردیا ۔ ساتھ ہی مدینہ کے رہائشی یہودیوں کو بھی مکمل حقوق فراہم گئے کہ وہ بھی ایک اہم حصہ ہیں مدینہ کی بستی کا۔ غرض کہ سب کو تحفظ فراہم کیا گیا۔
یہاں ریاست مدینہ نے ایک عظیم معاشرے کی بنیاد ڈال دی اور مثال قائم کی کہ خون سے زیادہ دین کا رشتہ اہم ہے۔ انقلاب آگے بڑھتا ہے۔اب بھی کچھ لوگ ہیں نادار ہیں بےکس ہیں مزدوری کے قابل ہیں نہ گھر چلانے كے۔ رسول ﷺ ان افراد کے لیے اپنی رہائش کے ساتھ چبوترہ بنواتے ہیں بیت المال سے وضیفہ مقرر کرتے ہیں ۔۔۔۔ مسجد نبوی اب صرف مسجد یا مرکز نہیں بلکہ ایک درس گاہ بھی ہے جہاں تعلیم کا چرچا شروع ہوچکا ہے۔ انقلاب اب تعلیم کی مدد بھی مانگتا ہے۔ اصحاب صفہ کو یہاں سے براہ راست دین سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔اور یہ کیا ۔۔۔۔۔ مدینہ کی آباد گلیوں میں بےخوف گھومتے لوگ کچھ پریشان اور خوفزدہ ہیں۔
کچھ ہوا ہے۔کیا ہوا ہے آخر؟؟؟پتا چلا ہے کہ چوری ہوئی ہے کس نے کی ہے؟ نبیﷺ کے شہر میں چوری ،حد ہے ارے وہ تو عورت ہے۔ مسجد نبوی کی سپریم کورٹ لگ چکی ہےحضرت اسامہ کو لوگوں نے آگے کیا ۔ لیکن نہیں! حکم صادر ہوتا ہےاس عورت کو بلایا جائے۔ فرماتے ہیں کہ اگر اس کی جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کٹوا دیتا ۔۔۔۔ یہ تھا دستور ریاست مدینہ کا ، کوئی مادیت پرستی نہیں نظر آئی اور یہاں عدل و انصاف کا نظارہ پوری دنیا نے کیا عورت ہو یا مرد دونوں کی غلطی غلطی ہوگی ۔قانون کے خلاف ورزی ہوگی تو سزا بھی ملے گی تاکہ آنے والے وقتوں میں کسی کی جرت نہ ہوسکے۔ عدل عدل ہوتا ہے انصاف انصاف ہوتا ہے جو حکومت کے سربراہ کو قائم رکھنا اس کا خاصہ ہوتا ہے۔
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اور جناب بدر کا میدان آج سجا ہوا ہے ۔ کفر و باطل کا پہلا معرکہ پیش آنے والا ہے ۔ نبی ﷺ کی گریہ وزاری ختم نہیں ہورہی ۔
یا اللہ اگر آج یہ تیرے بندے کفر کے مقابل نہ کھڑے ہوپائے تو تیرا دین مٹ جائے گا”۔ریاست مدینہ کے سربراہ نبیﷺ خود لشکر کی ترتیب دیتے ہیں۔ سپہ سالار بھی ہیں اور 313 مسلمانوں کے راست رو بھی ہیں ۔جنگ شروع ہوتی ہے گھمسان کی اور مسلمانوں کی فتح مقدر ٹھہرتی ہے۔ مال غنیمت جمع ہوا بہت سارا جس کی تقسیم اللہ اور اس کے رسول کے حصےکے ساتھ ہوئی ہے۔ سب مدینہ لایا جاتا ہے 70 قیدی بھی ہیں ۔ 70 لوگ جہنم واصل بھی ہوئے ہیں ۔ لیکن خطرہ تو قیدیوں کو محسوس ہورہا ہےکہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا۔نبی رسول ﷺ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ۔کیا اپنے ہی لوگوں کو کاٹ مار دیں گے؟ کیا زندہ جلائیں گے؟ کیا جلا وطن کریں گے ۔ گناہ اتنا بڑا ہے نبی پر انگلی اٹھانے کا کہ شرم کے مارے گردن بھی نہیں اٹھتی ہے لیکن رسول ﷺ مشورہ کرتے ہیں اپنے ساتھیوں سے ۔شورائی ریاست کا اہم اصول کہ سربراہ مشاورت سے حل تلاش کرے اور فیصلہ یہ ہوا کہ جان کی امان دی جائےاور فدیہ لیا جائے۔
کیا مطلب؟ ہمیں سزائے موت نہیں دی جارہی؟ ریاست مدینہ کے اصول نرالے ہیں ۔اللہ اور اس کے رسول کا معاشرہ ہے یہاں قرآن کا فیصلہ نافذ کیا جاتاہے کوئی لبرل قانون نہیں، کوئی اشراکیت نہیں ، کوئی اور اصول نہیں بس قرآن۔۔۔۔۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے سب نے فدیہ دیا جو نہیں دے سکے انہیں بھی مسلمانوں کے لئے کارآمد بنایا گیا ۔
اور یہ کیا حدیبیہ کے مقام پر مدینہ سے آئے عمرہ زائرین کا جم غفیر لگا ہے ۔سب پروانے اپنی مشعل کے گرد اضطراب کی کیفیت میں کھڑے ہیں۔ رسول وقت ﷺ خود بھی پریشان ہیں۔ مسلمان ڈگمگا رہے ہیں ۔ کیا واقعی ہم عمرہ کئے بغیر چلے جائیں گے؟؟؟ کیا رسول اللہ عمرہ کے لئے مکہ نہیں جائیں گے ہمیں لےکر؟؟؟
اتنے میں رسولﷺ حضرت عثمان کوایلچی بنا کر مکہ روانہ کرتے ہیں لیکن اڑتی اڑتی خبر کچھ یوں آتی ہے کہ عثمان شہید کردیے گئے ہیں۔ سب غم و غصہ سے بھرے بیٹھے ہیں۔نبی ﷺوحی کا انتظار کررے ہیں کہ کیا کیا جائے ۔ بلآخر فیصلہ ہوتا ہے کہ رسولﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اور مکہ پر چڑھائی کردی جائے ۔ اتنے میں ہی ایک وفد مکہ سے آتاہے اور ایک معاہدہ طے کرتا ہے۔
واللہ ۔۔۔۔ آج کفار مسلمانوں کے پاس خود چل کر آئے ہیں معاہدہ کرنے۔10 سالہ صلح معاہدہ ہے۔ اور اللہ کی شان دیکھیے کہ ساری ہی شرطیں مسلمانوں کے خلاف جارہی ہیں لیکن رسول خداﷺ نے آنکھیں بند کرلیں اور سب شرطیں مان لیں۔ حضرت عمر کا غصہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور ادھر حضرت علی دل پر پتھر رکھے لکھے جارہے ہیں معاہدہ۔ لیکن یہ ریاست مدینہ کا نظام حکومت ہے ۔یہاں معاہدے توڑے نہیں جاتے ۔۔۔۔۔ یہاں تو جب ابوجندل خون میں لت پت زخموں سے چور مدینہ آتے ہیں تو شرط کی رو سے انہیں واپس مکہ بھیج دیا گیا کیونکہ یہ معاہدے کے خلاف ورزی ہوگی۔ صحابہ روتے رہ جاتے ہیں۔ایسے میں اللہ نے مسلمانوں کو قریبی فتح کی خوشخبری سنائی۔
کتنا مشکل تھا نا یہ وقت ۔۔۔۔۔ اپنے پیاروں کو رلتا دیکھ کر اس معاہدے پر ڈٹے رہنا لیکن یہاں ایک ایسے سسٹم کو عمل میں لایا جارہا تھا جس نے آگے چل کر مثال قائم کرنی تھی ۔
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے خلافت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی محنت مزدوری جاری رکھی تاکہ خود بیوی بچوں پالیں ۔۔۔ حکومت کے بیت المال کا روپیہ نہیں لیا ۔ مجلش شوریٰ نے طے کیا کہ خلیفہ کے لئے وظیفہ باندھا جائے تو دیکھا کہ وصال سے پہلے اتنی یہی رقم بیت المال کو واپس کردی۔ نہ کوئی منی لانڈرنگ کا کیس نہ ہی کوئی کرپشن کا ۔۔۔ صاف صاف واضح حساب کردیا بیت المال کا کہ یہ حکومت کی ملکیت ہے اور عوام کا اس پر حق ہے۔
ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر نے جب اپنے بیٹے کے کپڑے کو اپنے کپڑے کے ساتھ ملا کر کرتہ بنالیا تو عوام کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ خلیفہ وقت سے اس کی جواب طلبی کرسکیں ۔ اس وقت کی نیب اس وقت کی عوام تھی کوئی اور نہیں۔کوئی کیسز کی لائن نہیں لگی کوئی طوفان برپا نہیں ہوا بلکہ سامنے ہی کھڑا کرکے امیر وقت سے سوال کرکے فوراََ جواب پالیا۔
ایسی ان گنت مثالیں ریاست مدینہ کی وہ مضبوط بنیاد یں ہیں جن کی بدولت مدنی دور دین اسلام کا سب سے خوبصورت اور مستحکم دور گزرا۔ نبی آخر زماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عملی جدوجہد کا وہ دور جس میں یثرب مدینتہ النبی ﷺ یا مدینہ طیبہ بن گیا ۔ دنیااسلامی نظام جہاں سے اس عظیم انقلاب کاآغاز ہوا جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی ۔ عرب کا ایسا معاشرہ جہاں جہالت کے بازار سرگرم عمل تھے وہیں مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں اوس و خزرج اور یہود کے ساتھ معاہدوں کی مدد سے رسول اکرم ﷺ کی زیر نگرانی اسلام کا وہ منبع و ممبر بنی جہاں سے پوری دنیا کے لئے ایک اسلامی حکومت کا نقشہ عمل میں آیا جو خلافت راشدہ تک قائم رہا۔بلاشبہ ریاستِ مدینہ 23 سالوں کی وہ عظیم الشان محنت ہے جسے رسولﷺ نے اپنےاخلاق حسنہ سے قائم کی۔
آج کے دور کی ریاستیں اگر صرف انہیں اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئےاپنی دستور سازی کریں اور اللہ غایتنا ۔۔۔۔ اللہ کو مقصد بنائیں ، والرسول ھادینا ۔۔۔۔ رسول کو اپنا رہبر بنائیں، القران دستورنا ۔۔۔۔قرآن کو اپنا دستور بنائیں ، الجہاد سبیلنا ۔۔۔۔۔ جہاد کو راستہ بنائیں تو وہ دن دور نہیں کہ امت مسلہ کی آج یہ داغ داغ اجالا جیسی حالت درست ہوجائے اور بکھرا ہوا شیرازہ دوبارہ سے ایک ہوجائے۔ امت جسد واحد کی مانند ریاست مدینہ کے اصل کو سمجھے اور اس کو اپنانے کی کوشش کرے تو وہ دن دور نہیں جب تمام اسلامی ریاستیں صرف نام کی نہیں بلکہ حقیقتاََ اسلامی ریاستیں بن جائیں گی۔ ان شاءاللہ















