سیلاب ! اجتماعی توبہ ضروری

پاکستان میں حالیہ دنوں ہونے والی بارشوں اور سیلاب نے جس پیمانے پر تباہی مچائی ہے، وہ ہمارے اجتماعی طرزِ عمل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ خیبرپختونخواہ کے مختلف اضلاع میں کلاؤڈ برسٹ اور موسلا دھار بارشوں نے گاؤں کے گاؤں اجاڑ دیے، کھیت کھلیان بہا دیے اور سینکڑوں خاندانوں کو غم و اندوہ کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ یہ سب کچھ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سخت تنبیہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں اور غفلت سے باز آجائیں۔

قرآنِ کریم ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ جو مصیبت انسان پر آتی ہے وہ اس کے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پچھلی قوموں کے واقعات، چاہے وہ قومِ نوح ہو یا عاد و ثمود یا قومِ لوط، سب ہمارے سامنے ہیں کہ جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کو اپنا شیوہ بنایا تو ان پر آسمان اور زمین سے عذاب نازل ہوا۔ آج اگر ہم اپنی سوسائٹی پر نظر ڈالیں تو ہمیں جگہ جگہ بے حیائی، فحاشی، سود، رشوت، ظلم، جھوٹ، دھوکہ دہی اور دین سے غفلت نظر آتی ہے۔ ایسے میں ان آفات کا آنا کوئی حیرت کی بات نہیں بلکہ یہ اللہ کی غیرت اور غضب کا مظہر ہے۔خیبرپختونخواہ میں حالیہ بارشوں نے ضلع بونیر کو سب سے زیادہ متاثر کیا جہاں کلاؤڈ برسٹ کے باعث محض ایک گھنٹے میں ڈیڑھ سو ملی میٹر بارش ہوئی جس سے پورا علاقہ تباہی کی لپیٹ میں آگیا۔ شادی کی تقریبات جنازوں میں بدل گئیں اور ایک ہی وقت میں درجنوں گھروں کے چراغ گل ہوگئے۔ سوات، شنگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، باجوڑ، ایبٹ آباد اور لوئر دیر میں بھی بارشوں اور سیلاب نے قیامت صغریٰ برپا کر دی۔ مکانات زمین بوس ہوگئے، دریاوں کے کنارے بستیاں بہہ گئیں اور زمین کھسکنے کے واقعات نے مزید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اس وقت خیبرپختونخواہ کے ہزاروں لوگ بے گھر ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ معاملہ صرف خیبرپختونخواہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دوسرے حصے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

کراچی جیسا بڑا شہر بھی بارش کے ریلوں میں ڈوب گیا، جہاں ناقص نکاسی آب اور بے ہنگم آبادی نے شہریوں کے لیے عذاب کی کیفیت پیدا کر دی۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے برفانی علاقوں میں بھی بارشوں کے ساتھ ساتھ گلیشیئرز کے پگھلنے اور ندی نالوں میں طغیانی نے کئی بستیاں اجاڑ دیں۔ بعض مقامات پر گلیشیئر لیک اوٹ برسٹ نے نئی آفات کو جنم دیا جس سے شمالی پاکستان کے رہائشی بھی شدید متاثر ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون سے لے کر اب تک سات سو سے زائد افراد اس سیلابی آفت کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی اور لاکھوں متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں مکانات منہدم ہوئے، زرعی زمینیں اجڑ گئیں اور لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوئیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے اجڑے ہوئے گھرانے، یتیم ہونے والے بچے اور بیوہ عورتیں ہیں جو زندگی بھر اس حادثے کا بوجھ اٹھائیں گی۔ریسکیو ادارے، فوج اور رضاکار اس وقت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متاثرین کو خیمے، کھانے پینے کا سامان اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب تک صرف آفات کے آنے کے بعد جاگتے رہیں گے؟ کیا بہتر نہ ہوتا کہ ہم پیشگی تیاری کرتے، نکاسی آب کے نظام کو درست کرتے، دریاوں اور ندی نالوں کے کناروں پر آبادیاں بسانے سے گریز کرتے اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے؟ یہ سب ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ آفات و مصائب دراصل اللہ کی طرف پلٹنے کا پیغام ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں گناہ کھلے عام ہونے لگیں تو پھر عذاب سب پر آتا ہے، چاہے اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، اللہ کے حضور جھکیں، استغفار کریں اور آئندہ زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کا عہد کریں۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو اللہ اپنی رحمت سے اس عذاب کو رحمت میں بدل دے گا اور اگر ہم اسی طرح بے پرواہی کے ساتھ گناہوں پر ڈٹے رہے تو یہ آفات مزید بڑھ سکتی ہیں۔اجتماعی توبہ کے ساتھ ساتھ ہمیں عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے سود، رشوت، بے حیائی اور ظلم کا خاتمہ کیا جائے۔ عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جائے۔ معاشرتی طور پر ہمیں اپنی زندگی کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ماحولیاتی توازن کو درست رکھنے کے لیے درخت لگانے، دریاؤں اور ندی نالوں کو صاف رکھنے اور نکاسی آب کے بہتر نظام کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ حکمرانوں، علما اور عوام سب کو مل کر ایک نئی سمت اختیار کرنی ہوگی۔خیبرپختونخواہ اور دیگر متاثرہ علاقوں کا سیلاب ہمارے لیے ایک کھلا پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر نافرمانی کر کے کوئی قوم سلامت نہیں رہ سکتی۔ یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اللہ کے حضور جھکیں، استغفار کریں اور اپنی

زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں۔ اگر آج ہم نے توبہ کر لی اور اپنے گناہوں کو چھوڑ دیا تو امید ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے ہمیں نئی زندگی دے گا، لیکن اگر ہم نے غفلت برتی تو آنے والے دن شاید اس سے بھی زیادہ سخت ہوں۔آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں اور اپنی زندگی کے رویوں پر غور کریں۔ ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں صبر اور برداشت کا دامن بالکل ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ صرف تیس روپے کے فروٹ پر جھگڑا دو بے گناہ انسانوں کی جان لے گیا۔ یہ واقعہ ہماری اخلاقی گراوٹ اور اجتماعی زوال کی سب سے خوفناک علامت ہے۔ جب کسی معاشرے میں انسانیت کی قدر ختم ہو جائے، جہاں معمولی مالی فائدے کے لیے خون بہایا جانے لگے، جہاں زناکاری، جھوٹ، ظلم اور قتل عام ہو، تو پھر وہاں سکون اور رحمت کے بجائے عذاب ہی نازل ہوتے ہیں۔ یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا، صبر، برداشت اور انسانیت کو زندہ کرنا ہوگا، ورنہ یہ آفات بار بار ہمیں یاد دلاتی رہیں گی کہ ہم نے اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top