میں اپنی تحریروں سے مسلسل حکومت کو انتہائی تشویشناک صورتحال کی طرف نشاہدہی کررہی ہوں۔ اہلیان کراچی کے ساتھ ہونے ہونے والی مسلسل ناانصافی اندر ہی اندر یہاں کے نوجوانوں میں ایک خطرناک لاوا پکا رہی ہے۔
گزشتہ 17 سال سے کراچی پر مسلط پیپلز پارٹی کی حکومت نے جو ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ایسا تو شاید دنیا کے مقبوضہ علاقوں میں بھی نہ ہوتا ہو۔ شہر قائد آج ایک ایسے نظام کا شکار ہے جہاں جرائم نے سر اٹھا رکھا ہے، بنیادی سہولیات معدوم ہیں، اور ترقی کے نام پر صرف کرپشن کا بازار گرم ہے۔ صرف ایک مہینے میں کراچی میں 51 شہری قتل ہوئے، 199 گاڑیاں اور 3698 موٹر سائیکلیں چوری یا چھین لی گئیں، اور شہریوں سے 1542 موبائل فونز چھینے گئے۔ ٹینکر مافیا، قبضہ مافیا، اور واٹر بورڈ مافیا سمیت مختلف جرائم پیشہ افراد حکومتی سرپرستی میں کراچی پر مسلط ہیں اور ڈمپر مافیا تو کھلے عام سڑکوں پر کراچی کے ہیروں کو روندتی پھر رہی ہے۔
گزشتہ دنوں پی سی سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی میر رضا کے قتل کے بعد جس طرح تفتیش کا رخ موڑا گیا اور اسکو زبردستی خودکشی کا رنگ دے کر کیس ختم کرنے کی کوشش کی گئی وہ اہلیان کراچی کو ایک مرتبہ پھر شدید غم و غصّے میں مبتلا کرگیا۔ میر رضا علی، جو 25 سالہ آئی بی اے گریجویٹ اور وافلکس کے بانی تھے، 28 جولائی کو اپنے گھر سے چند منٹوں کے لیے نکلے تھے کہ اگلے روز ان سوختہ کی لاش گلستانِ جوہر کی جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔
جب سے لیکر اب تک پولیس اور سندھ حکومت صرف اور صرف اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی بھی طرح اس قتل۔کو خودکشی کا رنگ دے کر معاملہ ختم کیا جائے۔ سندھ حکومت اور پولیس کے مسلسل بدلتے بیانات اور یو ٹرن نے اس کیس کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ ایک جانب پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں ایک گولی کا زخم پایا گیا اور جسم کو جلانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تو دوسری جانب میڈیکل ٹیم کی ہیڈ ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ میر رضا کو پیٹھ سے گولی ماری گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سی سی ٹی وی میں مشکوک موٹر سائیکل سوار، تین گاڑی سوار اور ایک شخص رضا کی گمشدگی کے اگلے دن بھاری بورا اٹھائے عین اسی جگہ نظر آیا۔ ان ثبوتوں کے باوجود پولیس کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔ مقتول کے والد نے ایک مشتبہ گیسٹ ہاؤس کی بھی نشاہدہی کی تھی جو ٹارچر سیل کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
ابتدائی طور پر عدالت نے مقتول کے میڈیکل اگزامینیشن کے لئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا، مگر رات گئے اچانک اسے تبدیل کرکے پانچ رکنی بورڈ بنا دیا گیا اور کراچی کے بجائے جامشورو کے ڈاکٹر بورڈ میں شامل کر دیے گئے۔ والد میر حسین علی نے اس نئے بورڈ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف عدالت کے مقرر کردہ آٹھ رکنی بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس واقعے سے ہی منسلک کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے ایک اور بھیانک ظلم کی طرف ۔۔۔۔
کراچی کے نوجوانوں سے سرکاری نوکریاں تو چھین ہی کی گئی ہیں۔ اب کراچی کے نوجوانوں کے پاس دو ہی آپشن رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ ملک چھوڑ کر اپنی قیمتی صلاحتیں کسی اور ملک کو پیش کریں یا کراچی میں رہ کر چھوٹی موٹی نوکری یا کاروبار کرنے کی کوشش کریں۔ اس وقت کراچی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد جاب اور کاروبار کے ساتھ فری لاننسنگ اور کرپٹو ٹریڈنگ بھی کررہی ہے۔
اب زرا سنیں کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔
گزشتہ تین سالوں سے کراچی سے ڈیجیٹل کرنسی میں ٹریڈنگ کرنے والے نوجوانوں کو اغواء کیا جارہا ہے۔ ان سے گن پوائنٹ پر انکی ساری کمائی انکے ڈیجیٹل والٹ سے دوسرے میں ٹرانسفر کروالی جاتی ہے۔ اپریل 2026 میں گلستانِ جوہر کے ایک 18 سالہ نوجوان کو اغوا کر کے اس کے اکاؤنٹ سے 8,600 ڈالر منتقل کیے گئے۔ جولائی 2026 میں ایک اور کرپٹو ٹریڈر کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے 600,000 ڈالر سے زائد کی رقم منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی سینئر صحافی اس سنگین صورتحال پر پروگرام بھی کر چکے ہیں۔ معروف ٹریڈر ارسلان ملک نے بھی ایک سال پہلے ایک پوڈکاسٹ میں اس ظلم کی نشاندھی کی۔ ان کو دسمبر 2024 میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کر کے 9 کروڑ روپے سے زائد کی کرپٹو کرنسی لوٹی گئی۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے ایک افسر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ جس طرح ڈیجیٹل اثاثوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ کوئی عام چوری نہیں بلکہ منظم اور پیشہ ورانہ کارروائیاں ہیں، جن میں مجرمان کو متاثرین کی مکمل معلومات اور نقل و حرکت کا علم ہوتا ہے۔
صورتحال یہ بن گئی ہے کہ اہلیانِ کراچی کی جان و مال کو سڑکوں اور گلیوں پر تو لوٹا ہی جارہا تھا مگر اب محسوس ہو رہا ہے کہ کراچی پر مسلط طاقتوں کو کسی بھی ذریعے کراچی کا مضبوط ہوتا نوجوان پسند نہیں۔ کوئ خفیہ طاقت کراچی میں ترقی اور خوشحالی کا ہر راستہ ختم کرکے اہلیان کراچی کو ایک بند گلی میں پہچانا چاہتی ہے۔
یہ نفرت ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
سازش ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
یا تعصب؟
بات سمجھ سے بالاتر ہے!!!!
یہی وجہ ہے کہ میر رضا قتل کے بعد نوجوان میر رضا کے لئے نہیں بلکہ خود اپنے لئے نکل رہے ہیں۔ یہ غم و غصہ ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر چکا ہے جو اب پھٹنے کے در پہ ہے۔ اس وقت کراچی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس قتل کو شاہزیب خان کیس کی طرح بند ہونے نہیں دیں گے۔ قاتل چاہے جتنا بھی بارسوخ ہو اب ہمیں انصاف چاہیئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
انصاف نہ ملا تو یہ شہر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج دیکھے گا، جس کی آگ سے کوئی بھی طاقت محفوظ نہیں رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















