یہاں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں

رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ
کبھی ڈگمگائی کشتی، کبھی کھو گیا کنارہ

سنتے ہیں کہ موت مرنے والے کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں اس نے مرنا ہو۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔اور کیا کہیں ان کیمرہ مین حضرات کو کہ جو پورا گھنٹہ ویڈیوز اور تصاویر بناتے رہے۔ان کا کیا جگرا ہے کہ وہ اتنے اندوہناک مناظر کو دیکھتے رہے۔۔۔اور ڈوبتوں کو بچانے کے ٹھوس عملی اقدامات نہ اٹھائے۔خاص طور پر پہلے آدھے گھنٹے میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا کیونکہ اس وقت پانی کے بہاؤ میں اتنی تیزی نہ تھی۔جوں جوں بہاؤ میں شدت آتی گئی توں توں ریسکیو مشکل سے مشکل ترین ہوتا گیا۔

محسوس کریں تو کیا بے بسی اور بے چارگی کا عالم ہو گا پورے خاندان کا جو ایک ایک کر کے پانی کی تندو تیزموجوں کی نذر ہو گیا۔۔۔وہ زمین سے پاؤں اکھڑنا اور ہاتھ چھوٹ کر ایک دوسرے سے جدا ہونے کی اذیت موت سے پہلے موت تھی۔

دریاؤں اور سمندر پر اکا دکا واقعات تو ہوتے ہی تھے لیکن ان واقعات کا تسلسل اور زیادہ لوگوں کا حادثات کا شکار ہونا بہت بڑا المیہ ہے ۔
کسی بھی جمہوری ملک میں جہاں جگہ جگہ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہو وہاں ریسکیو کے انتظامات اتنے مہنگے ہیں کہ انسانی جانوں کو بچایا نہ جا سکا؟ہیلی کاپٹر تو دور کی بات ہے چند رسے،سیفٹی جیکٹس،ماہر تیراکوں کی ٹیم اور مضبوط کشتیوں کا انتظام تک نہ ہو سکنا پاکستانی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے ۔۔خاص طور پر اس واقعہ کو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ 2022 والے 5 اشخاص کے پانی میں بہہ جانے والے واقعے سے سبق سیکھا جا سکتا تھا۔

لیکن جناب یہ پاکستان ہے۔یہاں انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں ۔۔۔حکومتیں چند مذمتی بیان دے کر فارغ ہو جاتی ہیں لوگ کچھ دن شور مچاتے ہیں پھر سب کے لیے سب کچھ نارمل ہو جاتا ہے۔
لوگ اپنے حقوق کے لئے خود جدوجہد کرتے ہیں نہ کرنے والوں کا ڈھنگ سے ساتھ دیتے ہیں۔

سیلاب کے دنوں میں جماعت اسلامی کے ورکرز نے اپنی جانوں پر کھیل کر عوام کو ڈوبنے سے بچایا۔ویڈیوز وائرل ہوئیں۔۔۔لیکن جو ہونا چاہیے تھا وہی نہ ہوا۔۔۔یعنی سیلاب کے بعد ہونے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کو اکثریت سے جتوانا۔زلزلہ ہو یا سیلاب،مسئلہ عوامی ہو یا بین الاقوامی “الخدمت فاؤنڈیشن” کی خدمات بے مثال ہیں ۔لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ووٹ پھر انہی گھسی پٹی پارٹیوں کو دیتے ہیں جنہوں نے عوامی مسائل کو ہمیشہ نظر انداز کیا ۔

آخر میں حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ
اور کچھ نہیں تو ایسے سیاحتی مقامات پر بڑے بڑے بل بورڈز پر حفاظتی اقدامات کے نکات لکھ کر عوامی شعور بڑھایا جائے۔
جہاں جہاں پانی کے اچانک آ جانے کا خطرہ ہو وہاں لوگوں کو کسی قیمت نہ جانے دیا جائے۔
مقامی انتظامیہ کو ہر سال سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی حفاظت سے متعلقہ امور پر بریفننگ دی جائے۔
ہر سیاحتی پوائنٹ پر ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو جو پوری قوم کو دکھ کے عمیق گڑھوں میں چھوڑ گیا۔
کچھ رقم عوام کی جانیں بچانے پر خرچ ہو جائے گی تو حکومتی عیاشی میں کوئی کمی نہ آئے گی۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top