غیر کی غلامی

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
توجھکا جب غیر کے آگےنہ من تیرا نہ تن
شاعر مشرق علامہ اقبال کی تمام شاعری میں کوئی نہ کوئی پیغام پوشیدہ ہے اور ہر شعر دوسرے سے آگے ہی ہے یہ مزکورہ بالا شعر علامہ اقبال کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو مجھے بچپن سے ہی بہت پسند تھے اور اکثر میری زبان پر رہتے تھے لیکن اس وقت میں اسکے اس مطلب سے ناواقف تھی جو شاعر کا مقصد تھا ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معنی اور تشریح سمجھ میں آتے گئے۔آج سوچتی ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ شعر اُمت مسلمہ کی موجودہ حالت کی ترجمانی کر رہا ہے۔

تمام اسلامی ممالک پر اورانکی ستاون ممالک کی فوج پر نظر ڈالیں یوں لگتا ہے سب بکے ہوئے ہیں ،آزاد ہوتے ہوئے بھی’’غیروں‘‘ کی غلامی کے لئے مجبور ہیں یا انکی دوستی کا دم بھر رہے ہیں اور بے چوں چرا انکے ہر حکم پر سر تسلیم خم ہونے پر مجبور ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کا شاندار ماضی گواہ ہے کہ مسلمان بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے نہ کبھی جھکے اور نہ پیچھے ہٹے مسلمانوں کا امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ غیرت اور عزت سے جینے کو ترجیح دیتے ہیں نہ کہ یہود ونصاری اور کفار کی تابعداری اور غلامی کو کیا میں غلط کہہ رہی ہوں ؟؟ آج ہماری مقدس سرزمین فلسطین ان یہود ونصاری کے نشانے پر ہے اور ہم خاموش تماشائی، افسوس بے حد افسوس –

گزشتہ تقریباً دو سالوں سے ارض مقدسہ اور وہاں کے جرآت مند مجاہدین کو آفرین اور سلام جو نہتے ان ظالموں کے نشانے پر امت مسلمہ کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہے ہیں ، جبکہ اب تو وہ امت مسلمہ سے نا امید ہوچکے ہیں ۔

مسلمانوں کی اس بے حسی اور خاموشی پر یہ وحشی درندے مزید منہ زور بھیڑیوں کی طرح معصوم اہل غزہ پر مسلسل حملہ آور ہورہے ہیں،خصوصاً اہل غزہ پر یہ موجودہ حملہ سب کو اشکبار کر گیا ہے ان معصوم بچوں کی خون میں لت پت فضا میں اڑتی ہوئی لاشیں اپنے رب کو پکار رہی ہیں کیونکہ ہمارے حکمران تو ان بھیڑیوں کی غلامی کے آگے بے بس ہیں انہیں یہ چیختی پکارتی لاشیں بھی جھنجھوڑنے سے قاصر ہیں۔

آج اگر شاعر مشرق علامہ اقبال ہمارے درمیان موجود ہوتے تو یقینا ہماری اس حالت پر شرمندہ ہو جاتے کہ میری شاعری صرف کاغز تک ہی محدود رہ گئی ہے ان غلامی میں جکڑے تخت نشینوں کو ارض مقدسہ اور وہاں کے باسیوں سے کیا سروکارہم بے حس ہوچکے ہیں۔

افسوس ہمیں کوئی بھی قلندر جھنجھوڑنے کی کوشش بھی کرے تو ہم شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔کیونکہ اگر یہ غیرت مند ہوتے تو کفار کے ان حملوں سے فضا میں اڑتی انسانی لاشیں انہیں ضرور جھنجھوڑ کر بیدار کرتی ،، لیکن افسوس بے حد افسوس وقت ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے لیکن یہ اپنی غلامی کی مالا چن رہے ہیں اپنے آقاؤں کی قدم بوسی میں مصروف ہیں ،ان غیروں کے آگے جھکنے اور غلامی کرنے کی وجہ سے نہ ان سے امت مسلمہ خوش اور نہ ہی اللہ۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top