جماعت اسلامی پاکستان نے ادب اور فن شاعری ثقافت کو مہمیز دینے کے لیے ہمیشہ مکمل اور مختصر اور موقع کی مناسبت سے ادبی نشستوں کا انعقاد کیا ہے بھلایہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اجتماع عام کا موقع ہو اور ادبی نشست نہ ہو اسی موقع مناسبت سے ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا رات اٹھ بجے ادبی نشست شروع ہوئی۔
22 نومبر 2025 کو مینار پاکستان کے عقب میں منی اسٹیڈیم میوزیم میں منعقد ہونے والی ادبی نشست میں سندھ کی معروف ناظمہ عطیہ نثار، دردانہ صدیقی، صحافی صوفیہ یزدانی، صائمہ اسماء اور مصنفہ قانتہ رابعہ نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت سے ہوا، جس کے بعد ممنوع کتب کی مصنفہ قانتہ رابعہ نے اپنا افسانوی کلام پیش کیا۔
یونیورسٹی کی لیکچرار اور 2کتب کی مصنفہ قدسیہ ملک نے اجتماع عام کی مناسبت سے جذبوں کو گرماتی اپنی تحریر سامعین کے سامنے پیش کی جسے سامعین نے تالیاں بجا کر داد پیش کی، جبکہ صوفیہ یزدانی سمیت دیگر مصنفین نے باری باری اپنی تخلیقات سے محفل کو روشن کرتےرہے عالیہ شمیم مشکلات کے سبب قبل از وقت کراچی روانہ ہو گئی تھیں، لہٰذا میزبانی کے فرائض صائمہ اسماء نے انجام دیے جو ادارہ بتول کی مدیرہ اور پروفیسراور شاعرہ بھی ہیں ۔
ادبی نشست میں محترمہ آسیہ راشد، ڈاکٹر رخسانہ جبین، بشری تسنیم، قدسیہ ملک ، ڈاکٹر ثمینہ روحی،محترمہ اسری غوری، سعدیہ حمنہ سمیت بہت سی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، ودیگر ہستیاں موجود تھیں۔
یہ ادبی محفل رات گئے تک جاری رہی اور شرکاء نے اسے بے حد پسند کیا۔ پروگرام میں پیش کی جانے والی تحریریں اور گفتگو نے سماجی و فکری موضوعات پر روشنی ڈالی اور ادبی ذوق کو روشناس کرایا۔یہ نشست ادب و ثقافت کے فروغ کے سلسلے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور ادبی مباحثے نے حاضرین کو متاثر کیا۔ پروگرام کی ترتیب، مہمانوں کی شرکت، اور محفل کا پر اثر ماحول اس موقع کے وقار کو بڑھانے کا باعث بنے۔















