تعلیمی چھٹیوں کے موسم میں تنظیم اساتذہ پاکستان کراچی یونٹ نے گلشن ایوب، ابو الحسن اصفہانی روڈ واقع اسکاؤٹنگ کلب سینٹر میں ایک یادگار یوتھ پروگرام کا انعقاد کیا۔ یہ “ینگ لیڈر فورم” اور اسکاؤٹنگ کیمپ کا مشترکہ پروگرام صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا، جس میں 7 سے 19 سال کی عمر کی درجنوں طالبات نے نیو کراچی ٹاؤن، گلستان جوہر اور مختلف نجی و سرکاری اسکولوں سے بھرپور شرکت کی۔ اسکاؤٹنگ کلب کی خوبصورت اور سہولتوں سے مالا مال جگہ نے پروگرام کو مزید دلچسپ بنا دیا، جہاں طالبات کا جوش و جذبہ پورے ماحول کو جگمگا اٹھا۔
پروگرام کا پس منظر اور مقاصد
تنظیم اساتذہ پاکستان، جو قومی سطح کی ایک معتبر تعلیمی پروفیسر ڈاکٹر اسکالرز اور سرکاری اسکولوں کی معلمات کی تنظیم ہے، نے اس پروگرام کو اپنی سالانہ سرگرمیوں کا حصہ بنایا۔ مرکزی کاوش رکن تنظیم اساتذہ کراچی صبیحہ غوری کی تھیں، جو اسکاؤٹ لیڈر، ینگ لیڈر فورم اور اسکاؤٹ تھنک سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ایک ماہ سے جاری ملاقاتوں، گروپ میسجز اور دعوتیں دے کر اراکین اور ذمہ داران کو متحرک کیا۔ تمام اراکین کراچی نے خصوصا سینیئر اراکین کراچی نے اس پروگرام کی بھرپور دعوتیں دی۔ جبکہ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ 28 تاریخ کو ہی اراکین کراچی خصوصا صدر کراچی نادرہ نوید مرکزی رکن تنظیم اساتذہ پاکستان پروفیسر حمنہ نشتر اور قدسیہ ملک نشرواشاعت کراچی لاہور مرکزی سالانہ اجلاس سے واپس ائے تھے۔ لیکن اس پروگرام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان اراکین نے اپنی تکالیف سفری تھکن اور تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اس پروگرام کے لیے اپنی تمام کوششوں کو بروئے کار لا کر اس پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوان لڑکیوں میں قائدانہ، تخلیقی اور سماجی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ نہ صرف تفریحی سرگرمیاں تھیں بلکہ خود انحصاری، صفائی ستھرائی، قومی مسائل پر آگاہی اور محدود وسائل میں کام کرنے کی تربیت کا پلیٹ فارم بھی ثابت ہوئیں۔ معاشرتی مسائل جیسے صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور قومی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے طالبات کو فعال شہری بنانے کی کوشش کی گئی، جو میڈیا سٹڈیز کے تناظر میں بھی انتہائی اہم ہے –،جہاں میڈیا عوامی شعور کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سرگرمیاں اور طالبات کی شرکت
پروگرام کا شیڈول متنوع اور پُرجوش تھا۔ صبح 9 بجے سے شروع ہو کر طالبات نے تقریر، ڈرامہ، پینٹنگ، آرٹ اینڈ کرافٹ، فٹ بال، ڈبیٹ، کھیل اور تخلیقی ورکشاپس میں حصہ لیا۔ خاص طور پر سماجی و ملکی مسائل پر مبنی پینٹنگز اور تصویری خاکے طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظہر بنے، جہاں انہوں نے رنگوں سے بھرپور شاہکار تخلیق کیے۔ اسکاؤٹنگ کی روایتی سرگرمیوں، کھیلوں اور تفریحی پروگراموں نے ماحول کو گرم جوشی سے بھر دیا۔ دوپہر کے کھانے میں بریانی سمیت لذیذ ڈشز کا انتظام نے بھی طالبات کی خوشی دوبالا کر دی۔ طالبات کی بڑھ چڑھ کر شرکت نے ثابت کیا کہ لڑکیاں قیادت اور تخلیقی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ یہ منظر نہ صرف دلچسپ تھا بلکہ لڑکیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی عمدہ مثال بھی پیش کر رہا تھا۔
ممتاز سخنبرداروں کے خطابات اور پیغامات
پروگرام میں تنظیم اساتذہ پاکستان کی ممتاز اراکین نے طالبات سے خطاب کیا۔ صبیحہ غوری نے مرکزی خطاب میں کہا: “آپ کو اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہیے، اپنے ملک کو مضبوط بنانا چاہیے اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی پر انحصار نہ کریں، محدود وسائل میں کام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔” نادرہ نوید، صدر کراچی، محترمہ حمنہ نشتر، ڈاکٹر افشاں عنایت (شعبہ نشر و اشاعت سندھ کی صدر) اور قدسیہ ملک (شعبہ نشر و اشاعت کراچی کی صدر) نے طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور قومی مسائل پر آگاہی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان خطابات نے طالبات میں خود اعتمادی، ذمہ داری اور فعال کردار کا جذبہ پیدا کیا، جو میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے۔
اختتام اور مستقبل کی راہیں
شام 5 بجے اختتام پر تمام شریک طالبات کو سرٹیفکیٹس اور انعامات تقسیم کیے گئے، جن کی کاوشوں کی داد دی گئی۔ تنظیم اساتذہ پاکستان اور ینگ لیڈر فورم نے اعلان کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے مقابلوں، ورکشاپس اور کیمپس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ پروگرام تعلیمی، تفریحی اور سماجی تربیت کا شاندار نمونہ ہے، جو نوجوان نسل کو مثبت سمت دیتا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی بااختیار بنانے میں اس کی مدلل اہمیت ہے، جو معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہے۔ تنظیم اساتذہ جیسی ادارے میڈیا اور کمیونٹی تربیت کے ذریعے ایسے پلیٹ فارمز فراہم کر رہے ہیں، جو مستقبل کے لیڈرز تیار کریں گے۔ ان شاءاللہ















