فتحِ مکہ 20 رمضان المبارک، سن 8 ہجری کو ہوئی، اور یہ دن اسلام کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے دنیا کو دکھایا کہ طاقت صرف جسمانی نہیں، بلکہ ایمان، حکمت، اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ہے۔
مسلمانوں نے اس دن اپنی جانوں کی قربانی دی، اپنی لگن اور عزم سے دشمن کے دلوں پر قبضہ کیا۔ مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آپ ﷺ نے انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ لمحہ یادگار ہے جب آپ ﷺ مکہ کے اندر داخل ہوئے اور ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے برسوں تک مسلمانوں کو تکالیف دیں، اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور دلوں میں خوف اور نفرت ڈالی۔ آپ ﷺ کی یہ درگزر اور عاجزی اسلام کے حقیقی تشخص کی نمائندگی کرتی ہے—رحمت، انصاف، اور محبت کے ساتھ طاقت۔
آپ ﷺ نے اپنی دھاک جمانے کے لیے جنگیں بھی کیں، مگر ہر قدم اصول اور ایمان کے ساتھ اٹھایا۔ آج وقت ہے کہ ہم بھی اسی بہادری کا ثبوت دیں۔ وہی عزم، وہی حوصلہ، وہی لگن ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں عدل، اخلاق اور سچائی کے لیے کھڑے ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے جڑیں اور اپنے مقصد کو پہچانیں مسلمان اپنے تشخص کو بھلا کر مادی چیزوں کے پیچھے لگ کر اپنی عزت دنیا و اخرت میں خراب کی ہے اس لیے ہر جگہ مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہے۔فتح مکہ مسلمان کے اصل تشخص کی علامت ہے جو بہادری بھی اختیار کرتا ہے تو اپنے کردار کو زندہ کرنے کے لیے: حقیقی فتح وہ ہے جو دلوں کو فتح کرے، اور وہی مسلمانوں کی اصل پہچان ہے۔ آج بھی وہ بہادری اور عظمت ہمارے دلوں میں موجود ہے—بس ہمیں اسے پہچاننا اور زندہ کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















