پٹرولیم لیوی نا منظور

​آج کل مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ ایک طرف روٹی، دال اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، تو دوسری طرف پٹرول اور بجلی کے بلوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ ایسے میں جب حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات پر مزید لیوی اور ٹیکسز کی خبر آتی ہے، تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ کراچی میں ہونے والا “پٹرولیم لیوی نا منظور” دھرنا اسی پسے ہوئے طبقے کی آواز ہے، جو اب مزید بوجھ اٹھانے سے انکاری ہے۔

دیکھنا تم ایک دن!! انقلاب آئے گا
گلیوں سے بازاروں سے انقلاب آئے گا
چوکوں سے چوراہوں سے انقلاب آئے گا
تعلیمی اداروں سے انقلاب آئے گا
دیکھنا تم ایک دن انقلاب آئیے گا
مہنگائی کا نیا طوفان اور پٹرولیم لیوی

​پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں ہے، یہ ہماری معیشت کا پہیہ ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے، تو اس کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے۔

  • ​ٹرانسپورٹ اور کرایے: بسوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرایے بڑھ جاتے ہیں، جس سے روزانہ سفر کرنے والے مزدور اور ملازم پریشان ہوتے ہیں۔
  • ​اشیائے خوردونورد: سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، اور دکاندار چیزیں مہنگی فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے۔
  • ​کاروبار اور صنعتیں: چھوٹے دکاندار اور کارخانے والے پہلے ہی مہنگی بجلی کے ستائے ہوئے ہیں، اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ان کا روزگار بھی ٹھپ ہونے لگتا ہے۔

​ایسے حالات میں پٹرول پر مزید لیوی عائد کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

​کراچی دھرنا: عوام کا پرامن احتجاج:

​کراچی، جو اس ملک کا معاشی دل کہلاتا ہے، ہمیشہ سے محنت کشوں اور باشعور لوگوں کا شہر رہا ہے۔ جب مشکلات حد سے بڑھ جاتی ہیں، تو کراچی کے لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ “پٹرولیم لیوی نا منظور” کے تحت ہونے والا یہ دھرنا کسی ایک شخص یا جماعت کا نہیں، بلکہ ہر اس شہری کی آواز ہے جو دو وقت کی روٹی عزت سے کمانا چاہتا ہے۔

​یہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ جب جیبیں خالی ہوں اور پیٹ پر روزانہ پتھر باندھنے پڑیں، تو احتجاج ہی وہ واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جس سے حکمرانوں کے کانوں تک آواز پہنچائی جا سکے۔

​ہماری ذمہ داری اور حل:

​حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو سمجھے۔ عوام پر مزید ٹیکس لگانے اور پٹرولیم لیوی کے نام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے، شاہانہ اخراجات روکے جائیں اور عام آدمی کو ریلیف دیا جائے۔

​عوام اب مزید قربانیاں دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ وقت ہے کہ پالیسی ساز ہوش کے ناخن لیں اور پٹرولیم لیوی کے اس ظالمانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لیں، تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو سانس لینے کا موقع مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top