وہ صبح گھر سے نکلا تو شہر کراچی میں حسبِ معمول زندگی رواں دواں تھی ۔نکلنے سے پہلے حسب معمول ماں سے فرمائش ۔بیوی سے رات کھانے کا مینواور بیٹی سے چھیڑ چھاڑ کرکے باپ کو سلام کر کے نکلا تھا ۔ راستے میں گاڑیوں کا شور ۔چائے بیکری حلوہ پوری کی دکانیں۔ اسکول جاتے بچے غرض زندگی جاگ رہی تھی
چائے کے کھوکھے گرم تھے،
خواب جیب میں رکھ کر لوگ روزی کے تعاقب میں نکلے تھے۔
کسے معلوم تھا کہ یہ آخری دفعہ ہے۔دن کہاں گذرا پتا نہ چلا
شام ہونے سے پہلے
گل پلازہ میں آگ نے جنم لیا—
اور چند لمحوں میں
انسانوں کو خبر بنا دیا۔
گل پلازہ کی آگ نے
صرف ایک عمارت کو نہیں جَلایا،
اس نے سہاگنوں کی مانگ،
ماؤں کی گود، بہنوں کے خواب
اور بچوں کے ارمان سب راکھ کر دیے۔
تڑپتی سہاگنیں
جن کی کل تک دنیا ایک نام سے آباد تھی،
آج اسی نام کو پکارتے پکارتے
خود خاموش ہو گئیں۔
بلکتی مائیں
جو بیٹوں کو دعاؤں میں لپیٹ کر رخصت کرتیں
آج ملبے میں بیٹھیں نوحہ کناں
اپنے رب سے شکوہ کر رہی تھیں
یا شاید اپنے نصیب سے۔
اور جھکے کندھوں پر اٹھتی جوان لاشیں—جو گھر کے واحد کفیل بہنوں کی شادیوں،بھائیوں کی فیس ،ماں باپ کی دوائیں ۔مالک مکان کو کرائے اور لامتناہی مسائل سے نبروآزما ۔اپنے کام پر نکلے ۔قسمت کی ستم ظریفی کا شکار ہو گئے تھے منجمد نظروں سے آسمان کو تک رہے تھے
ایسے لگ رہا تھا جیسے شہر میں ہر جانب سوگ ہو
یہ حادثہ نہیں تھا۔
یہ غفلت، لاپرواہی اور مسلسل بےحسی کا منطقی انجام تھا۔
بند دروازے،
ناقص حفاظتی انتظامات،
اور وقت پر نہ پہنچنے والی مدد
کم وسائل ۔
ہر شعلے میں شریک تھی۔
اور پھر!
حسبِ روایت
بیانات آئے۔
افسوس کا اظہار ہوا۔
انکوائری کا اعلان ہوا۔
مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا
کہ یہ سب پہلے کیوں نہ کیا گیا؟
کہ جانیں بچانا کب ترجیح بنے گا؟
کب انسان کی قیمت کب بڑھے گی؟
حکمرانوں کی بےحسی
اس آگ سے زیادہ سفاک تھی
جس نے لوگوں کو گھیر لیا۔
اور عوام کی بےبسی
ان چیخوں سے زیادہ گہری
جو دیواروں میں دب گئیں۔
یہ شہر ترقی نہیں مانگ رہا۔
یہ بلند و بالا منصوبے نہیں چاہتا۔
کراچی صرف اتنا کہہ رہا ہے:
ہمیں جینے دو۔
ہمیں محفوظ عمارتیں دو۔
ہمیں ذمہ دار نظام دو۔
ہمیں انسان سمجھو،
اعداد و شمار نہیں۔
اگر آج بھی ہم نے
اس راکھ سے سبق نہ سیکھا،
تو کل کسی اور عمارت کا نام ہوگا،
کسی اور ماں کی چیخ،
کسی اور سہاگن کی تڑپ
اور ہم ایک نیا عنوان دے دیں گے:
ایک اور سانحہ۔
مگر مطالبہ وہی رہے گا:
جینے دو کراچی کو،
جینے دو عوام کو،
جینے دو انسانوں کو۔
گل پلازہ کی راکھ سے اٹھتی ہوئی وہ صدا ہے
جو سناٹے کو چیرتی تو ہے،
مگر ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















