وطن سے الفت

میرا وطن پاکستان ہے۔ میرا وطن عظیم ہے۔ میری سرزمین مقدس ہے۔ اس چمن کے سارے مکین صرف اور صرف پاکستانی ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب، کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، اور سب سے بڑھ کر میرا وطن آزاد ہے۔ 14 اگست اس کی آزادی کا دن ہےاور آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی زبوں حالی کا شکار ہے، ہر طرف مایوسی ہے۔ ملک میں بحران کی سی فضا ہے۔یہ وطن ہمارا گھر ہے اور گھروں کو محبت سے پیار سے بنانے کے بعد انھیں سینچا جاتا ہے، تراشا جاتا ہے۔ گھر میں بدحالی آجائے تو گھر سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آندھی آئے یا طوفان، اپنے گھر کو چھوڑا نہیں جاتا۔

یقیناً آج غربت، مہنگائی، قتل وغارت کے ساتھ ساتھ روز بروز بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے اس وطن کا ہر باسی پریشان ہے، تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے،سالانہ اربوں روپے کی کرپشن ہے۔

اس صورتحال میں یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ وطن کی پاسبانی کی داستانیں ہم کیا رقم کریں گے مگر !

آئیے ! چند لمحوں کے لیےتاریخ کے جھروکوں سے آزادی کی خاطر قافلوں کو لٹتے دیکھتے ہیں، گھروں کو جلتے دیکھتے ہیں، بوڑھوں اور جوانوں کو قربان ہوتے دیکھتے ہیں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمتوں کو لٹتے دیکھتے ہیں۔ کیا یہ لازوال قربانیاں ہمیں اپنے وطن سے الفت ومحبت پر مجبور نہیں کرتیں۔؟ یاد رکھیں آزادی کے چراغ ہمیشہ خون سے جلتے ہیں۔ جوانوں کے لہو، بہنوں کی عصمتیں، ماؤں کے سہاگ نے اس وطن کی آزادی کا تاوان دیا ہے۔

ذہن کا در بند رکھو گے تو گُھٹ جائے گا دم
کھڑکیاں کھولو گے تو تازہ ہوا بھی آئے گی

ہم میں سے ہر شخص جذبہ حب الوطنی رکھتا ہے۔ آج پاکستان بےشمار مسائل سے دو چار ہے اسکے باوجود ہمارے حوصلے بلند ہیں ترقی کی خواہش اور جذبہ تعمیر ہم میں اب بھی بیدار ہے۔۔
اس وطن میں ایسے نڈر اور دلیر سپوت بھی ہیں جو اپنے ہم وطنوں کے حق کیلئے ہمیشہ سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔

اگر ہم اپنے کردار، اپنی ذات، اپنی سوچ، اور اپنے رویئے کوایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے نبھائیں تو خامیاں خوبیوں میں بدل سکتیں ہیں۔ ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جنھیں بدقسمتی سے ہمیشہ نااہل اور جاگیردارانہ قیادت کا سامنا رہا کیونکہ قیادت خلوص کی دعویدار ہےاور عوام سے پرخلوص قیادت تحفہ خداوندی ہے۔ قیادت کو لانے والے ہم ہی وہ اکثریت عوام ہیں جنکی وجہ سے نااہل لوگ اقتدار پر براجمان ہیں۔

سوچئے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سب ہی کسی نہ کسی طرح ان سارے حالات کے ذمہ دارہیں۔۔
اپنے دین کی پاسداری ہم پر فرض ہے تو اپنے وطن سے وفاداری بھی نبھانی ہے۔۔

آزادی کا دن بلاشبہ خوشی کا دن ہے، ایک نعمت ملنے کا دن ہے۔ اور خوشیوں کے ان دنوں میں ہمیں ناامید نہیں ہونا، ہمیں کامیابی مل سکتی ہے، دفاعی جرآت مل سکتی ہے، معاشی استحکام مل سکتا ہے۔ خزاں ضرور ہے لیکن ہم اس خزاں کو بہار میں بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن سے الفت
میرے اپنوں کا لہو شامل ہے اس مٹی کے تلے

مزید پڑھیں

Scroll to Top