حُبِ رسولﷺ کے تقاضے

سرور دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے آخری نبی اور ختم نبوت کی مہر ہیں۔پیارے نبیﷺ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گۓ۔ان کی پیداٸش اور بعثت کا مقصد دنیا میں چاروں طرف پھیلے گمراہی اور جہالت کے اندھیروں کو مٹا کر ہدایت اور سچاٸی کی روشنی پیدا کرنا ہے۔

پوری دنیا اور خاص کر کے عالم عرب بری طرح سے گناہوں کے دلدل میں پیوستہ تھا۔نہ حقوق کی حفاظت تھی اور نہ ہی انسانی جانوں کا تقدس۔ایسی حالت میں پیارے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے دنیا ستاروں کی مانند چمکی اور پھر بعثت کے بعد سرکار دو عالم حضرت  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فراست، داناٸی اور  قاٸدانہ صلاحیتوں کے بدولت اللہ کے پیغام کو اس طرح دنیا تک پہنچایا کہ لوگ ان کے گرویدہ ہونے لگے۔ اس دوران مخالفتیں بھی سامنے آٸیں،لوگوں کے تلخ رویہ اور بے اعتناٸی بھی دیکھنے کو ملی مگر پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلمم نے ہمت نہ ہاری اور پھر ان کی محنت کا صلہ فتح مکہ کی صورت میں ان کو ملا جب پورا عرب ان کا تابع ہوگیا لیکن کمال اخلاق کی اعلی مثال کہ ایسی شاندار فتح کے باجود بھی پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ذرہ برابر غرور و تکبر نہیں بلکہ عاجزی و انکساری کے کے ساتھ مکہ میں داخل ہورہے ہیں اور سبھی کے لیے معافی کا عام اعلان کر رہے ہیں۔
ایسی پاک اور پیاری ہستی،پیارے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنھوں نے اپنی اُمت کے لیے اتنی صعوبتیں برداشت کیں،راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس امت کی بھلاٸی اور ہدایت کی دعاٸیں مانگیں، کی محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔ اور یہ تقاضے صرف زبانی نہیں بلکہ عملی ثبوت مانگتے ہیں۔

زبانی طور پر اقرار کرلینا کہ ہمیں سب سے زیادہ محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن عمل و کردار کی بات آۓ تو قول و فعل میں واضح تضاد محسوس ہوتا ہے۔

کسی بھی انسان سے محبت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس انسان کی خوشی کا خیال رکھے۔جو اس کو پسند ہو وہ کام کیے جائیں، اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا جاۓ۔اس کی محبت آپ کے انداز سے، آپ کی چال ڈھال سے محسوس ہو۔۔

پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کا  بھی یہی طریقہ ہے کہ ان کی سنت پر حرف بہ حرف عمل کیا جاۓ۔

ان کی سنتوں پر مکمل طریقے سے پیروی کی جاۓ۔ان کی تعلیمات پر زندگی کے ہر ہر حصے میں عمل کیا جاۓ۔
ان کی دی ہوٸی ہدایات کے مطابق اپنی کردار سازی اور اخلاق سازی کی جاۓ۔ان کے سنتوں کو زندہ کیا جاۓ۔۔

ان کی تعلیمات کے مطابق جو کہ مکمل نظام زندگی ہے اپنی زندگی گزاری جائے۔

پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت ایسی ہو کہ ہمیں زبان سے یقین نہ دلوانا پڑے بلکہ ہمارا اخلاق،ہمارا کردار بذات خود حب رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دے اور ہم مخص نعتیں پڑھ کر اور میلاد منا کر خوش نہ ہوجاٸیں بلکہ اپنے نبی کی دی ہوٸی تعلیمات پر عمل کر کے ان کی سب سے بڑی سنت ”اللہ کے دین کی اشاعت“ کو پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ روز محشر ہمارا شمار بھی ان خوش نصیبوں میں ہو جو سرکار دو عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی پٸیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top