عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کو قرآنِ کریم نے خاتم النبیین قرار دیا ہے۔ خاتم کے معنی ہیں: مہر لگانے والا، سلسلے کو مکمل کرنے والا۔ گویا آپ ﷺ نے نبوت کے سلسلے پر آخری مہر ثبت فرما دی؛ اب اس فہرست میں کسی نئے نبی کے نام کا اضافہ نہیں ہو سکتا۔
خود رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا: ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
چودہ سو برس گزر گئے، نبوت کا یہ سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہو چکا۔ اس کے بعد کسی شخص کے لیے نبوت کا دعویٰ کرنا نہ قرآن کی تعلیم سے مطابقت رکھتا ہے، نہ سنتِ رسول ﷺ سے، اور نہ امت کے متفقہ عقیدے سے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“ (سورہ احزاب آیت 40)
اسی حقیقت کو صحیح بخاری حدیث نمبر3535 میں رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت خوبصورت مثال سے واضح فرمایا:
“میری اور مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا، اسے بہت حسین و جمیل اور خوبصورت بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر کے گرد گھومنے لگے، اسے تعجب سے دیکھنے لگے اور کہنے لگے: ‘یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟’ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘پس میں وہی اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین (آخری نبی) ہوں۔”
رسولِ اکرم ﷺ کے وصالِ مبارک کے فوراً بعد امت کو اس عقیدے کی عملی حفاظت کا ایک بڑا امتحان پیش آیا۔ مسیلمہ کذاب سمیت بعض جھوٹے مدعیانِ نبوت نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر اس فتنے کے خلاف جہاد کا فیصلہ فرمایا۔ جنگِ یمامہ میں بے شمار جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جامِ شہادت نوش کیا لیکن یہ واضح کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ صرف ایک جنگ نہ تھی بلکہ یہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کی ایک عظیم تاریخی مثال تھی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانیں قربان کر کے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
پاکستان میں بھی اس عقیدے کے تحفظ کے حوالے سے 1974ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی/احمدی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ بعد ازاں آئینی و قانونی سطح پر مسلمان عہدیداران کے حلف میں ختمِ نبوت پر ایمان کا اقرار بھی شامل کیا گیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج بحیثیتِ مسلمان ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
ہمیں سب سے پہلے خود اس عقیدے کا قرآن و حدیث کی روشنی میں مضبوط اور مدلل مطالعہ کرنا ہوگا۔ صرف جذبات کافی نہیں، ہمیں اپنے ایمان کی بنیاد کو علم، یقین اور دلیل سے مضبوط کرنا ہوگا۔ پھر منکرینِ ختمِ نبوت کے شبہات، مغالطوں اور فریبِ نظر کو سمجھنا اور ان کا جواب بھی علم و حکمت کے ساتھ دینا ہوگا۔
ہماری ذمہ داری صرف اپنی ذات تک محدود نہیں۔ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت بھی اسی شعور کے ساتھ کرنی ہے۔ اپنے بچوں کو بتانا ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہمارے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی ختمِ نبوت پر ایمان ہمارے عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔
گھروں سے لے کر معاشرے تک، ہمیں ہر اس فکری سازش سے باخبر رہنا ہوگا جو اس بنیادی عقیدے کو متزلزل کرنے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو جذباتی نعروں کے بجائے علم، دلیل، بصیرت اور حکمت سے آراستہ کرنا ہوگا۔
آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اسے حق بات پہنچانے کا ذریعہ بنائیں۔ جہاں غلط معلومات یا گمراہ کن شبہات سامنے آئیں، وہاں اشتعال کے بجائے دلیل، تہذیب اور حکمت کے ساتھ صحیح اسلامی مؤقف پیش کریں۔ اپنی تحریر، تقریر، تعلیم، وقت اور صلاحیتوں کو دین کی صحیح تعلیم عام کرنے کے لیے استعمال کریں۔
ہمیں ان دینی اداروں، مکاتبِ فکر اور علمی کاوشوں کا بھی ساتھ دینا چاہیے جو قرآن و سنت کی روشنی میں tv عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اپنی دولت اور وسائل کو بھی ایسے مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کریں جو دین کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنیں۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کا صحیح اور گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت صرف زبان سے کہہ دینے کا نام نہیں، یہ ایک ایسی امانت ہے جس کی حفاظت علم سے، کردار سے، تربیت سے، حکمت سے اور حق بات کو حق انداز میں آگے پہنچانے سے ہوتی ہے۔
آج ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم خود بھی اس عقیدے کو سمجھیں گے، اپنی نسلوں کو بھی اس سے روشناس کرائیں گے، اور اپنی تمام جائز صلاحیتوں، وسائل اور ذرائع کو دینِ اسلام کی صحیح تعلیم عام کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں؛ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ یہی ہمارا ایمان ہے، یہی امت کا متفقہ عقیدہ ہے، اور یہی وہ امانت ہے جسے ہمیں آنے والی نسلوں تک پوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















