اکابرین کا بچھڑ جانا

تحریکیں صرف نظریات سے نہیں بلکہ ایسے مخلص، باکردار اور بے لوث افراد سے زندہ رہتی ہیں جو اپنی پوری زندگی کسی مقصد کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ جب ایسے اکابرین، محسنین اور رہنما دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ پوری تحریک ایک قیمتی سرمایہ کھو دیتی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے بزرگ رہنماؤں نے اپنی زندگیاں دینِ اسلام کی سربلندی، اخلاقی تربیت، دعوتِ حق اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کیں۔ انہوں نے مشکل حالات، آزمائشوں اور قربانیوں کے باوجود اپنے مشن سے کبھی پیچھے ہٹنے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کی سادگی، اخلاص، دیانت اور استقامت آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔امیرالعظیم صاحب بھی انہی مخلص اور باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جماعتِ اسلامی اور اسلامی تحریک کی خدمت میں اپنی صلاحیتیں اور عمر کا قیمتی حصہ صرف کیا۔ ان کی علمی بصیرت، تنظیمی صلاحیت، کارکنان کی تربیت کے انداز اور بے لوث قیادت نے بے شمار افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور تحریک کی تاریخ میں ان کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اکابرین اور محسنین کا چلے جانا تحریک کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ ایسے نادر ہیرے اور بے لوث خدمت گزار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ تحریکیں افراد کے جانے سے رُکتی نہیں، مگر بعض شخصیات کا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا ہے اور شاید ہی پھر تحریک کو ایسے نادر ہیرے اور بے لوث خدمت گزار آسانی سے میسر آ سکیں۔

چراغ بجھتے نہیں، روشنی بانٹ جاتے ہیں
تاریخِ تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے لوگ اپنے عہد سے آگے کی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ صرف تنظیمیں نہیں بناتے بلکہ انسان تیار کرتے ہیں، کردار تعمیر کرتے ہیں اور ایسی روایات چھوڑ جاتے ہیں جو نسلوں تک رہنمائی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا جسمانی وجود اگرچہ ایک دن دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، لیکن ان کی فکر، ان کا اخلاص اور ان کی جدوجہد زندہ رہتی ہے۔

امیرالعظیم صاحب کی زندگی بھی اسی حقیقت کا آئینہ تھی۔ انہوں نے منصب کو کبھی اعزاز نہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری جانا۔ کارکنان کی تربیت، تنظیمی استحکام، علمی و فکری رہنمائی اور دین کے غلبے کی جدوجہد ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ ان کی گفتگو میں حکمت، رویّے میں انکساری اور فیصلوں میں اخلاص جھلکتا تھا۔ یہی اوصاف انہیں کارکنان کے دلوں کے قریب لے آئے۔

ایسی شخصیات کا اصل سرمایہ ان کے چھوڑے ہوئے نقوش ہوتے ہیں۔ ان کی یاد کا تقاضا صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانا، ان کی اقدار کو زندہ رکھنا اور ان کے اخلاص کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اگر نئی نسل ان بزرگوں کی قربانیوں، استقامت اور کردار کو اپنا سرمایہ بنا لے تو یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ افراد رخصت ہوتے رہتے ہیں مگر حق کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابرین کے چھوڑے ہوئے چراغوں سے اپنی شمعیں روشن کریں تاکہ دعوت، اصلاح اور اقامتِ دین کا یہ سفر اسی جذبے، اسی اخلاص اور اسی استقامت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔
یہی ہیں زندہ و جاوید قوم کی آنکھیں
جو خود بجھیں تو زمانے کو روشنی دے گئے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور جماعتِ اسلامی سمیت پوری امتِ مسلمہ کو ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔
تمہیں معلوم ہے، کچھ صدیوں کے تفکر سے
کلیجہ پھونک کے کرتی ہے فطرت اک بشر پیدا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top