سیلاب،تباہ کاریاں اور حکومت

پاکستان کے کسان، مزدور اور غریب عوام ہر سال بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس بار بھی پنجاب کے کئی اضلاع بشمول لاہور اور قصور میں دریاؤں کی طغیانی نے ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ لوگ اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہو گئے، مال مویشی بہہ گئے، کھڑی فصلیں ختم ہوگئیں اور برسوں کی کمائی پانی میں بہہ گئی۔ بیٹیوں کی شادی کیلئے بنایا جہیز کاسامان سیلاب کی نذرہوگیا،ہمیشہ کی طرح عوام کاایک بار پھر سوال وہی ہے: یہ نقصان کون پورا کرے؟۔

پنجاب کے دریائوں میںدریائے جہلم: یہ پنجاب کے اہم دریاؤں میں سے ایک ہے۔
دریائے چناب: دریائے چندرا اور بھاگا کے ملاپ سے بنتا ہے۔
دریائے راوی: لاہور کا شہر اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔
دریائے ستلج: بھارت سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔
دریائے بیاس: یہ دریا بھارت میں دریائے ستلج سے مل جاتا ہے اور پھر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

دریاؤں کے ارد گرد آبادیاں:
دریائے راوی کے قریب لاہور شہر واقع ہے۔
1۔لاہور کے مضافاتی علاقے چوہنگ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی (دریائے راوی کے بند کے قریب)
2۔ تھیم پارک سوسائٹی موہلنوال (دریائے راوی کے تقریباً 500 میٹر فاصلے پر)
3۔ فرخ آباد اور کامران پارک کے قریب رہائشی کالونیاں جو دریائے راوی کے ساتھ ہیں

خوشی ٹائون مہلنوال لاہور،دریاراوی کے بالکل اندربطوررہائشی آبادی موجودہے
دریائے چناب اور دریائے جہلم کے گردونواح میں بھی کئی آبادیاں اور زرعی علاقے موجود ہیں۔
دریائے ستلج اور بیاس پاکستان میں دریائے پنجند کے مقام پر اکٹھے ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

لاہور اور قصور کے دریاؤں کے قریب چند اہم رہائشی سوسائٹیاں جو دریائے راوی اور دیگر دریاؤں کے ساتھ واقع ہیں، ان میں شامل ہیں۔کئی ایک سوسائٹیاں جو دریاؤں کے قریب واقع ہیں اُن کے مالکان مقامی بااثر سیاست دان اور وکلاء رہنما ء ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض قدرتی آفت ہے یا پھر انسانوں کے لالچ اور بے ضابطگی کا نتیجہ؟ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں سیلاب کا نقصان صرف فطرت کی طاقت سے نہیں بلکہ ان سازشی ہاتھوں سے بھی جڑا ہوا ہے جنہوں نے دریاؤں کی زمین بیچ کر وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں کھڑی کر دیں۔

لاہور، قصور اور دیگر اضلاع میں کئی برسوں سے یہ رجحان زور پکڑچکاہے کہ دریاؤں اور برساتی نالوں کی زمین پر ”پراپرٹی بزنس” کے نام پر کالونیاں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر کی جائیں۔ پارک ویو، تھمیم ،خوشی ٹائون اور دیگر کئی نامور سوسائٹیاں انہی زمینوں پر قائم کی گئیں جہاں اصل میں پانی کے بہاؤ کی گزرگاہ تھی۔

یہ زمین سستی تھی، کیوں کہ ہر باشعور شخص جانتا تھا کہ یہ کچی زمین ہے، جو کسی بھی وقت سیلاب کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔ مگر پراپرٹی ڈیلرز نے اسے ”گولڈن بزنس” بنا دیا۔ خوبصورت نقشے، پرکشش اشتہارات، قسطوں پر پلاٹ دینے کی پیشکش اور سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے یہ سوسائٹیاں ہزاروں لوگوں کو بیچ دی گئیں۔

یہ زمین خطرناک تھی تو ان پر تعمیرات کی اجازت کس نے دی؟ ظاہر ہے یہ کھیل کسی ایک پراپرٹی ڈیلر کی بس کی بات نہیں۔ اس میں ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ، ریونیو محکمے اور بعض سیاسی بااثر شخصیات سب شریک ہیں۔ انہی کی ملی بھگت سے پارک ویو ،تھیم اورخوشی ٹائون جیسی بڑی اسکیموں کو ”قانونی حیثیت” ملتی رہی۔

آج جب دریاؤں کاسیلابی پانی ان بستیوں کو ڈبو چکاہے تو نقصان براہ راست ان غریب کسانوں اور دیہاتیوں کا ہوتا ہے جن کے پاس اپنی زمین بچانے کی طاقت نہیں۔ جبکہ اصل کمائی کرنے والے سوسائٹی مالکان اور قبضہ مافیا اربوں روپے کما کر مزید زمینیں ہتھیا لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top