فجرکے وقت ٹھنڈی ہوا نے جب محلے کی مسجد کے میناروں کو چھوا، تو دانیال کی آنکھ کھل گئی۔ وہ لپک کر صحن کی طرف بھاگا، جہاں ‘بادل’ بندھا ہوا تھا۔ سفید براق رنگت، کاجل لگی بڑی بڑی آنکھیں اور ماتھے پر خوبصورت چاند—بادل واقعی کسی بادل کے ٹکڑے جیسا ہی تھا۔ دانیال نے اپنی یونیورسٹی کی فیس کے لیے جمع کی گئی رقم اور پارٹ ٹائم نوکری کی سخت کمائی سے اسے خریدا تھا۔ پچھلے دو مہینوں سے وہ روزانہ صبح اسے چارہ ڈالتا، اس کے بال سنوارتا اور شام کو گلی میں ٹہلاتا۔ پورا محلہ دانیال کے اس چاؤ اور محبت کا گواہ تھا۔
عید کی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گلیوں میں عرقِ گلاب اور ہلکی الائچی کی خوشبو مہکنے لگی۔ دانیال سفید کلف لگا کُرتا پہن کر عیدگاہ سے لوٹا تو بادل کو قربانی کے لیے تیار کرنے لگا۔ دانیال کا دل ایک عجیب کیفیت سے دوچار تھا؛ خوشی بھی تھی اور اپنے لاڈلے جانور سے جدائی کا ایک انوکھا درد بھی۔
ابھی وہ چاقو تیز کرنے والے کی راہ دیکھ ہی رہا تھا کہ گلی کے موڑ پر رونے کی آوازیں گونجیں۔ دانیال باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے والے گھر کے کامران بھائی سر پکڑے چبوترے پر بیٹھے تھے اور ان کی بیوہ والدہ تسبیح ہاتھ میں لیے رو رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ رات گئے چور ان کی اکلوتی گائے کھول کر لے گئے تھے۔ کامران ایک سستے پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتا تھا اور اس نے تین سال کی کمیٹیاں ڈال کر اس عید پر قربانی کا خواب دیکھا تھا۔ ان کے دو چھوٹے بچے، جو نئے کپڑے پہن کر گائے کے گرد گھومنے کے منتظر تھے، اب سہمے ہوئے کھڑے تھے۔ ان کی آنکھوں کے آنسو عید کی ہر خوشی کو نگل رہے تھے۔
دانیال نے ایک نظر روتے ہوئے بچوں پر ڈالی اور پھر صحن میں کھڑے ‘بادل’ کو دیکھا، جو اپنی دم ہلا کر اسے پکار رہا تھا۔ دانیال کے ذہن میں دین کا وہ فلسفہ گونجا کہ قربانی صرف خون بہانے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز اور اپنی خوشی کو دوسرے انسانوں پر نچھاور کر دینے کا نام ہے۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے اندر کی انسیت کو سمیٹا اور مسکراتے ہوئے کامران بھائی کے پاس جا کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
“کامران بھائی! مایوس کیوں ہوتے ہیں؟ بادل صرف میرا نہیں ہے، ہم دونوں کا ہے۔ اس کی قربانی آپ کے نام سے ہوگی، اور اس کا گوشت بھی آپ ہی کے رشتہ داروں اور مہمانوں میں جائے گا۔”
کامران نے حیرت اور تشکر سے دانیال کو دیکھا، ان کی والدہ کے ہاتھ دانیال کے سر پر دعائیں دینے لگے۔ جب بادل کی قربانی ہوئی، تو دانیال کی آنکھوں میں آنسو ضرور تھے، مگر وہ غم کے نہیں بلکہ ایک سچے، الٰہی سکون کے آنسو تھے۔
پاکستانی معاشرے کی روح اسی ایثار میں چھپی ہے، جہاں ایک کا دکھ پورے محلے کا دکھ بن جاتا ہے۔ دانیال نے ثابت کر دیا کہ جب انسان دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرتا ہے، تو اللہ اس کے دل کو اس اطمینان سے بھر دیتا ہے جس کی چمک کبھی ماند نہیں پڑتی۔ یہی عید کی اصل روح اور زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















