سعودیہ کی ماڈرنائیزیشن اور علماء حق

جب سرزمینِ حرمین کی فضا بدلنے لگی،
جب اذانوں کے ساتھ موسیقی بھی گونجنے لگیں،
جب عبایا میں غیرت کی لرزش محسوس ہونے لگی،
جب روشنیوں کی چمک میں روحانیت کا سکوت دبنے لگا —
تو اہلِ علم و فہم کے دلوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔
سعودی عرب، جو صدیوں تک دینِ خالص کی علامت سمجھا جاتا رہا،
جس کی مٹی سے توحید کی مہک آتی تھی،
جہاں علما کی آوازیں وقت کے سلاطین پر غالب ہوا کرتی تھیں۔

آج وہی سرزمین “ویژن 2030” کے نام پر ایک نئی دنیا کی طرف رواں دواں ہے۔
یہ “جدیدیت” صرف انفرااسٹرکچر کی تبدیلی نہیں،
یہ اقدار، شناخت اور روحانیت کے قالب کو نئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔
سنیما گھروں کی واپسی، کنسرٹس کی رنگینیاں، مخلوط محافل، اور مغرب زدہ رسوم و رواج —
یہ سب وہ مظاہر ہیں جنہوں نے اہلِ دیانت کے سینوں کو بوجھل کر دیا۔
ایسے میں علماءِ حق نے خامشی کو گناہ جانا،
اور حق کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔

شیخ سلمان العودة
جن کے لبوں سے ہمیشہ اتحاد، اصلاح اور امت کی خیر کی باتیں نکلتی تھیں،
انہوں نے “اصلاح” کے نام پر کی جانے والی “تحریف” کو پہچانا۔
اور جب انہوں نے حق کی پکار بلند کی،
تو ظلم کی زنجیروں نے ان کا استقبال کیا۔
آج وہ برسوں سے قید میں ہیں، اور ان پر سزائے موت کی تلوار لٹک رہی ہے۔

شیخ سفر الحوالی
جو حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کا حوصلہ رکھتے تھے،
انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب المسلمون والحضارة الغربية میں
مغربی تہذیب کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تاریکی کو بے نقاب کیا۔
جواباً، جیل کی تاریکیوں میں ڈال دیے گئے۔

شیخ عوض القرنی
علم، تقویٰ اور فصاحت کا پیکر،
جس کی تحریریں لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑا کرتی تھیں —
جب انہوں نے اس ماڈرنائیزیشن کے اثرات پر سوال اٹھائے،
تو انہیں بھی خاموش کرا دیا گیا۔

شیخ عبدالعزیز الطریفي
جس نے علم کو حکمت، غیرت اور بصیرت کے ساتھ جوڑا،
جس کے ایک ایک فقرے میں سچ کی تلوار چھپی ہوتی تھی،
جب اس نے حق کے مقابل جھوٹ کو للکارا —
تو وہ بھی قید خانوں کی زینت بن گئے۔
یہ سب وہ چراغ تھے،
جو طوفانوں میں بھی بجھنے سے انکار کرتے ہیں،
جنہوں نے دنیا کی ناراضگی قبول کی،
مگر رب کی رضا کے لیے سر نہیں جھکایا۔

اہلِ اقتدار کی جانب سے:
کبار العلماء کو حکومتی پالیسی کے تابع بنا دیا گیا۔
وہ جو کبھی تقویٰ کا علم اٹھائے ہوئے تھے،
اب خاموشی یا تائید کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔
زبانیں بند، دل مقید،
اور وعظ و نصیحت کا رخ بدل چکا ہے۔
ماڈرنائیزیشن صرف تعمیرات کا نام نہیں،
یہ “تغیّرِ تہذیب” ہے،
جہاں امت کو لادینی شعور کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

مگر یاد رکھو!
ہر دور میں کچھ اہلِ حق ہوتے ہیں،
جو ظلم کے اندھیروں میں چراغ بن کر ابھرتے ہیں۔
جن کے سروں پر اگرچہ قید کی چادر ہو،
مگر ان کی دعائیں عرش تک پہنچتی ہیں۔

سعودیہ کی تبدیلی ایک عظیم فکری آزمائش ہے،
جس میں “ماڈرن بننے” اور “مسخ ہو جانے” کے درمیان باریک لکیر ہے۔
علمائے حق نے وہ لکیر پہچان لی —
اور اس کے پار جانے سے انکار کر دیا۔
آج ہمیں بھی اپنے اندر یہ جرأت، یہ بصیرت،
اور یہ وفا پیدا کرنی ہے،
کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے رہیں،
خواہ زمانہ کچھ بھی کہے۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top