ماں کا کردار

افففف یہ مشترکہ خاندان میں جو بندہ ایک سال گزار لیتا ہے۔اسے افریقہ کے جس مرضی جنگل میں چھوڑ آؤ بڑی آسانی سے رہ لے گا۔ساس صاحبہ کو ہماری ہانڈی میں مرچیں کچی لگتی ہیں،جٹھانی کی نظر میں صفائی ٹھیک سے نہیں کرتی، نند کو دھوئے ہوئے کپڑوں میں نقص نکالنے سے فرصت نہیں ملتی، اور تو اور میاں صاحب کو لگتا ہے کہ بچوں کی تربیت ٹھیک سے نہیں ہو رہی دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں۔بندہ پوچھے” عورت سے شادی کی ہے” یا کسی روبوٹ سے جو ہر کسی کو پرفیکٹ چاہیے۔اماں میں بتا رہی ہوں اب کی بار جب ذاہد آئیں، تو آپ نے ان سے الگ گھر کی بات کرنا ہے، مجھ سے نہیں برداشت ہوتے یہ روز روز کے طعنے۔

بیٹا صبر و تحمل اور برداشت بھی کسی چیز کا نام ہے،رخسانہ بیگم نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔بس کردیں اماں یہ نصیحتوں کا ٹوکرا میرے سامنے نہ کھول دیجئے گا۔شمائلہ نے باقاعدہ ہاتھ جوڑے،میں نہیں جارہی اس چڑیا گھر میں دوبارا، مجال ہے بندہ ڈھنگ سے کھا پی لے،پہن اوڑھ لے،یا کسی سے بات وات ہی کرلے،ہر وقت سر پہ تلوار ہی لٹکی رہتی ہے فلاں کو یہ برا نہ لگ جائے فلاں کو یہ برا نہ لگ جائے۔پتا نہیں کیا سوچ کر اتنے بڑے خاندان میں بیاہ دیا ہے آپ نے بھی، شمائلہ کی شادی کو ابھی دو سال ہی ہوئے تھے کہ ہر چیز سے اکتائے بیٹھی تھی۔

بیٹا ہر رشتے کو جاننے میں وقت لگتا ہے ،پھر آہستہ آہستہ بندہ ہر چیز کا عادی ہوجاتا ہے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کو جتنا مرضی کھنچتے جاؤ رہیں گی چھوٹی ہی ہیں۔

ایک تواماں آپ بھی پتا نہیں کیسی ماں ہیں، لوگوں کی مائیں اتنا ساتھ دیتی بیٹیوں کا، ایک آپ ہیں ان کو کچھ کہنے کی بجائے الٹا مجھے ہی سنائی جاتی ہیں،شمائلہ نے ناراضگی سے ماں کو دیکھا۔مجھے تو تمھاری یہ چھوٹی موٹی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آتی یہ بھی کوئی بات ہے ساس ایسے کہتی ہے نند نے یہ کہہ دیا۔بیٹا یہ تو زندگی کے ساتھ ساتھ ہے اگر تم ادھر رہو گی میرے پاس پھر تم کہو گی بھابھی نے یہ کہہ دیا ان ساری باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھو، ان باتوں پر توجہ دو گی تو زندگی میں آگے نہیں چل سکو گی۔

تم عام تھوڑی ہو تم تو بہت خاص ہو تم میری بیٹی ہو “اماں نے لاڈ سے شمائلہ کو اپنے ساتھ لگایا”۔میں نے آج تک کسی جھٹانی نند یا ساس کی بات کا برا نہیں مانا دیکھو آج سب کے دل میں اللہ تعالٰی نے میرے لیے محبت پیدا کردی چھوٹے بڑے سب میری عزت کرتے ہیں۔

بیٹا! جب حالات ہمارے اختیار میں نہ ہوں اور ہمیں چھوٹی چھوٹی باتیں تکلیف دیں تو اللہ کے ذکر کو بڑھا دو تمھیں پتا ہے؟ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تمھاری دادی، تمھاری پھوپھو ، تمھارے ابا سب مجھ سے خفا تھے۔ چھوٹی سی بات پہ خوب باتیں سنائی جاتیں “اس کو کچھ آتا نہیں ،اس کے ماں باپ نے تمیز نہیں دی ،وغیرہ وغیرہ۔

شمائلہ نے ایک دم ماں کی طرف دیکھا، اسے تو لگا تھا سارے مسئلے مسائل اسی کی جھولی میں ڈال دیے گئے ہیں۔

بیٹامیں نے اللہ کا ذکر شروع کردیا “اماں نےشمائلہ کو خیالی دنیا سے باہر نکالا،”ہر وقت دن ،رات جب بھی مجھے کسی کی کوئی بات بری لگ جاتی تھی تو میں اور تیزی سے یاحی یا قیوم کا ورد کرنے لگ جاتی، آہستہ آہستہ مجھے لوگوں کی آوازیں آنا بند ہو جاتیں اور میرے ارد گرد اللہ کے نام کی صدائیں بلند ہو جاتی تھی۔بیٹا اللہ کے ذکر میں ایسی طاقت ہے۔ انسان وہ کچھ کرلیتا ہے۔ جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔

اللہ کے ناموں میں اتنی طاقت ہے بیٹا کبھی آزما کے تو دیکھو۔تمھیں پتا ہے حضرت فاطمہ جب ہمارے نبی کریم کے پاس خادمہ کی درخواست لے کرگئی تھیں۔ تو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟ ‘فاطمہ کیا میں تم کو ایسی چیز نا دوں جو دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ‘پھر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح بتائی ”تنتیس دفعہ سبحان اللہ تنتیس دفعہ الحمدللہ اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر”۔ بیٹا اماں نے ‘شمائلہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ خادمہ لینے گئی تھیں،تو ان کے ہاتھوں میں چکی پیسنے ،پانی بھرنے کی وجہ سے چھالے پڑے ہوئے تھے۔

میری بیٹی تم دو سال سے سسرال میں کام کررہی ہو تمھارے ہاتھ میں تو ایک دانہ بھی نظر نہیں آرہا۔شمائلہ نے شرمندگی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اماں مجھے معاف کردیں میں واقعی غلط ہوں شمائلہ نے نظریں جھکالیں۔اماں شکر ہے آپ میری پیاری ماں ہیں۔اگر آپ میری چھوٹی چھوٹی باتوں پہ مجھےسمجھائیں گی نہیں۔میں تو انہیں باتوں کی وجہ سے اپنا گھر تباہ کرلوں گی۔ شمائلہ نے پرنم آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھا۔

بیٹا! ماں باپ کا فرض بچوں کو پڑھا لکھا کر شادی کردینے پر ہی ختم نہیں ہوجاتا۔بلکہ اچھے والدین کو زندگی کے ہر معاملے میں اپنی اولاد کی رہنمائی کرتے رہنا چاہیے۔

کیونکہ “بچے آخر ماں باپ سے بڑے تو نہیں ہوسکتے نا”رخسانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے بیٹی کو ساتھ لگایا۔شمائلہ کے دل سے بہت سا بوجھ اتر چکا تھا۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top