ویسے تو انسان کی زندگی کے سبھی دور بہت خوبصورت اور یاد گار ہوتے ہیں ۔ زندگی چاہے جھونپڑے والی ہو یا محلوں کی اپنے رشتوں ناتوں، سازو سامان کے ساتھ ہر موڑ کو انمٹ بنا دیتی ہے۔
کبھی شوروغل غپاڑہ تھکا دیتا ہے اور کبھی تنہائی روگ بنتی ہے لیکن زندگی اپنی تمام خوبصورتی اور بدصورتی کے ساتھ گزرتی چلی جاتی ہے۔
اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں سب سے خوبصورت دور جوانی کا ہوتا ہے۔
جب دل اک نئی لے پر دھڑکنے لگتے ہیں، کسی ہمسفر کی خواہش، کچھ سرگوشیوں کی چاہت، کبھی تنہائیوں کی طلب اور کبھی ساتھیوں کے جھرمٹ کی رونق بدن میں انگڑائی لینے لگتی ہے، ایسے میں ہر چہرہ آئینے میں حسین اور نقوش دنیا سے نرالے دکھنے لگتے ہیں، چاہنا اور چاہے جانا ہر نوجوان کی خواہشات و ضروریات میں ترجیح اول پر آجاتا ہے۔ محبت اور محبوب کی طلب نشہ بن کر سرائیت کرنے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں طلب حد سے بڑھتی ہے تو شیطان چور راستے سجھانے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہیں بڑے بوڑھے، بڑھتے ہوئےبچوں کے جوان ہوتے جذبوں کو ’’حصار نکاح‘‘ میں باندھ کر ان کی خوشیوں کی تکمیل کر دیتے ہیں۔
’جوانی‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ حسین دور جب بدن اپنی زندگی کے حسین ترین دور میں پہنچ چکا ہے، طاقت، حسن، عقل اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ساتھی اور اولاد کی نعمتیں زندگی کی خوشیوں کو مکمل بنا چکی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
انسان کی زندگی کا یہی وہ دور ہے جو رب کو بھی مطلوب ہے۔ جب کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے، جب نئے سے نئے ایڈونچرز زندگی کا پتہ دیتے ہیں، جب دن کے اٹھارہ گھنٹے کام کر کے بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی ہے، دن تو دن راتیں بھی جاگتے گزرتی ہیں کبھی جیون ساتھی کی چاہت میں اور کبھی اولاد کی محبت میں۔۔۔۔۔۔۔۔اور ماتھے پر کبھی شکن نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔یہی وہ دور ہے جس کو محبوب حقیقی اپنے نام کروانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہی وہ دور ہے جب ہم اپنی دنیا کو مکمل ہوتا دیکھ کر اسی کو جنت سمجھ بیٹھتے ہیں جبکہ رب تعالیٰ کو بھی یہی دور تو مطلوب ہے، وہ دیکھتا ہے کہ جب میں اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہوں تو میرا بندہ مجھے کتنا یاد رکھتا ہے؟
جوانی، صحت، طاقت، علم و دانش، شریک زندگی، اولاد، کاروبار سب میرے ہی تو مرہون منت ہیں۔ یہ سب پا کر میرا بندہ میرا کتنا شکر ادا کرتا ہے۔
بقول شاعر
در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری
سچ تو یہ ہے کہ رجوع الی اللہ تو جوانی ہی کا مطلوب ہے جبکہ ہم اسے ریٹائرمنٹ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔
شیطان، بھی ابھی تو بہت وقت ہے کہہ کر لمبی امیدیں دلاتا ہے جب کہ جوانی گذرتے ہی کبھی نسیان حملہ آور ہوتا ہے تو کبھی جوڑوں کا درد، کبھی دوائیوں کا پلندہ ٹیبل کی زینت بن جاتا ہے تو کبھی اٹھنے کے لیے بھی سہارا درکار ہوتا ہے۔ لکھنے کے لیے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں تو بولتے وقت لفظ ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ تجربے کی وہ گانٹھیں کندھوں پر لد جاتی ہیں جنہیں آنے والی نسلیں بزرگوں سمیت ایک کمرے یا گھر کے کسی کونے میں سجا کر نئے تجربات کرنے چل کھڑی ہوتی ہیں۔ لال کی جگہ کالی مرچیں اور گھی کی جگہ تیل ڈال کر کھانوں تک کو نیا رنگ دینے میں لگ جاتی ہیں۔
ڈھلتی عمر کے تاریک سائے لمحہ بہ لمحہ قریب آنے لگتے ہیں ۔۔۔۔آنکھوں پہ چڑھا چشمہ ،کسی ایک ساتھی کی جدائی اور اولاد کی نئی پرواز کو خاموشی سے دیکھتا چلا جاتا ہے۔
ایسے میں دل چاہتا ہے کہ محبوب حقیقی کے گلے لگ جائیں لیکن کیا کریں کبھی کمر ،کبھی پیٹ اور کبھی گھٹنوں کے عوارض طویل سجدے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ایسے میں رب کے سامنے جھک کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شدید غمزدہ روتے دھوتے بچے کو ماں سامنے بلا کر سینے سے لگانے سے انکاری ہو جائے۔
وہ گھر جو کبھی اپنی مصروفیات میں الجھائے رکھتے تھے آج کسی گلاس کو بھی ہاتھ میں لینے سے قبل دوسروں کی اجازت کے منتظر رہتے ہیں۔
وہ بچے جن کو پاکر لگا تھا کہ میری تو دنیا ہی جنت بن گئی ہے وہ نئی جنتیں بنانے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور زندگی کے اس دور میں ہماری دبتی آوازیں ان کی پر شور سماعتوں پر دستک سے عاری ہیں ۔ ایسے میں فارغ ییٹھے بیٹھے اکتا کر جب زندگی کی فلم ریورس کر کے دیکھتے ہیں تو بھاگتی دوڑتی جوانی میں بہت سے ایسے لمحے دکھائی دیتے ہیں جو ہم اپنے رب کے نام کر سکتے تھے، بہت سے ایسے کام ہیں جنہیں اپنی لسٹ سے خارج کر سکتے تھے اور ان کی جگہ رب کے کاموں کو دے سکتے تھے، ہہت سے ایسے اوقات تھے جن کو ضیاع سے بچا کر ’’احسن عمل‘‘ کے لیے وقف کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کبھی دھیان ہی نہ گیا۔
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
کے مصداق اب تو جو گزر گیا سو گزر گیا۔ اب تو بس انتظار اور بس انتظار ہی کیا جاسکتا ہے۔۔۔دنیا سےجانے کا، رب سے ملاقات کا، وقت اور نعمتوں کے حساب کا، اچھے یا برے نتیجے کا ۔
اسی لیے تو نبی ٔ محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جوانی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔بڑھاپے سے پہلے
فراغت کو غنیمت جانو۔۔۔۔۔مصروفیت سے پہلے
صحت کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔۔بیماری سے پہلے
فراخی کو غنیمت جانو ۔۔۔۔۔۔تنگدستی سے پہلے
سو میری قوم کے جوانو !
جو آج آپ کو اپنی مٹھی میں لگتا ہے وہ کچھ ہی عرصے میں ریت کی طرح سرک جائے گا اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں گے ۔ سو اس دور کی قدر کرو ۔
یہ نہیں کہ آپ دنیا تیاگ کر رہبانیت کی طرف قدم بڑھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اسی دنیا کو رب کے رنگ میں ڈھالنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو ۔ تمہارا ہر رشتہ رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت میں ڈوبا ہو، تمھارا ہر قدم خدا کے جانب اٹھتا ہو، تمہارا علم تقویٰ کا متقاضی ہو، تمھاری ہر سوچ معرفت الٰہی میں ڈوبی ہو، تمہارا ہر لمحہ رب کے نام دان ہو، تمھارے مال کا ایک ایک روپیہ اسکی بتائی جگہوں پر خرچ ہوتا ہو،تمھارا ہر ہر عمل تمھیں اس کا محبوب بنا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ایسا ہو جائےگا تو پھر جب سوال ہوگا کہ جوانی کن کاموں میں گھلائی ؟ تو جواب ہو گا میرے مالک تجھ سے، شروع کر کے تجھی پہ انتہا کر دی، جوانی کے منصوبوں میں میرے مولا تو ہی اول تو آخر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں صدا آئے گی۔
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي
وَادْخُلِي جَنَّتِي
سورۃ الفجر (89): آیات 27-30
ترجمہ: اے اطمینان پانے والی نفس!
اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔
پس میرے بندوں میں داخل ہو جا
اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
آؤ میری قوم کے نوجوانو!
اپنے مقصد حیات کو جان لو، لوٹ آؤ بھٹکنے سے پہلے، سدھر جاؤ بہکنے سے پہلے،سمجھ لو پچھتاوے سے پہلے۔















