ایک خواب جو پاکستان بن گیا

 مارچ کی ہلکی ہلکی خوشگوار صبح تھی۔ لاہور کے منٹو پارک میں لوگوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا۔ دور دور سے مسلمان مرد، عورتیں اور نوجوان اس امید کے ساتھ یہاں جمع ہوئے تھے کہ آج کوئی ایسا فیصلہ ہوگا جو ان کے مستقبل کو بدل دے گا۔ فضا میں عجیب سا جوش اور امید تھی، جیسے ہر دل میں ایک نیا خواب جنم لے رہا ہو۔

ان نوجوانوں میں ایک نوجوان احمد بھی تھا۔ احمد ایک طالب علم تھا جو اپنے دوستوں کے ساتھ اس تاریخی اجتماع میں شریک ہونے کے لیے لاہور آیا تھا۔ اس کے دل میں کئی سوال تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر مسلمان ایک الگ ملک کیوں چاہتے ہیں؟ کیا واقعی ایک ایسا دن آئے گا جب مسلمان آزاد ہوں گے؟
اسٹیج پر بڑے بڑے رہنما موجود تھے، مگر سب کی نظریں ایک شخصیت پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ شخصیت تھی قائد اعظم محمد علی جناح۔اور جب قائد اعظم اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو پورے مجمع پر خاموشی چھا گئی۔ ہر شخص ان کی بات سننے کے لیے بے تاب تھا۔

قائد اعظم نے مضبوط اور پُرعزم آواز میں مسلمانوں کے حقوق، ان کی شناخت اور ان کے مستقبل کی بات  کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں، جن کی اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنا دین ہے۔ اس لیے انہیں ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جہاں وہ آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

احمد بڑے غور سے قائد اعظم کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کے دل میں امید کی ایک نئی روشنی پیدا ہو رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا اعلان ہے۔

اسی اجتماع میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ جب یہ قرارداد پیش کی گئی تو پورا میدان نعروں سے گونج اٹھا۔ “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!” کے نعرے فضا میں بلند ہونے لگے۔ احمد نے بھی جوش سے نعرہ لگایا۔ اس لمحے اسے لگا کہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔

وہ دن دراصل ایک خواب کی بنیاد تھا۔ ایک ایسا خواب جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ مگر ان کا ایمان مضبوط تھا اور ان کا عزم اٹل تھا۔

سات سال بعد، 14 اگست 1947 کو وہ خواب حقیقت بن گیا۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا۔ احمد اب ایک بالغ اور سمجھدار نوجوان بن چکا تھا۔ جب اس نے پاکستان کا پرچم بلند ہوتے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ اسے منٹو پارک کا وہ دن یاد آ گیا جب ایک قوم نے مل کر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھی تھی۔

آج جب بھی مارچ آتا ہے تو ہمیں وہ تاریخی لمحہ یاد دلاتا ہے جب ایک قوم نے اتحاد، ایمان اور عزم کے ساتھ اپنے خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر قوم کے نوجوان اپنے مقصد کے لیے کھڑے ہو جائیں تو کوئی بھی خواب ناممکن نہیں رہتا۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top