کراچی میٹرک بورڈ کی بدانتظامی اور نااہلی

کراچی سمیت سندھ بھر میں نویں اور دہم جماعت کے امتحانات کا 10 اپریل سے  آغاز ہو چکا ہے۔ یہ آغاز کسی خوشگوار تقریب کی مانند نہیں بلکہ بدانتظامی، آخری لمحات میں تبدیلیوں اور طلباء کی بے چینی کے ماحول میں ہوا۔ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی نااہلی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امتحانات کا آغاز 7 اپریل 2026 سے شروع ہونے والے تھے مگر آخری وقت میں تین دن کی مہلت دے کر 10 اپریل کر دی گئی اور اس کی وجہ صرف اور صرف بورڈ کی بدانتظامی ہے۔

سب سے بڑا بحران ایڈمٹ کارڈز کا تھا جس کے بروقت نہ ہونے میں بورڈ پوری طرح ناکام رہا۔ جمعرات9اپریل کو رات دیر تک بورڈ آفس کا دروازہ کھلا رہا جبکہ صبح امتحانات کا آغاز ہونا تھا۔ کراچی بورڈ نے ڈیجیٹل سسٹم اپنایا تو درست سافٹ ویئر (ایپلی کیشن) اور ڈیٹا بیس کی کمی کی وجہ سے ڈیجیٹل سسٹم میں خلل پڑ گیا جس کی وجہ سے اسکول انتظامیہ اور طلباء دن رات بورڈ آفس کے چکر لگاتے رہے۔ طلباء امتحانات کی تیاری کی بجائے ایڈمٹ کارڈ اور سینٹرز کی تلاش میں مصروف رہے۔ اس افراتفری اور بورڈ کی نااہلی کا سارا فائدہ وہ ”تعلیمی مافیا“ اٹھاتی ہے جو امتحانی مراکز پر نقل اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔

امتحانات سے محض چند روز قبل کنٹرولر امتحانات کی تبدیلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پرانے کنٹرولر کے جانے اور نئے کی تقرری نے امتحانی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جبکہ وہ اس اہم ترین پوسٹ پر تعینات تھے۔ نئے کنٹرولر کو اس وقت تبدیل کر دیا گیا (وہ بھی امتحانات سے صرف دو دن پہلے) کہ 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد طلباء کے ایڈمٹ کارڈز اور فکسیشن (Fixation) کے تمام ریکارڈز ابھی نامکمل تھے۔

قانونی نقطہ نظر (Legal Perspective)
تعلیمی بورڈ کے قوانین اور سروس رولز کے تحت کنٹرولر امتحانات کا عہدہ گریڈ 19 کا اہم انتظامی عہدہ ہے۔ اس کی تقرری خالصتاً میرٹ پر اشتہار کے ذریعے ہونی چاہیے تھی مگر یہاں ایڈہاک بنیادوں پر تقرریاں کی گئیں۔ عدالتِ عالیہ سندھ نے بعض تقرریوں کو کالعدم قرار دیا ہے اور Principle of Natural Justice کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اختتامیہ (Conclusion)
تمام سینٹر سپرنٹنڈنٹ کی فریاد ہے کہ ہم اپنی ڈیوٹی نہایت دیانتداری سے نبھانا چاہتے ہیں، مگر بورڈ کی نااہلی کا تمام تر بوجھ ہماری پیٹھ پر ڈالا جا رہا ہے جو ہم خاموشی سے برداشت کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top