یمن: حوثی باغیوں نے باب المندب میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرے میون اور ساحلی شہر ذباب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یمنی سرکاری فورسز نے ان علاقوں سے انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عسکری حکام نے شہریوں کو اہم راستوں پر سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
حوثی قیادت نے اس پیشرفت کو اپنی بڑی عسکری کامیابی قرار دیا ہے، جبکہ سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں اب تک متعدد افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹس کے مطابق سعودی عرب نے خطے میں حوثیوں کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں اپنی اہم آئل پائپ لائن پر ہونے والے حملوں کے بعد ترسیل عارضی طور پر روک دی ہے۔ سعودی وزارتِ توانائی نے تصدیق کی کہ پائپ لائن کو نشانہ بنانے کے بعد ہنگامی ٹیمیں مرمتی کام اور حفاظتی جائزے میں مصروف ہیں۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ پائپ لائن کی مکمل بحالی اور سکیورٹی یقینی بنانے تک ترسیل بند رہے گی۔ اس دوران کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ہنگامی منصوبوں کے تحت کام جاری ہے تاکہ تیل کی عالمی سپلائی لائن میں خلل کو کم کیا جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یمنی بحران کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات میں مضمر ہے۔ ایران نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام یمن کی خودمختاری کے احترام اور غیر انسانی محاصرے کے خاتمے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ یمنی عوام کو دباؤ سے آزاد ہو کر باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران یمن کے معاملے پر طے شدہ روڈ میپ کے تحت مذاکرات کی بحالی کے لیے کسی بھی مثبت سفارتی کوشش میں بھرپور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔















