سعودی عرب نے حملوں کے بعد اہم آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی

Saudi Arabia announces

ریاض: سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر متعدد حملوں کے بعد حفاظتی اقدام کے طور پر پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا ہے جبکہ حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

سعودی وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ حملوں کے فوری بعد ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیموں نے پائپ لائن کی حفاظت یقینی بنانے اور اس کی موجودہ حالت کا جائزہ لینے کے لیے کام شروع کردیا۔

عہدیدار کے مطابق پائپ لائن کی تکنیکی اور حفاظتی صورتحال کا جائزہ مکمل ہونے تک اسے بند رکھا جائے گا۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے منظور شدہ حفاظتی طریقہ کار اور ہنگامی منصوبوں کے تحت ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

۔ وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے پائپ لائن دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا، صورتحال میں مزید پیش رفت سے مناسب وقت پر آگاہ کیا جائے گا۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں واقع تیل پیدا کرنے والے اہم مراکز سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک منتقل کرتی ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کے لیے متبادل راستے سے تیل کی ترسیل برقرار رکھنا اس کی توانائی کی برآمدات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد علاقائی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے سعودی عرب میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جبکہ یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بھی حالیہ دنوں میں تیل کی تنصیبات سمیت متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top