صوبوں کے قیام کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ن لیگ اپنا مؤقف پیش کرے گی: رانا ثناء اللّٰہ

rana's

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حتمی مؤقف اس وقت سامنے لایا جائے گا جب یہ معاملہ باقاعدہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آئے گا، جبکہ پارٹی کے اندر اس حوالے سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی اقتصادی فورم یا سیمینار میں اس موضوع پر ہونے والی بحث اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتی جب تک معاملہ پارلیمنٹ میں نہیں آتا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے واضح کیا کہ اگر عوام نئے صوبوں کے قیام کے خواہاں ہیں تو ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم عوام کی خواہش اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارلیمانی عمل کے ذریعے ہی سامنے آئے گا۔

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن میں نئے صوبوں کے حوالے سے پارٹی مؤقف طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پارٹی کے ضلعی اور یونین کونسل کی سطح کے کارکنوں کی رائے اور سوچ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ کسی وفاقی وزیر نے پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے حوالے سے ایسی بات کی ہے جسے پارٹی کا حتمی مؤقف قرار دیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے قیام یا عدم قیام کا معاملہ بالآخر پارلیمنٹ ہی نے طے کرنا ہے اور اسی فورم پر ہونے والی بحث زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان حالیہ عرصے میں تلخیاں کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ جماعت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنا لانگ مارچ ایک یا 2 ہفتوں کے لیے مؤخر کردے۔

رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نئے صوبوں سے متعلق مسلم لیگ ن کا حتمی پالیسی بیان پارلیمنٹ میں معاملہ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا، جبکہ اس سے قبل پارٹی کے اندر مختلف سطحوں پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزید خبریں

Scroll to Top