صحت کے شعبے میں ہماری 14 ماہ کی کارکردگی گزشتہ 30 سال کے کام سے بہتر ہے: مصطفیٰ کمال

mustafakamal1

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے صحت کے شعبے میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران جو اقدامات کیے ہیں، وہ گزشتہ 30 برس کی کارکردگی سے بہتر ہیں، جبکہ بڑھتی آبادی کے پیش نظر بیماریوں کے علاج کے بجائے ان کی روک تھام کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

کراچی ایکسپو سینٹر میں 23ویں ہیلتھ ایشیا بین الاقوامی نمائش میں شرکت کے موقع پر وفاقی وزیر صحت نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور ملکی و غیر ملکی نمائش کنندگان اور وفود سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ انسان کے وجود کے ساتھ ہمیشہ قائم رہے گا، کیونکہ جب تک انسان موجود ہے، اسے صحت کی سہولیات اور نگہداشت کی ضرورت برقرار رہے گی۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کو صرف علاج معالجے تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں بیماریوں سے بچاؤ، ویکسینیشن، صاف پانی کی فراہمی، خاندانی منصوبہ بندی اور طرز زندگی سے متعلق صحت کے امور بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹرز اب طرز زندگی سے متعلق علاج کے شعبے میں بھی کردار ادا کررہے ہیں، اس لیے صحت عامہ کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ امور کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت عامہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومت اور وزیر کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر سطح کے نمائندے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول گلی کی سطح پر موجود نمائندے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں صاف پانی کی فراہمی اور صحت مند ماحول کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے۔

انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کو صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ہر سال نیوزی لینڈ سے زیادہ آبادی کا اضافہ کررہا ہے، جبکہ 5 برس کے دوران آبادی میں ہونے والا اضافہ تقریباً آسٹریلیا کی مجموعی آبادی کے برابر ہوجاتا ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہوگا۔ ایسے حالات میں صرف اسپتالوں کی تعداد بڑھانا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر آبادی کا چند فیصد حصہ بھی ایک ہی وقت میں بیمار ہوجائے تو اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کے لیے درکار طبی سہولیات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دنیا نے چند برس قبل ایک ایسی صورتحال کا سامنا کیا جب بڑی تعداد میں لوگ بیک وقت بیمار ہوکر اسپتالوں میں پہنچے اور امریکا، یورپ، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت کئی ممالک کے صحت کے نظام شدید دباؤ میں آگئے۔ ان کے مطابق کورونا وبا کو ایک لمحے کے لیے الگ رکھ کر دیکھا جائے تو اس تجربے سے بنیادی سبق یہی ملتا ہے کہ کسی بھی بیماری کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی صورت میں صحت کا نظام غیر معمولی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے صحت کے نظام میں بیماری کے بعد علاج کرنے کے بجائے لوگوں کو بیمار ہونے سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق ویکسینیشن، صاف پانی، بہتر طرز زندگی اور دیگر احتیاطی اقدامات کو مؤثر بناکر بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے، جس سے بڑھتی ہوئی آبادی پر صحت کے نظام کا دباؤ بھی کم ہوگا۔

مزید خبریں

Scroll to Top