ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، کسی دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، صدر مسعود

iranian-president-masood-pezeshkian

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے درمیان واضح کیا ہے کہ ایران کی قوم کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کو مسلسل دھمکایا جا رہا ہے تاکہ ملکی خودمختاری کو کمزور کیا جا سکے، تاہم ایرانی عوام اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم رہیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت دو بڑی طاقتوں کے غیر منصفانہ دباؤ کا بہادری سے مقابلہ کر رہا ہے۔ اگر دشمن نے مزید اشتعال انگیزی کی تو ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے جوابی کارروائی کا حق موجود ہے اور وہ کسی صورت خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

اسرائیل پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسکولوں، اسپتالوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے اخلاقیات کی باتیں نہ کریں۔ ایک ہی حملے میں 168 بچوں کو شہید کرنے والے خود دہشت گردی کے مرتکب ہیں اور انہیں اس انسانی قتل عام کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دشمن میں ہمت ہے تو وہ فوج سے براہ راست نبرد آزما کیوں نہیں ہوتا؟ اسکولوں اور عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ ایرانی عوام اپنی زمین کا تحفظ جانتے ہیں۔

صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ دورے کے دوران عالمی فورم پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ ڈالنے والے عناصر کو جلد اندازہ ہو جائے گا کہ تہران اپنے دفاع میں کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ایران اب مزید دباؤ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top