تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران مخالف قرارداد کی حمایت کرنے پر خبردار کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان ممالک کا یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ خلیجی ممالک کے مابین مسائل کا حل صرف باہمی مذاکرات میں چھپا ہے۔ انہوں نے بیرونی مداخلت کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ روابط ہی ترقی کی واحد ضمانت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں جہاں امن اور جنگ کی لکیر دھندلا چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سمندری پابندیاں اور کسی بھی قسم کی ناکابندی دراصل جنگی اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک ایران کے خلاف عالمی سطح پر سازشوں یا قراردادوں کا حصہ بن رہے ہیں، انہیں اس پالیسی کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور ہم اپنی سمندری حدود کی حفاظت بخوبی جانتے ہیں۔ عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار انہوں نے براہ راست امریکا کی پالیسیوں کو ٹھہرایا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران کے تحمل کی گنجائش دن بہ دن کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ ایران مخالف اقدامات خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس کا نقصان کسی بھی ملک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک بیرونی دباؤ کے بجائے دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔ ایران اپنی خودمختاری پر کسی بھی صورت سمجھوتا نہیں کرے گا اور اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔















