تہران: ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد واحدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا کی فوجی حمایت اسرائیل کو حاصل نہ ہو تو اسرائیلی فوج زیادہ دیر تک میدان میں قائم نہیں رہ سکتی اور بہت کم وقت میں شدید نقصان سے دوچار ہوجائے گی۔
ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد واحدی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ایران کی فوجی صلاحیتوں اور جاری جنگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران احمد واحدی نے کہا کہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کم سمجھا اور اس کی دفاعی طاقت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ان کے بقول موجودہ حالات نے واضح کردیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنا مخالف فریق کی غلطی تھی۔
ایرانی کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کی موجودہ طاقت بڑی حد تک امریکی حمایت سے وابستہ ہے اور واشنگٹن کی مدد ختم ہونے کی صورت میں اسرائیلی فوج تیزی سے کمزور پڑ جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف جنگ کے جواز میں نائن الیون کے واقعے کا حوالہ دیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے نائن الیون کا حوالہ دینا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون حملوں میں ملوث افراد ایرانی شہری نہیں تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نائن الیون کے واقعات میں ملوث عناصر کو امریکی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے اس مؤقف کے ذریعے ایران کو نائن الیون سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس واقعے کو ایران کے خلاف جنگ کا جواز بنانا حقائق کے منافی ہے۔















