پشاور: گن پوائنٹ پر گینگ ریپ میں ملوث 4 درندہ صفت ملزمان ہلاک

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کرنے والے 4 ملزمان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق پشاور پولیس نے کہا کہ زیرحراست ملزمان کو نشاندہی کیلیے لے جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی، پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کرنے والے 4 ملزمان ہلاک ہوگئے۔پشاور کے رنگ روڈ پر مسلح افراد نے گھر میں گھس کر خواتین کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعہ رنگ روڈ، رحمان بابا تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ مبینہ زیادتی کے بعد ملزمان خواتین کے موبائل فونز بھی ساتھ لے گئے تھے۔ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق خواتین سے زیادتی کے کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ افسوسناک واقعہ بچی کی موجودگی میں پیش آیا۔ کیس میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق واقعہ گینگ ریپ کا ہے۔ دونوں خواتین کے شوہر کو باندھ کر مبینہ زیادتی کی گئی۔ خواتین پیدل چل کر تھانے آئیں۔پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے کہا کہ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہ تھانہ رحمان بابا کی حدود میں ہی واقع ہے۔ڈاکٹر محمد سمیع کے مطابق چاروں ملزمان کو گینگ ریپ کے واقعے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور جمعرات کے روز انھیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے اْن کا ایک روز کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔اْنھوں نے مزید بتایا کہ عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملزمان کا میڈیکل معائنہ کیا گیا اور یہ کارروائی رات کے وقت مکمل ہوئی جس کے بعد ملزمان کو اْس مقام پر لے جایا جا رہا تھا جہاں خواتین کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اسی موقع پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی جس سے چاروں ملزمان ہلاک ہو گئے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے، یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کے ساتھی تھے یا مخالف اور دشمن، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ایس ایس پی آپریشن پشاور فرحان خان نے دعویٰ کیا کہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران پشاور پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے یہ واردات منصوبہ بندی کے تحت کی تھی۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ 6 ستمبر کو تھانہ رحمان بابا کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب چار مسلح افراد رات کے دو بجے دیوار پھلانگ کر کرائے دار کے مکان میں داخل ہوئے۔ ان میں مالک مکان بھی شامل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کرائے دار اس ظلم پر خاموشی اختیار کر جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں کرائے دار اپنی دو بیویوں، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں خواتین کی عمریں بالترتیب 22 اور 27 سال بتائی گئی ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top