کراچی(کامرس رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد خان نے کہا ہے کہ کراچی کے امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنا ہماری ترجیح ہے، ایڈمنسٹریٹشن اور پولیس کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے اورہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم بلڈرز کے مسائل ملکر حل کریں، آباد کی جانب سے سب سے زیادہ بھتوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں،سب سے زیادہ مشکل جدید ایپلیکیشن کے ذریعے موصول ہونے والی کالز کی لوکیشن کی جانچ کرنا تھا،ہماری ٹیم ہر شکایات پر بھرپور انداز میں کام کرتی ہے۔،آباد کی شکایت پر بھتہ خوروں کے ریڈ وارنٹ جاری ہوئے،40 سے زائد بھتہ خوری میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو آباد ہاؤس میں تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر کمشنر کراچی حسن نقوی،چیئرمین آبادمحمدحسن بخشی،سابق چیئرمین آباد محسن شیخانی اور حنیف گوہر نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں امن و امان اور تعمیراتی شعبے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا کہ بلڈرزکا اگر کہیں کام نہیں چل رہاتو اس کا مطلب اکانومی کا پہیہ بند ہے،بلڈرز کو کئی مشکل چیلنجرز کا سامنا رہتا ہے،کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے،ہمیں اندازہ ہے کنسٹرکشن کے شعبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں،ماضی میں بھتوں کے کیسز زیادہ تھے جن میں کمی آئی،قبضوں کی شکایتوں کو بھی کم کیا،میں یقین دلاتا ہوں کراچی میں مزید جرائم کی وارداتوں میں کمی آئے گی، 85فیصد بھتوں کے کیسز کی شرح ہے جسے کم کریں گے اورہم امن و امان یقینی بنانے کیلئے مؤثر حکمت عملی بنارہے ہیں۔ کمشنر کراچی حسن نقوی نے کہا کہ زمینوں کے معاملے پرایوب خان کے دور میں قانون بنا تھا،15 سال قبل زمینوں کی الوکیش پر پابندی لگائی تھی،الوکیشن کے معاملے پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی،لینڈ ٹرانسفر کے معاملے کو سنجیدہ لینا چاہیے،ریونیو کے ادارے اور افسران کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں،پنجاب نے آٹومیشن کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے،مگر آٹومیشن کا پروجیکٹ سندھ میں نامکمل ہونے کے برابر ہے،مختیار کار،ٹپے دار کا سسٹم اب ٹھپ ہوچکا ہے اس سسٹم کو اپگریڈ کرنا ہوگا،اگر مختیار کار یہ دیگر افسران کی اپگریڈیشن ہوگی تو حالات مختلف ہوں گے۔کمشنر کراچی نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ زمین ہے،سمندر کے بعد کراچی میں سب سے بڑا ریسورس بھی زمین ہے،زمین کے استعمال کا مسئلہ قیام پاکستان سے درپیش ہے،زمین کے غلط استعمال میں حکومتی محکموں کے ساتھ نجی شعبہ بھی برابر کا شریک ہے کراچی کا ماسٹر پلان 50 کی دہائی میں بنایا گیا،زمین کے استعمال کے لیے الگ الگ طرح کے استعمال وضع ہوتے ہیں،بہترین استعمال بلڈرز اور کاروباری طبقہ ہی تلاش کرسکتا ہے،بلڈرز اپنے فائدے کے وقت موثر آواز بلند نہیں کرتے،عدالت نے زمین کی منتقلی پر پابندی عائد کی بلڈرز نے اس پر قانونی اعتراض نہیں اٹھایا،مجبورا بیک ڈور سے زمین منتقل کرنا پڑتی ہے،زمین کی منتقلی کے عمل کو آسان بنانے سے بلڈرز کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں زمین کے ریکارڈ کی آٹو میشن ساتھ شروع کی،سندھ میں زمین کی اٹومیشن میں بہت خامیاں ہیں دوبارہ کرنا ہوگا،ریونیو کا سسٹم فرسودہ ہے ،زمین کی رجسٹریشن کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔ چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ آباد ممبران چاہتے ہیں ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں،لوئر پولیس کلچر کا نظام چیلنجنگ ہے،ہم سب نے کوآرڈینیشن کے ذریعے اس مشکل سے نکلنا ہوگا،کمپلینٹ وریفیکشن کمیٹی بلاول زرداری صاحب کی ہدایت پر بنی،اس کمیٹی کے اجلاس 25 سے 26 منعقد ہوئے ہیں کمیٹی کے سربراہان بہترین انداز میں کام کررہے ہیں،اس کمیٹی کے ذریعے بلڈر کے حالات و کاروبار کو تحفظ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ کرنے والوں کے تعلق ہم سے زیادہ ہیں،ہم اداروں کے ساتھ ملکر اپنی طاقت کو بڑھانا چاہتے ہیں،آباد صحیح بات کرنے والی تنظیم ہے،بہت سارے لوگ جیوڈیشری کے مسائل کا سامنا بھی کررہے ہیں۔ محمد حسن بخشی نے کہا کہ ملک میں 14 ملین مکانات کی کمی ہے،تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے ملک میں امن و امان کی صورتحال یقینی بنانا ہوگی،پبلک سیل پروجیکٹ کیلئے 1 ہزار 33 بلڈنگ کے اپروول ہوئے،سی ایم کی رپورٹ کہتی ہے 90ہزار بلڈنگ بنائی گئیں،بتایا جائے یہ80 ہزار بلڈنگ کیسے بنائی گئی ان کے اپروول کیسے ہوئے،ان بلڈنگ میں نہ کوئی معیاری سریہ استعمال ہوتا ہے نہ ایکسپرٹ کی مدد لی جاتی ہے۔ سابق چیئرمین اورسرپرست اعلیٰ آباد محسن شیخانی نے کہا کہ آباد کے ممبران جو کام کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے بے شمار مسائل ہیں،ممبران کی زمینوں پر فائرنگ کے واقعات رونماء ہوتے ہیں،10 لاکھ بچے یہ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں،نوجوان چاہتے ہیں بیرونی ممالک میں اپنا مستقبل بنائیں،اس ملک میں ہر نعمت اور ہر شے موجود ہے پھر بھی ہم 10 سال پیچھے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم سب فرشتے ہیں،ہم جہاں کنسٹرکشن کرتے ہیں سب سے پہلے وہاں پولیس موبائل آجاتی ہیں،جب تک زمینوں کے ریکارڑ ڈیجیٹلائز نہیں ہوگا، مسئلے پیدا ہوتے رہیں گے،اداروں میں ہیومن ٹو ہیومن رابطہ ختم ہونا چاہیے،کراچی میں بلڈرز کی زندگیوں کو خطرہ ہے،ہم پولیس حکام کے ساتھ جہاں تک تعاون کرسکتے ہیں کریں گے۔ سابق چیئرمین آباد حنیف گوہر نے کہا کہ جہاں پولیس اور دیگر حکام پر تنقید کی جائے وہاں بہتر کارکردگی کو سراہنا چاہیے،زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کا نام ہی سسٹم ہے،جب سے حکومت سے نے دخل اندازی ہوئی کمیٹیوں کا قیام ہوا حالات بہتر ہوئے،زمینوں کے مسائل کی وجہ گورنمنٹ لینڈز کے باعث ہے،ان زمینوں کی قانونی طور پر نیلامی یقینی بنائی جائے،گورنمنٹ لینڈز کی نیلامی سے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے،زمینوں پر تعمیرات ہوں گی تو ریوینیو میں بھی اضافہ ہوگا،زمینوں کی دو نمبری جعالی دستاویزات بنانے کا سلسلہ بھی ختم ہوگا۔















